Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پنجاب: گندم کی سرکاری قیمت 3800 روپے مقرر ہونے کے باوجود مہنگی فروخت کیوں؟

کسانوں سے براہِ راست گندم نہ خریدنے کے فیصلے پر حکومت گزشتہ دو برسوں سے تنقید کی زد میں رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے صوبے میں گندم کے ریٹ میں غیر معمولی اضافے کے خدشات کے پیشِ نظر گندم کا سرکاری ریٹ 38 سو روپے من مقرر کر دیا ہے۔
کابینہ کی سرکولیشن سمری سے لی گئی منظوری کے بعد محکمۂ فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن نے باقاعدہ نوٹیفیکیشن بدھ کی رات جاری کیا۔ تاہم اس وقت مارکیٹ میں گندم کا ریٹ 47 سو روپے فی من سے زیادہ ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے روٹی کی قیمت بھی بڑھ رہی ہے۔
تاہم دلچسپ بات یہ ہےکہ چند ماہ قبل گندم کے سیزن میں کسانوں نے مارکیٹ ریٹ کے مطابق یہی گندم 31 سے 33 سو روپے فی من کے حساب سے فروخت کی تھی۔ کسانوں سے براہِ راست گندم نہ خریدنے کے فیصلے پر حکومت گزشتہ دو برسوں سے تنقید کی زد میں رہی ہے۔
کسان کیسے متاثر ہو رہے ہیں؟
محمد عطااللہ شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والے ایک چھوٹے زمیندار ہیں۔ انہوں نے رواں سال اپنی گندم کی فصل 33 سو روپے فی من میں فروخت کی۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’گزشتہ دو برسوں میں ہم کئی سال پیچھے چلے گئے ہیں۔ پہلے حکومت امدادی قیمت متعین کر دیتی تھی جس سے مارکیٹ میں کم و بیش وہی ریٹ ہوتا تھا۔ اس بار فی من ریٹ پانچ ہزار روپے ہونا چاہیے تھا لیکن سیزن میں یہ تین ہزار روپے سے شروع ہوا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’مڈل مین نے کسانوں سے اونے پونے داموں گندم خریدی اور اب اُسی گندم کا ریٹ تین سے چار مہینوں میں پانچ ہزار روپے کو پہنچ چکا ہے۔ اس وقت صرف آڑھتیوں اور ذخیرہ اندوزوں کے پاس گندم ہے اور کسانوں کو تو دوسرا سیزن اپنی جیب سے پڑا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’حکومت اب اس ریٹ کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔ ہمیں تو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ پہلے جو قیمت مقرر کرنے کا نظام تھا تو اس میں خرابی ہی کیا تھی؟ حکومت اب پھر مارکیٹ سے مہنگے داموں وہی گندم خرید رہی ہے جو کسانوں سے کم قیمت پر خریدی گئی تھی۔‘
محمد جمشید کے خیالات بھی کچھ اسی قسم کے ہیں اور اُن کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔ وہ بھی ایک چھوٹے کسان ہیں اور حکومت کی گندم خریداری پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’گندم کی قیمتِ خرید اور فروخت میں بہت زیادہ فرق ہے۔ کسان سے خریدی گئی قیمت سے دوگنا قیمت پر اب مڈل مین گندم فروخت کر رہا ہے اور حکومت اس کی خریدار ہے۔ سب کو پتا تھا کہ گندم  کی قیمت بڑھ جائے گی لیکن جعلی طریقے سے کم ریٹ رکھے گئے کیونکہ عام کسان کی تو یہ استطاعت ہی نہیں کہ وہ ایک دن بھی گندم ذخیرہ کر سکے کیونکہ اس کی چھ مہینے کی آمدن کا دارومدار اسی ایک فصل پر ہوتا ہے۔‘
حکومت کیا کہتی ہے؟
پنجاب میں فوڈ سیفٹی کے ادارے کی سربراہ سلمیٰ بٹ کہتی ہیں کہ ’صوبے میں اِس وقت گندم کا کوئی بحران نہیں ہے۔ حکومت نے صرف اُس گندم کا سرکاری ریٹ مقرر کیا ہے جو حکومت پہلے سے طے شدہ ملوں کو خود حکومت فروخت کر رہی ہے تاکہ آٹے کا ریٹ 22 سو روپے سے اوپر نہ جائے۔ حکومت اس پر بھی سبسڈی دے رہی ہے۔‘

گندم کے نرخوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے روٹی کی قیمت بھی بڑھ رہی ہے (فوٹو: ڈیلی ڈان)

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمارا ایک ہی مقصد ہے کہ شہری مراکز میں روٹی کی قیمت نہ بڑھے کیونکہ دیہی علاقوں میں لوگ کھانے کی گندم گھر پر رکھتے ہیں اس لیے مارکیٹ کی قیمت ان پر اس طرح سے اثر انداز نہیں ہوتی۔ تاہم شہری علاقوں میں صورتِ حال مختلف ہوتی ہے۔‘
گندم کے ریٹ پر ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ کسانوں سے براہِ راست گندم نہیں خریدی جائے گی، یہ ایک درست فیصلہ تھا لیکن پالیسی چونکہ اب تبدیل ہو رہی ہے تو اس کے ثمرات اگلے ایک دو سال میں ہی بہتر طور پر سامنے آئیں گے۔ پوری دنیا میں ایسا ہی ہو رہا ہے۔ حکومتیں مارکیٹ کو کنٹرول نہیں کرتیں۔ اس وقت ہمارے پاس پانچ لاکھ ٹن گندم ہے اور ہم تین لاکھ ٹن وفاق سے لے رہے ہیں۔ ہم اس گندم پر سبسڈی دے کر آٹے کی قیمت نیچے رکھیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کا پہلا فوکس یہ ہےکہ روٹی کی قیمت نہ بڑھے۔ وہ لوگ جنہوں نے اب بھی اس لیے گندم سٹاک کی ہوئی ہے کہ اس کی قیمت اور بڑھے گی تو یہ اُن کی غلط فہمی ہے۔ اگلے چند دن میں وفاقی حکومت گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کرنے جا رہی ہے جس سے خود بخود مارکیٹ نیچے آ جائے گی یا قیمتوں میں مزید اضافہ نہیں ہوگا۔‘
اُن سے جب یہ سوال کیا گیا کہ گندم درآمد کرنے کی ضروت کیوں پڑ گئی ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ’پنجاب میں سرپلس گندم ہوئی ہے جو دو کروڑ 20 لاکھ ٹن کے قریب ہے۔ تاہم دیگر صوبوں میں گندم ان کی ضروریات سے کم پیدا ہوتی ہے اس لیے اس ڈیمانڈ کو پورا کرنے کے لیے حکومت گندم درآمد کر رہی ہے۔‘

پنجاب میں فوڈ سیفٹی کے ادارے کی سربراہ سلمیٰ بٹ کہتی ہیں کہ ’صوبے میں اِس وقت گندم کا کوئی بحران نہیں ہے (فوٹو: اے پی پی)

سلمیٰ بٹ نے کہا کہ ’رواں سال پورے ملک میں جو گندم پیدا ہوئی ہے وہ 28 ملین ٹین تھی جبکہ ضرورت تین کروڑ 20 سے 30 لاکھ ٹن ہے تو جیسے ہی باہر سے گندم آئے گی تو یہاں بھی قیمتیں مستحکم ہو جائیں گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک یہ سوال ہے کہ سیزن میں ریٹ کم تھا اور اب زیادہ تو ہر مارکیٹ میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ سٹوریج اور دیکھ بھال پر خرچہ آتا ہی آتا ہے اور گندم کا ریٹ ہمیشہ بڑھتا ہے۔ اس سال ہم توقع کر رہے تھے کہ ریٹ ستمبر میں بڑھے گا لیکن یہ اگست میں ہی بڑھ گیا۔‘

شیئر: