برطانیہ: فلسطین ایکشن کی حمایت میں بھوک ہڑتال کرنے والے قیدی کے لیے مظاہرہ کرنے والے 86 افراد گرفتار
اتوار 25 جنوری 2026 22:09
پولیس کے مطابق مظاہرین میں سے متعدد نے جیل کے اندر داخل ہونے کی کوشش بھی کی۔ (فائل فوٹو: پی اے میڈیا)
برطانیہ میں کالعدم قرار دی گئی تنظیم فلسطین ایکشن کی حمایت کے الزام میں زیرِحراست شخص کے حق میں جیل کے باہر ہونے والے احتجاج کے دوران 86 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
عرب نیوز کے مطابق لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق مظاہرین کے ایک گروہ نے دارالحکومت میں واقع ورم ووڈ سکرَبز جیل کی حدود کی خلاف ورزی کی، حکام کے حکم کے باوجود وہاں سے جانے سے انکار کیا اور پولیس اہلکاروں کو دھمکیاں دیں۔ ان افراد کو سنگین غیرقانونی داخلے کے شبے میں گرفتار کیا گیا۔
پولیس کے مطابق مظاہرین میں سے متعدد نے جیل کے اندر داخل ہونے کی کوشش بھی کی۔ یہ احتجاج عمر خالد کی حمایت میں کیا جا رہا تھا، جو اس وقت اسی جیل میں بھوک ہڑتال پر ہیں۔
عمر خالد ان پانچ افراد میں شامل ہیں جن پر گذشتہ برس رائل ایئر فورس کے برائز نورٹن اڈے پر فلسطین ایکشن کے ارکان کی جانب سے دراندازی کے واقعے کے سلسلے میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی، جس کے دوران دو فوجی طیاروں کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔
عمر خالد ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ وہ ان متعدد افراد میں شامل ہیں جو حالیہ مہینوں میں بھوک ہڑتال پر ہیں یا رہ چکے ہیں۔ ان سب کو ایک برس سے زائد عرصے سے اسی نوعیت کے الزامات کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے، تاہم تاحال ان کے مقدمات کا ٹرائل شروع نہیں ہو سکا۔
برطانوی وزارتِ انصاف کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’ایچ ایم پی ورم ووڈ سکرَبز میں احتجاج کا اس حد تک بڑھ جانا مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔ ہم پُرامن احتجاج کے حق کی حمایت کرتے ہیں، تاہم جیل کی حدود میں غیرقانونی داخلے اور عملے و پولیس اہلکاروں کو دی جانے والی دھمکیوں کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی مرحلے پر جیل کی سکیورٹی متاثر نہیں ہوئی۔ تاہم جہاں افراد کے اقدامات محنتی عملے کے لیے خطرے یا حقیقی نقصان کا باعث بنیں، اسے ہرگز نظرانداز نہیں کیا جائے گا اور ذمہ داروں کو نتائج کا سامنا کرنا ہو گا۔‘
