Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب ریلوے نیٹ ورک میں تین گنا توسیع کرے گا

سعودی عرب میں فی الحال تین ہزار 650 کلو میٹر طویل ٹریک بچھا ہوا ہے۔ فوٹو عرب نیوز
سعودی وزیر سرمایہ کاری نے کہا ہے کہ مملکت کے ریلوے نیٹ ورک میں تین گنا سے بھی زیادہ توسیع کی جائے گی اور آٹھ ہزار کلو میٹر طویل نیا ٹریک بچھایا جائے گا۔
عرب نیوز کے مطابق وزیر سرمایہ کاری خالد الفلاحی نے ریاض میں منعقد فیوچر منرلز فورم سے خطاب میں کہا کہ نئی بچھنے والی ریلوے لائنیں موجودہ نیٹ ورک میں شامل کی جائیں گی جو پورے ملک سے گزریں گی۔
سعودی عرب میں فی الحال تین ریلوے لائینوں پر تین ہزار 650 کلو میٹر طویل ٹریک بچھا ہوا ہے۔
دو ہزار 750 کلو میٹر طویل شمال جنوب لائن ریاض سے اردن کی سرحد تک بچھی ہوئی۔ اسی ریلوے لائن کی شاخیں مملکت کے شمال میں جاری کان کنی کے آپریشن تک بھی رسائی فراہم کرتی ہیں۔
450 کلو میٹر طویل ریاض دمام ریلوے لائن دارالحکومت کو مشرقی ساحلی کنارے سے جوڑتی ہے جبکہ نئی 450 کلو میٹر حرامین تیز رفتار لائن کنگ عندالعزیز انٹرنیشنل ایئر پورٹ جدہ کے ذریعے مکہ اور مدینہ کے شہروں کو آپس میں ملاتی ہے اور کنگ عبداللہ اکنامک سٹی کو شمال سے جوڑتی ہے۔
سعودی وزیر خالد الفلاحی نے کہا کہ ان کی وزارت سرمایہ کاری کے نئے قانون پر کام کر رہی ہے جو مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی ضروریات کو پورا کرے گا۔
خالد الفلاحی نے امید کا اظہار کیا کہ اس سال قانون نافذالعمل ہو جائے گا جو مملکت کی جانب سے متعارف کی گئی دیگر ریگولیٹری اور عدالتی اصلاحات میں ایک اور اضافہ ہوگا۔

سعودی عرب 8,000 کلو میٹر طویل نیا ٹریک بچھائے گا۔ فوٹو اے ایف پی

گزشتہ سال سعودی عرب نے کہا تھا کہ وہ بیرونی کمپنیوں کو مملکت میں اپنے ہیڈ کوارٹر کھولنے کی مہلت سال 2023 کے اختتام تک دے گا یا پھر ان کمپنیوں کو سرکاری کونٹریکٹ کی معطلی کا سامنا کرنے پڑے گا۔
اکتوبر میں سعودی عرب نے 44 بین الاقوامی کمپنیوں کو ریاض میں اپنے علاقائی ہیڈ کوارٹر کھولنے کے لیے لائسنس جاری کیے تھے۔
ریاض میں منعقد ہونے والا فیوچر منرلز فورم ایک خاص تقریب ہے جس میں 30 ممالک سے بھی زیادہ سے وزرا، اداروں اور کان کنی کے شعبے سے منسلک لیڈران کو آپس میں ملنے کا موقع ملتا ہے۔
سعودی وزارت برائے صنعت اور معدنی ذخائر کے تحت منعقد ہونے والے اس فورم کا مقصد سعودی وژن 2030 میں کان کن کے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔ سعودی عرب نے کان کن کے شعبے کو معیشت کا تیسرا ستون قرار دیا ہے۔
وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے فورم کو بتایا کہ ایندھن سے صاف توانائی کی جانب منتقلی ایک پیچیدہ مرحلہ تھا اور دنیا کو اس معاملے میں لچک کا مظاہرہ کرنا پڑے گا تاکہ انرجی سکیورٹی کو قربان ہونے سے بچایا جا سکے۔
شہزادہ عبدالعزیز نے کہا کہ ’توانائی کی منتقلی سوچ سمجھ کر اور محتاط طریقے سے کرنی چاہیے، شاید یہ مستقبل کی جانب ایک بڑا قدم ہو، بدقسمتی سے ایک نامعلوم مستقبل کی جانب۔ ہمیں صرف عوام کی توجہ حاصل کرنے کی غرض سے انرجی سکیورٹی کو نہیں ترک کرنا چاہیے۔‘

سعودی عرب نے کان کن کے شعبے کو معیشت کا تیسرے ستون قرار دیا ہے۔ فوٹو اے ایف پی

شہزادہ عبدالعزیز نے کہا کہ سعودی عرب یورینیم بنانے اور اس کی ڈویلپمنٹ پر بھی کام کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے پاس یورینیم کے بڑے ذخائر موجود ہیں جنہیں وہ انتہائی شفاف طریقے سے استعمال کرنا چاہے گا اور اس کے لیے شرکت داروں کو بھی لایا جائے گا۔
شہزادہ عبدالعزیز نے مزید کہا کہ سعودی عرب جلد ہی توانائی سے متعلق اپنی سٹراٹیجی شائع کرے گا۔ 
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سب سے سستی گرین ہائیڈروجن پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

شیئر: