Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خلائی ملبے کے مسائل، ریاض میں ماہرین اور فیصلہ سازوں کا اجلاس آج

کانفرنس میں حکومتیں، بین الاقوامی تنظیمیں، اور سپیس کے شعبے کی خصوصی کمپنیاں بھی شامل ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی سپیس ایجنسی ریاض میں دوسرے سپیس ڈیبری کانفرنس کا آغاز آج سے کر رہی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق دو روزہ کانفرنس میں ماہرین، فیصلہ ساز اور 75 ممالک کے نمائندگان یکجا ہوں گے۔
اس کے علاوہ حکومتیں، بین الاقوامی تنظیمیں، اور سپیس کے شعبے کی خصوصی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
یہ کانفرنس سعودی عرب کی کوششوں کا حصہ ہے تاکہ دنیا کے ممالک مل کر بڑھتے ہوئے خلائی ملبے (سپیس ڈیبری) کے مسائل کا حل نکالیں اور خلا کو سب کے لیے محفوظ اور پائیدار بنایا جا سکے۔
اس کا مقصد خلائی سرگرمیوں اور مدار میں موجود انفراسٹرکچر کی حفاظت کرنا اور ساتھ ہی عالمی خلائی معیشت کی ترقی کی حمایت کرنا بھی ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر آؤٹر سپیس افیئرز کی حمایت سے اور بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے ساتھ شراکت میں منعقد ہونے والی یہ کانفرنس بین الاقوامی تعاون اور مؤثر نظام کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے تاکہ خلائی کے خطرات کو کم کیا جا سکے اور خلا کو محفوظ اور پائیدار بنایا جا سکے۔

یہ پروگرام سعودی عرب کی حیثیت کو عالمی مرکز برائے خلائی پائیداری کے طور پر مضبوط بنانے کی کوشش کرتا ہے اور خلائی ملبے کے معاملے پر بین الاقوامی تعاون کو بڑھانے پر مرکوز ہے۔
یہ کانفرنس سعودی سپیس ایجنسی کے اس کردار کو بھی اجاگر کرتی ہے جو وہ ایسی پالیسیز اور اقدامات کو فروغ دینے میں ادا کر رہی ہے جو خلائی معیشت کے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔
کانفرنس کے اہم مقاصد میں خلائی ملبے کے خطرات کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی بڑھانا، متعلقہ قوانین اور پالیسیوں کا جائزہ لینا، تحقیق اور اننوویشن کو فروغ دینا، مدار میں موجود ماحول کے ذمہ دارانہ اور پائیدار استعمال کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر بین الاقوامی گورننس کے طریقہ کار تیار کرنا شامل ہیں۔

2014 میں چین میں خلائی ملبہ گرا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

کانفرنس میں پینل مباحثے اور تقریری سیشنز شامل ہوں گے جن میں خلائی پائیداری، عالمی خلائی معیشت کی حفاظت، بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانا، اور خلائی ملبے کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدت، شراکت داری اور عملی حل پیش کرنا زیر بحث آئیں گے۔
اس پروگرام کی خاص بات ’ڈیبری سولر‘ مقابلہ ہے، جو ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے اور خلائی ملبے کے مسائل کو کم کرنے میں اپلائیڈ اننوویشن کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
کانفرنس کی میزبانی کر کے سعودی عرب یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ بین الاقوامی خلائی منصوبوں کی حمایت کرتا ہے، سرکاری اور نجی شعبے کے تعاون کو مضبوط بناتا ہے اور عالمی خلائی کمیونٹی کے مستقبل کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

 

شیئر: