Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا: قتل کا مفرور ملزم نام بدل کر 27 برس تک ’ڈاکٹر‘ بنا رہا، گرفتار

پولیس کے مطابق ملزم 1999 میں عدالت لے جاتے ہوئے ہتھکڑی سمیت فرار ہو گیا تھا (فوٹو: نیو انڈین ایکسپریس)
انڈیا میں قتل کے ایک ایسے مفرور ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے جو نام بدل کر 27 برس تک دوسرے شہر میں ڈاکٹر کے طور پر رہ رہا تھا۔
نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق یہ گرفتاری مدھیہ پردیس کے ایک دور افتادہ علاقے سے کی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 1998 میں راجندر سنگھ یادو نے ایک پولیس اہلکار کو قتل کیا تھا، جس کے بعد اسے گرفتار کیا گیا، تاہم اگلے سال سماعت کے لیے لے جاتے ہوئے وہ ہتھکڑی سمیت فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
اس کے بعد اس کا کوئی پتہ نہیں چلا تھا، اس دوران وہ مدھیہ پردیش کے ایک دور افتادہ علاقے میں نہ صرف منتقل ہوا بلکہ نام بھی تبدیل کر لیا۔
اس نے خود کو وہاں ایک ڈاکٹر کے طور پر متعارف کرایا اور کلینک کھول کر لوگوں کا علاج بھی شروع کیا۔
کچھ عرصہ بعد اس نے اسی علاقے میں شادی بھی کر لی اور اس کے دو بچے بھی ہیں۔
اسی طرح بعدازاں وہ پراپرٹی کے کام بھی وابستہ ہوا اور مالی حالت بھی کافی بہتر کر لی۔
تاہم راجندر کا راز قریباً 27 برس تک راز ہی رہا، پھر کسی طور پولیس کو اس کی بھنک پڑ گئ۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کافی روز تک ملزم کی نگرانی کی گئی اور اچھی طرح تسلی کی گئی یہ وہی شخص ہے، اس کے بعد چھاپہ مار کر گرفتار کیا گیا۔

راجندر سنگھ یادو نے 1998 میں ایک پولیس اہلکار کو قتل کیا تھا (فوٹو: این ڈی ٹی وی)

پولیس کے مطابق 53 سالہ مدھیہ پردیش کے علاقے اشوک نگر میں ’ڈاکٹر جھٹکا‘ کے نام سے مشہور تھا۔
پولیس کی جانب سے واقعے کی تفصیل کچھ یوں بتائی گئی ہے کہ 1998 میں سیان کھیرا گاؤں میں شادی کی ایک تقریب کے دوران اس کا دلہن کے رشتہ داروں کے ساتھ جھگڑا ہو گیا تھا جس میں اس نے فائرنگ کر دی تھی اور دلہن کا ایک رشتہ دار ہلاک ہو گیا تھا جو کہ پولیس افسر تھا۔
مرنے والا شخص جے بھگوان پولیس افسر تھا جبکہ فائرنگ سے ایک اور شخص بھی زخمی ہوا تھا۔
راجندر کو موقع سے ہی گرفتار کر لیا گیا اور کچھ عرصہ مقدمہ چلتا رہا تاہم 14 فروری 1999 کو وہ اس وقت ہتھکڑی سمیت فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا جب اس کو پیشی کے لیے پولیس کی گاڑی میں عدالت لے جایا جا رہا تھا۔

شیئر: