Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہے: ولی عہد

سعودی ولی عہد نے روس اور کے صدور سے ٹیلی فونک بات چیت کی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جمعرات کو کہا ہے کہ مملکت یوکرین تنازعے میں فریقین کے درمیان ثالثی کی بھرپور کوشش کرنے کے لیے تیار ہے۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں شہزادہ محمد بن سلمان نے ’مملکت کے طے شدہ موقف‘ کو واضح کیا اور کہا کہ وہ ان کوششوں کی حمایت کرتے ہیں جو بحران کے خاتمے کو سیاسی حل کی جانب لے جاتی ہیں اور جس سے سلامتی اور استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے تیل کی منڈی میں توازن اور استحکام کو برقرار رکھنے کی خواہش کا بھی اعادہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعلقات بڑھانے پر بھی بات چیت کی۔
سعودی ولی عہد نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بھی ٹیلی فونک گفتگو کی۔
بات چیت کے دوارن شہزادہ محمد بن سلمان نے ہر اس چیز کی حمایت کی تصدیق کی جو بحران میں کمی کرے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ثالثی کے لیے تیار ہے اور انہوں نے بحران کو سیاسی طور پر حل کرنے کے لیے تمام بین الاقوامی کوششوں کی بھی حمایت کی۔
ولی عہد نے یوکرینی صدر زیلنسکی کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ مملکت ہر اس عمل میں حصہ ڈالے گا جس سے بحران میں کمی آئے اور کہا کہ مملکت ثالثی کے لیے تیار ہے۔
شہزادہ محمد بن سلمان نے اوپیک پلس معاہدے کے کردار اور اس کی اہمیت برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے بحران کے سیاسی حل کے لیے سعودی عرب کی جانب سے تمام بین الاقوامی کوششوں کی حمایت سے بھی آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ انسانی ہمدردی کے پیش نظر سعودی عرب ان سیاحوں اور رہائشیوں کے ویزوں میں تین ماہ توسیع کرے گا جن کے ویزوں کی معیاد ختم ہونے والی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت یوکرین کے شہریوں کے آرام اور تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

شیئر: