Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

غیرملکی یونیورسٹیوں کے پاکستانی طلبہ کی واپسی میں مشکلات کیا؟

تعلیمی کنسلٹنٹ مبشر احمد کے مطابق گذشتہ دو برس اعلیٰ تعلیم کے لحاظ سے ڈراؤنا خواب ثابت ہوئے ہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
دنیا بھر میں کورونا وبا کے آغاز کے ساتھ ہی تمام ممالک نے جو پہلا قدم اٹھایا وہ لاک ڈاون کے ساتھ ساتھ سفری پابندیاں تھیں۔ جس کے تحت کم و بیش ہر ملک نے اپنی سرحدیں بند کر دیں۔  
اس سے نہ صرف دنیا بھر کے کاروبار متاثر ہوئے بلکہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات شدید متاثر ہوئے۔
ویکسین کی دریافت اور وافر مقدار میں دستیابی کے بعد دنیا کے کئی ممالک نے سفری پابندیاں تو ختم کر دیں لیکن چین سمیت کئی ممالک کی جانب سے یہ پابندیاں تاحال برقرار ہیں۔ جس کی وجہ سے ہزاروں پاکستانی طالب علم اپنی تعلیم مکمل کرنے سے محروم ہو رہے ہیں۔  
صرف چین ہی نہیں بلکہ نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، جاپان اور دیگر ممالک کی یونیورسٹیوں میں داخلے حاصل کرنے اور فیسیں ادا کرنے کے باوجود بہت سے پاکستانی طالب علم ان سفری پابندیوں کے باعث بیرون ملک روانہ نہیں ہوسکے۔  
تعلیمی کنسلٹنٹ مبشر احمد کے مطابق گذشتہ دو برس اعلیٰ تعلیم کے لحاظ سے ڈراؤنا خواب ثابت ہوئے ہیں۔ مختلف ممالک میں یونیورسٹیاں اپنے تعلیمی پروگرامات کے حوالے سے بالکل بے بس نظر آئی ہیں۔ کئی یونیورسٹیوں نے سینکڑوں طالب علموں کو داخلے دیے اور ان سے فیسیں وصول کیں لیکن حکومتی اقدامات کے باعث وہ انہیں بلوا نہیں سکیں۔‘  
ان کے مطابق ’سب سے زیادہ متاثرہ طالب علم چینی یونیورسٹیوں کے ہیں، اس کے علاوہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جاپان کی یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے والے طالب علم ہیں۔ برطانیہ کی یونیورسٹیوں کے طالب علموں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن اب وہ تقریباً معمول پر آ چکے ہیں۔‘  
جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے محمد رمضان نے 2020 میں نیوزی لینڈ کی یونیورسٹی میں داخلے کے لیے اپنا پلاٹ بیچا۔ پی ایچ ڈی میں داخلہ بھی ہو گیا اور باقی امور بھی مکمل ہوگئے لیکن عین روانگی کے وقت نیوزی لینڈ نے اپنے بارڈرز بند کر دیے۔ دو برس سے وہ منتظر ہیں کہ کب پابندی ختم ہوگی اور وہ روانہ ہو سکیں گے۔  

سب سے زیادہ متاثرہ طالب علم چینی یونیورسٹیوں کے ہیں (فائل فوٹو: سمیپس)

اس معاملے میں ایچ ای سی اور دفتر خارجہ سمیت تمام پاکستانی ادارے بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کورونا کے حوالے سے ہر ملک کے اپنے اپنے قواعد ہیں اور ان کی روشنی میں وہ پاکستانی طالب علموں کو سہولت فراہم کرنے کی درخواست تو کر سکتے ہیں لیکن مقامی سطح کے قوانین میں تبدیلی کے لیے انہیں مجبور نہیں کر سکتے۔  
یہ جواب عموماً چین سے پاکستان واپس آنے والے ان طالب علموں کو ملتا ہے جو کورونا کے باعث پاکستان آئے تھے اور ابھی تک اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے چین واپس نہیں جا پا رہے۔  
کنول جاوید جانان یونیورسٹی آف کیمسٹری اینڈ کیمیکل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’دو برس پہلے چھٹیوں میں جب پاکستان آئے تو چینی حکومت نے ویزے کینسل کر دیے۔ ہمارا کام ایسا ہے کہ بغیر لیبارٹری کے ہو ہی نہیں سکتا۔ اپنے پروفیسر سے رابطہ کرتے ہیں تو وہ بھی یہی وجہ بتاتے ہیں کہ جب آپ کا کام ہی مخصوص لیب میں ہونا ہے تو پھر ویزے کھلنے کا انتظار کریں۔‘ 
انہوں نے کہا کہ ’ہم متعدد مرتبہ حکومتی سطح پر کوشش کرچکے ہیں لیکن کسی بھی طرح کی کوشش کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ اس سے نہ صرف ہمارا تعلیمی نقصان ہورہا بلکہ وقت ضائع ہو رہا ہے اور ذہنی کوفت اپنی جگہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ چینی حکومت سے صرف اتنا معلوم کرلیں کہ کب تک ویزے بحال ہوں گے تاکہ ہمیں پتا تو ہو ناں کہ ہمارے مستقبل کیا ہوگا۔‘

اس معاملے میں ایچ ای سی اور دفتر خارجہ سمیت تمام پاکستانی ادارے بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ضحٰی شہزاد چینی یونیورسٹی میں ایم بی بی ایس کی طالبہ ہیں۔ اردو نیوز کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ ’ہم 2020 سے آن لائن کلاسز لے رہے ہیں۔ پی ایم سی نے ہمیں بتایا ہے جن طلبہ کے کلینکل روٹیشن مکمل نہیں ہیں وہ این ایل ای امتحان بھی نہیں دے سکتے اور نہ ہی بیرون ملک پڑھنے والے پاکستان میں اپنے کلینکل روٹیشن مکمل کر سکتے ہیں۔ ایسے میں ہمارے پاس سوائے حکومت سے ساتھ معاملہ اٹھانے کے اور کوئی آپشن نہیں ہے۔ ہم نے ویکسین بھی لگوائی ہے اور کورونا ایس او پیز کے تحت 21 دن تک قرنطینہ کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن چینی حکومت ہمیں انٹری ہی نہیں دے رہی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے پانچ برس کی فیس دی ہے اس کے باوجود ڈاکٹر بننے کا خواب معدوم ہو رہا ہے۔ پانچ برس پڑھنے اور فیس ادا کرنے کے باوجود صرف ایک ایف ایس سی والے طالب علم کی ہے۔‘ 
اسامہ خان کا تعلق ضلع مہمند سے ہے اور چین میں جی پی ایس کے شعبہ میں ماسٹرز کے طالب علم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کورس ورک مکمل ہونے کے بعد پاکستان آئے تو کورونا شروع ہر گیا۔ واپس جا کر ریسرچ اور پریکٹیکل کام شروع کرنا ہے۔ جس مشینری پر ریسرچ ہونی ہے وہ پاکستان میں دستیاب نہیں ہے۔ جب تک ڈگری مکمل نہیں ہوتی کوئی روزگار بھی نہیں ملتا۔ اس وجہ سے دو سال سے فیملی بھی پریشان ہے اور اپنے مستقبل کا کوئی سرا بھی نہیں مل رہا۔

شیئر: