Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ظہور بلیدی بی اے پی کے پارلیمانی لیڈر نامزد

بلوچستان اسمبلی میں وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پیش کرنے کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے ناراض اراکین نے ظہور احمد بلیدی کو پارٹی کا پارلیمانی لیڈر نامزد کردیاہے۔
بلوچستان عوامی پارٹی کے بلوچستان اسمبلی میں کل 24 ارکان ہیں۔ 2018 کے عام انتخابات کے بعد بی اے پی نے جام کمال خان کو پارلیمانی لیڈر نامزد کیا تھا۔
بدھ کی رات کو 12 اراکین نے نئے پارلیمانی لیڈر تبدیل کرانے سے متعلق سپیکر عبدالقدوس بزنجو کو درخواست دے دی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس درخواست پر چار ارکان اکبر آسکانی، لیلیٰ ترین، ماہ جبین شیران اور بشریٰ رند کے دستخط بھی ہیں جنہیں ناراض گروپ اور اپوزیشن ارکان نے لاپتا قرار دیا ہے۔
اپوزیشن ارکان اور جام مخالف ارکان نے لاپتا افراد کی بازیابی تک اسمبلی کے احاطے میں دھرنا دینے اور 25 اکتوبر تک اسمبلی میں ہی موجود رہنے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے حکومت پر چاروں لاپتا ارکان کو حراست میں رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے آئی جی پولیس کے نام تحریری درخواست لکھ دی ہے۔
درخواست میں الزام لگایا گیاہے کہ وزیراعلٰی نے چاروں ارکان کو گرفتار کرکے حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے اس لیے انہیں بازیاب کرا کر ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔
میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں سردار عبدالرحمان کھیتران کا کہنا ہے کہ ’وزیراعلٰی کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کرایا جائے گا۔‘
ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ ’لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے عدالت سے بھی رجوع کیا جائے گا۔‘
بلوچستان اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے بعد سردار عبدالرحمان کھیتران نے الزام لگایا تھا کہ ہماری جماعت کے پانچ ارکان لاپتا ہیں۔

جام کمال نے ارکان اسمبلی کو اغوا کرنے کے الزامات کی سختی سے تردید کی (فائل فوٹو: جام کمال ٹوئٹر)

 ’انہیں حراست میں رکھا گیا ہے تاہم ان کی تقریر کے کچھ دیر بعد ہی لاپتا قرار دیے گئے ارکان میں سے ایک لالہ رشید اسمبلی پہنچ گئے۔‘
لالہ رشید کا کہنا تھا کہ ’وہ لاپتا نہیں بلکہ بیمار تھے اور دم کرانے گئے تھے۔‘
اسمبلی اجلاس سے غیر حاضر ایک اور رکن بشریٰ رند نے بھی ٹوئٹر پر پیغام لکھا کہ ’ان کی طبیعت ٹھیک نہیں اور وہ علاج کے لیے اسلام آباد میں موجود ہیں۔‘
دوسری جانب وزیراعلٰی جام کمال خان نے مخالفین کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جن ارکان کو لاپتا قرار دیا جارہا ہے ان کے لواحقین میں سے کیوں کوئی سامنے نہیں آرہا؟‘
’لواحقین سامنے آکر پولیس کے پاس جاکر مقدمہ درج کرائیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’بہت سے اراکین نے صرف عدم اعتماد پیش کرنے تک ناراض گروپ کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ اراکین ووٹنگ میں مخالفین کا ساتھ نہیں دیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’تحریک عدم اعتماد پر کئی ارکان کے دستخط جعلی بھی ہوسکتے ہیں ان کا فرانزک کرایا جانا چاہیے۔‘

شیئر: