’آئی ایس آئی سے متعلق بیان انڈین وائرس کا اثر ہے‘، حسینہ واجد کے بیٹے کے الزام پر پاکستان کا ردعمل
’آئی ایس آئی سے متعلق بیان انڈین وائرس کا اثر ہے‘، حسینہ واجد کے بیٹے کے الزام پر پاکستان کا ردعمل
جمعرات 6 اگست 2026 12:03
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے بیٹے اور سابق مشیر سجیب واجد جوئے کے اس الزام کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے بنگلہ دیش کے اندرونی معاملات میں پاکستانی خفیہ ادارے ’آئی ایس آئی‘ کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کو سجیب واجد کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان بنگلہ دیش میں آئی ایس آئی کے کردار سے متعلق کسی بھی قسم کے اشارے یا الزام کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔‘
ترجمان نے انڈین اثر و رسوخ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’انڈیا آئی ایس آئی کے معاملے میں حد سے زیادہ غیر محفوظ (پیرا نائڈ) ہے اور چونکہ یہ موصوف (حسینہ واجد کے بیٹے) خود بھی انڈیا میں مقیم ہیں، اس لیے لگتا ہے کہ یہ وائرس اب ان تک بھی پہنچ چکا ہے۔‘
سجیب واجد نے کیا کہا تھا؟
اس سے قبل سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے بیٹے سجیب واجد جوئے نے نئی دہلی میں فارن کارسپانڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا کے زیراہتمام ایک ایونٹ میں امریکہ سے آن لائن گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ بنگلہ دیش کی موجودہ عبوری حکومت کے تحت آئی ایس آئی کو ملک میں ’کھلی چھوٹ‘ مل چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوامی لیگ کی سابقہ حکومت کے دور میں گرفتار اور سزا یافتہ ’سینکڑوں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں‘ کو جیلوں سے رہا کر دیا گیا ہے جو اب کھلے عام ریلیاں نکال رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ’اگر اس صورتِ حال کو نہ روکا گیا تو عالمی سطح پر دہشت گردوں کا اگلا سکیورٹی خطرہ بنگلہ دیش سے ابھر سکتا ہے۔‘
سجیب واجد نے انڈیا کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا کی مشرقی سرحد پر اب ایک اور پاکستان بن چکا ہے‘ اور ان کا ماننا تھا کہ یہ صورتِ حال انڈیا اور خطے کی سکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
حسینہ واجد کے بیٹے سجیب واجد جوائے میری لینڈ، امریکہ میں مقیم ہیں (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
واضح رہے کہ شیخ حسینہ واجد اگست 2024 میں شدید عوامی احتجاج اور پرتشدد مظاہروں کے بعد حکومت سے مستعفی ہو کر انڈیا منتقل ہو گئی تھیں، جہاں وہ تب سے مقیم ہیں۔
شیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد بنگلہ دیش میں نوبل انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت قائم ہوئی جس کے بعد سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دہائیوں سے چلی آرہی سیاسی و سفارتی کشیدگی میں کمی دیکھی گئی ہے۔
طویل عرصے کے تعطل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور تجارتی تعلقات میں بہتری کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے جس کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان براہِ راست سمندری تجارت کی بحالی اور اعلیٰ سطح کے رابطے قائم ہوئے ہیں۔