Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لبنانی وزیر کے توہین آمیز بیان پر سفیر کی طلبی، سعودی عرب کا احتجاج

عرب اتحاد برائے یمن میں شامل تمام ممالک کی توہین کی ہے(فوٹو عاجل)
سعودی وزارت خارجہ نے مملکت اور عرب اتحاد برائے یمن میں شامل ممالک کے خلاف لبنانی وزیر اطلاعات جورج قرداحی کے  بیان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ 
سعودی خبررساں ادارے ایس پی اے کے مطابق وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ’ لبنانی وزیراطلاعات نے سعودی عرب کی زیر قیادت عرب اتحاد برائے یمن کے مشن کے حوالے سے جو کچھ کہا ہے  وہ افسوسناک ہے‘۔
’لبنانی وزیر نے مملکت سمیت عرب اتحاد برائے یمن میں شامل تمام ممالک کی توہین کی ہے۔ انہوں نے حوثی دہشت گردوں کی واضح جانبداری کی ہے جبکہ وہ خطے کےامن و استحکام کو خطرات لاحق کیے ہوئے ہیں۔‘
سعودی وزارت خارجہ نے ایک بار پھر اپنا یہ موقف دہرایا کہ’ لبنانی وزیر اطلاعات کا بیان معمولی ترین سیاسی روایات کے سراسر منافی ہے اور دونوں برادر ملکوں کے تاریخی تعلقات سے مطابقت نہیں رکھتا‘۔
وزارت خارجہ نے سعودی عرب اورلبنان کے تعلقات پر اثر انداز ہونے والے توہین آمیز بیان کے تناظر میں لبنانی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا اور انہیں اس حوالے سے باقاعدہ احتجاجی یادداشت حوالے کی۔
علاوہ ازیں امارات، کویت اور بحرین نے بھی  لبنانی وزیر اطلاعات کے بیان پر سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کیا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق متحدہ عرب امارات نے لبنانی سفیر کو طلب کرکے وزیر اطلاعات کے بیان کی مذمت کی اور احتجاجی یادداشت حوالے کی۔
اماراتی دفتر خارجہ نے کہا کہ’ لبنانی وزیراطلاعات نے جو بیان دیا ہے وہ سفارتی روایات کے منافی ہے۔ عرب اتحاد میں شامل ممالک کے ساتھ لبنان کی تاریخ سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ  لبنان اپنے عرب بھائیوں سے مسلسل دور ہوتا چلا جارہا ہے‘۔
کویت نے مملکت اور امارات کے خلاف لبنانی وزیر اطلاعات کے بیان کو سختی کے ساتھ مسترد کردیا۔
کویتی دفتر خارجہ نے بیان میں کہاکہ’ لبنانی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاجی یادداشت حوالے کی گئی ہے‘۔
بحرین کے دفتر خارجہ نےکہا کہ’ لبنانی وزیراطلاعات کا بیان نہ صرف یہ کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور عرب اتحاد میں شامل ان تمام ملکوں کی توہین ہے جو قربانیاں دے کر یمن کے مفادات کے حصول کے لیےکوشاں ہیں‘۔

 

شیئر: