اسلام آباد میں چیک پوسٹس پر پنجاب پولیس کے اہلکار کیوں تعینات کیے گئے؟
اسلام آباد میں چیک پوسٹس پر پنجاب پولیس کے اہلکار کیوں تعینات کیے گئے؟
جمعہ 7 اگست 2026 5:40
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنے اور خطے کی کشیدہ صورتِ حال کے باعث اسلام آباد پولیس کی ایک بڑی نفری وہاں تعینات ہے۔
اسلام آباد میں پولیس کی نفری میں پیدا ہونے والی کمی کو پورا کرنے کے لیے پنجاب پولیس اور پنجاب ہائی وے پٹرول کے اہلکاروں کو دارالحکومت میں سکیورٹی کے فرائض سونپ دیے گئے ہیں۔
اسلام آباد پولیس کے ترجمان جواد تقی کے مطابق کشمیر کے مختلف حصوں میں اس وقت 935 اہلکار اور افسران تعینات ہیں، جن میں سینئر افسران بھی شامل ہیں۔
اردو نیوز کو دستیاب معلومات کے مطابق کشمیر بھیجے گئے اس دستے میں ایس ایس پیز، ایس پیز، انسپکٹرز، سب انسپکٹرز اور کانسٹیبلز کی بڑی تعداد شامل ہے، جو اس وقت مظفرآباد اور راولاکوٹ میں تعینات ہے۔
اسلام آباد پولیس کی یہ بھاری نفری رواں سال جون میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کشیدگی کے آغاز پر ہی روانہ کی گئی تھی، جو تاحال وہاں موجود ہے۔
حکام نے اردو نیوز کو بتایا کہ جب تک کشمیر کی صورتِ حال معمول پر نہیں آتی، اسلام آباد پولیس سمیت دیگر سکیورٹی فورسز بھی وہاں تعینات رہیں گی۔
وفاقی دارالحکومت میں پولیس فورس کی اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اس وقت پنجاب پولیس اور پنجاب ہائی وے پٹرول کے اہلکار شہر کے مختلف حساس مقامات پر تعینات ہیں۔
دارالحکومت کے داخلی اور خارجی راستوں سمیت مختلف ناکوں پر بھی پنجاب پولیس کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
دارالحکومت کے داخلی اور خارجی راستوں سمیت مختلف ناکوں پر بھی انہی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے، اور ان کی یہ ڈیوٹی غیر معینہ مدت کے لیے بڑھا دی گئی ہے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں دیگر صوبوں کے سکیورٹی اہلکار کس طرح فرائض سرانجام دیتے ہیں، اور کیا اس متبادل انتظام سے شہر کے نظم و نسق پر کوئی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟
پولیس حکام کا موقف ہے کہ یہ ایک معمول کا اقدام ہے۔ اسلام آباد میں امن و امان کی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے پہلے بھی دیگر صوبوں کی پولیس طلب کی جاتی رہی ہے، اور اس بار بھی اسی طریقۂ کار پر عمل کیا گیا ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد پولیس کے ریٹائرڈ ایس پی سید فرحت عباس کاظمی نے اس صورتِ حال کو ’ہیومن ریسورس کی بدانتظامی‘ قرار دیا ہے۔
اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اسلام آباد پولیس کو کشمیر روانہ کر کے پنجاب پولیس کو اسلام آباد طلب کر لیا جائے۔ اگر وہاں نفری کی ضرورت تھی تو پنجاب پولیس کو ہی براہِ راست کشمیر کیوں نہیں بھیجا گیا؟‘
اسلام آباد پولیس کے ترجمان جواد تقی کے مطابق کشمیر کے مختلف حصوں میں اس وقت 935 اہلکار اور افسران تعینات ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
سابق ایس پی کے مطابق اس تمام سکیورٹی انتظام کی بنیادی ذمہ داری آئی جی آفس اسلام آباد کے اے آئی جی آپریشنز پر عائد ہوتی ہے، جنہوں نے آئی جی پولیس کی مشاورت سے یہ انتظامی امور طے کرنے ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس انتظام سے دارالحکومت میں امن و امان کی صورتِ حال متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ جو فرائض مقامی پولیس مؤثر انداز میں انجام دیتی ہے، دوسرے صوبوں کے اہلکار مقامی جغرافیے اور پولیسنگ سے مکمل طور پر واقف نہیں ہوتے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ناکوں پر مامور پنجاب پولیس اور پنجاب ہائی وے پٹرول کے اہلکاروں کو اصولی طور پر اسلام آباد پولیس کے مقامی اہلکاروں کی موجودگی کے بغیر اکیلے ڈیوٹی پر تعینات نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ کسی بھی شہر کی پولیس وہاں کی مقامی صورتِ حال اور شہریوں کے ساتھ برتاؤ کے طریقۂ کار کو بہتر طور پر سمجھتی ہے، جبکہ دوسرے صوبوں کی فورسز ان تمام مقامی حالات سے پوری طرح واقف نہیں ہوتیں۔