Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان کابینہ کے پانچ ’ناراض‘ ارکان مستعفی

ناراض صوبائی وزیر اسد بلوچ کا کہنا تھا کہ 38 سے40 ارکان کی حمایت مل جائے گی۔ فائل فوٹو: اے پی پی
بلوچستان میں حکمران اتحاد کے آپس میں اختلافات کے باعث سیاسی ڈیڈلاک برقرار ہے اور ناراض گروپ نے 24 گھنٹے کا الٹی میٹم ختم ہونے کے بعد اگلا قدم کابینہ سے استعفے کی صورت میں اٹھایا ہے۔ اس گروپ میں کابینہ کے پانچ ارکان اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔
14حکومتی اراکین پر مشتمل گروپ وزیراعلیٰ جام کمال کے استعفے کے مطالبے پر ڈٹا ہوا ہے جبکہ جام کمال نے وزارت اعلیٰ سے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
جام کمال کے مخالف اراکین نے منگل کو وزیراعلیٰ کو عہدے سے مستعفی ہونے کے لیے 24گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا۔ بدھ کی شام پانچ بجے تک یہ مہلت ختم ہوگئی مگر جام کمال مستعفی نہ ہوئے۔ انہوں نے بدھ کی دوپہر کو صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی اور معمول کی سرگرمیاں بھی جاری رکھیں۔
بدھ کی رات کو وزیر خزانہ ظہور احمد بلیدی، وزیر خوراک عبدالرحمان کھیتران، وزیر سماجی بہبود اسد بلوچ ،وزیراعلیٰ کے مشیر برائے محنت و افرادی قوت محمد خان لہڑی، مشیر برائے ماہی گیری حاجی اکبرآسکانی، پارلیمانی سیکریٹری اطلاعات بشری رند اور پارلیمانی سیکریٹری معدنیات سکندر عمرانی نے اپنے عہدوں سے استعفی دے دیا۔ 
انہوں نے گورنر ہاؤس جا کر گورنر بلوچستان ظہور احمد آغا کو اپنے استعفے پیش کیے۔ ظہور بلیدی نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ ’40 حکومتی ممبران میں سے پندرہ اراکین  اسمبلی، وزراء اور مشیروں کی جانب سے بیڈ گورننس کی بنیاد پر حکومت سے راہیں الگ کرنے کے بعد جام کمال کی حکومت آئینی جواز کھو چکی ہے۔‘
کابینہ کے17ارکان میں سے11نے اجلاس میں شرکت کی جن میں بلوچستان عوامی پارٹی کے پانچ ، حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی اور تحریک انصاف کے دو دو ، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی سے تعلق رکھنے والا ایک ایک رکن شامل تھا۔
دوسری طرف وزیراعلیٰ جام کمال خان ڈٹے ہوئے ہیں۔ مختلف نیوز چینلز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ عہدے سے استعفی نہیں دیں گے کیونکہ حکومتی اتحاد کے اراکین کی اکثریت ان کے ساتھ ہیں۔
وزیراعلیٰ جام کمال کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں صرف بی اے پی نہیں چار پانچ جماعتوں کی اتحادی حکومت ہے، انہیں اتفاق رائے سے وزیراعلیٰ بنایا گیا ۔ پہلے دن سے بلوچستان عوامی پارٹی کے چار پانچ لوگ اس بات سے ناراض تھے کہ وزیراعلیٰ انہیں کیوں نہیں بنایا گیا وہی چار پانچ لوگ آج بھی نالاں ہیں، اب مزید چھ سات لوگ اس گروپ میں گئے ہیں ۔
وزیراعلیٰ کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ 'ناراض رفقا کے ساتھ 14جبکہ وزیراعلیٰ کے ساتھ 27 اراکین ہیں جو اکثریت بنتی ہے ، جمہوریت میں اقلیت اکثریت کی تابع ہوتی ہے لہٰذا دوستوں سے گزارش ہے کہ اکثریت کا ساتھ دیں، تحفظات دور کریں گے اور دوستوں کو منانے کی کوشش جاری رہے گی۔ '

وزیراعلیٰ بلوچستان ناراض ارکان کی جانب سے مستعفی ہونے کے مطالبے پر غور کے لیے تیار نہیں۔ فوٹو: سکرین گریب

کابینہ کے اجلاس کے بعد صوبائی وزرا عبدالخالق ہزارہ، گہرام بگٹی، مٹھا خان کاکڑا ور سینیٹر دھنیش کمار پر مشتمل حکومتی وفد ناراض اراکین سے مذاکرات کے لیے بلوچستان اسمبلی پہنچا جہاں انہوں نے بی این پی عوامی اور پی ٹی آئی کے ناراض اراکین اسد بلوچ اور نصیب اللہ مری سے ملاقات کی تاہم بلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض اراکین حکومتی وفد سے ملاقات کیے بغیر ہی چلے گئے۔
حکومتی وفد کے ارکان عبدالخالق ہزارہ اور گہرام بگٹی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی اتحاد میں چالیس ارکان شامل ہیں۔ ہم نے ناراض ارکان سے کہا کہ 40 ارکان میں 14 آپ کے ساتھ ہیں جبکہ 26 ہمارے ساتھ ہیں۔ مائنس ون مسئلے کا حل نہیں، سب مل کر بیٹھیں، اکثریت جو فیصلہ کرے ہمیں قبول ہے۔
حکومتی مذاکراتی وفد سے ملاقات کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ناراض صوبائی وزیر اسد بلوچ کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کے ساتھ بیٹھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ واضح ہے کہ جام کمال کو جانا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ اگر استعفیٰ نہیں دیتے تو پھر اپنا آئینی و قانونی حق استعمال کریں گے اور دو دنوں کے اندر عدم اعتماد کی تحریک لائیں گے۔
اسد بلوچ کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس بھی نمبرز پورے ہیں ہمیں 38 سے40 ارکان کی حمایت مل جائے گی۔ ایک ہفتے میں نئی حکومت آ جائے گی اور پھر مل کر نیا وزیراعلیٰ لے آئیں گے۔
خیال رہے کہ بلوچستان میں موجودہ سیاسی بحران اس وقت پیدا ہوا جب14ستمبر کو متحدہ حزب اختلاف نے وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد جمع کرائی ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومتی اتحاد کے کئی اراکین بھی ان کے ساتھ ہیں اس لیے وہ عدم اعتماد کے ذریعے وزیراعلیٰ کو ہٹانے میں کامیاب ہو جائیں گے تاہم گورنر بلوچستان نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کے لئے اسمبلی اجلاس طلب کرنے کی سمری کو تکنیکی وجوہات کی بنا پر مسترد کر دیا۔
اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک لانے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی اور حکومتی اتحاد میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اور  سپیکر عبدالقدوس بزنجو، سردار صالح بھوتانی، اکبر آسکانی، عبدالرحمان کھیتران اور ظہور بلیدی کی قیادت میں بلوچستان عوامی پارٹی کے11 اراکین، اتحادی جماعت بی این پی عوامی کے دو اور تحریک انصاف کے ایک رکن نے وزیراعلیٰ کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے ان پر استعفے کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ 

ناراض اراکین کا کہنا ہے کہ جام کمال مستعفی نہ ہوئے تو عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے گی۔ فائل فوٹو: اے پی پی

چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی سربراہی میں باپ پارٹی کی مصالحتی کمیٹی اور اسلام آباد سے اہم شخصیات نے کوئٹہ آ کر ناراض ارکان کو منانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہو سکے۔
 بلوچستان اسمبلی کے65 ارکان میں سے 40ارکان حکومتی اتحاد کا حصہ ہے جن میں بی اے پی کے 24، پی ٹی آئی کے سات، اے این پی کے چار، بی این پی عوامی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے دو دو اور جمہوری وطن پارٹی کا ایک رکن شامل ہے۔ 
جبکہ جمعیت علمائے اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور آزاد رکن نواب اسلم رئیسانی پر مشتمل اپوزیشن اتحادکے پاس 23ارکان ہیں۔ دو ارکان نواب ثناء اللہ زہری اور سید احسان شاہ حکومت اور نہ ہی اپوزیشن کی صف میں شامل ہیں۔
سینیئر صحافی وتجزیہ کار سلیم شاہد کا کہنا ہے کہ اپنی ہی جماعت اور اتحادی جماعتوں کے اراکین کے ایک بڑے گروپ کی جانب سے کھلم کھلا مخالفت کی وجہ سے وزیراعلیٰ جام کمال کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے ۔ اگر 14ارکان پر مشتمل یہ گروپ اپوزیشن کے ساتھ مل کر وزیراعلیٰ کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانا چاہتے ہیں تو ان کے پاس سادہ اکثریت ہے ۔
تاہم سینیئر تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار سمجھتے ہیں کہ ناراض اراکین تحریک عدم اعتماد کی بجائے وزیراعلیٰ پر مختلف طریقوں سے دباﺅ ڈال رہے ہیں کہ وہ خود عہدہ چھوڑ دیں مگر وزیراعلیٰ اب تک ڈٹے ہوئے ہیں اور انہوں نے کابینہ کا اجلاس بلاکر ظاہر کر دیا کہ وہ اب تک عہدے پر برقرار رہنے کے لیے پُر اعتماد ہیں۔

بلوچستان اسمبلی کے دو ارکان نواب ثناء اللہ زہری اور سید احسان شاہ حکومت اور نہ ہی اپوزیشن کی صف میں شامل ہیں۔ فوٹو: سکرین گریب

ان کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیات اور قوتوں نے ناراض اراکین کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر صوبے میں سیاسی تبدیلی لانے سے روکا ہے کیونکہ ان کے خیال میں ایسا کرنے سے پی ڈی ایم کو شہ ملے گی اور اس کے پورے ملک پر اثرات مرتب ہوں گے۔
شہزاد ذوالفقار کا کہنا تھا کہ اگر ناراض اراکین اس دباﺅ سے نکل کر اپوزیشن کے ساتھ ملکر کوئی مشترکہ قدم اٹھاتے ہیں تو پھر تو وزیراعلیٰ کو ہٹایا جا سکتا ہے مگر ا ب تک وہ کھل کر نہیں کھیل رہے ، آج بھی وزارتو ں سے استعفے دینے کی افواہیں اڑائی گئیں مگر کوئی ان میں سے کوئی میڈیا پر آ کر ماننے کو تیار نہیں کہ وہ استعفیٰ دے گا۔ 
شہزادہ ذوالفقار سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں آئندہ دو دنوں تک سیاسی فضا صاف ہو جائے گی اور یہ معلوم ہو جائے گا کہ وزیراعلیٰ جام کمال برقرار رہیں گے یا نہیں۔

شیئر: