جنگلی حیات کا تحفظ: عربی اوریکس کی بحالی کےلیے کامیاب سعودی کوششیں ایک مثال
یہ صحرائی جانور اپنے قدرتی ماحول سے تقریبا ناپید ہو گیا تھا۔(فوٹو: ایس پی اے)
عربی اوریکس (المھا العربی) کی کہانی جنگلی حیات کے تحفظ میں سب سے نمایاں قومی مثالوں میں سے ایک رہی ہے۔ یہ صحرائی جانور اپنے قدرتی ماحول سے تقریبا ناپید ہو گیا تھا۔
سعودی عرب نے 1986 میں نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف سے منسک افزائش کے مراکز کے ذریعے عربی اوریکس کی افزائش نسل کےلیے ایک قومی پروگرام شروع کیا۔ ان مراکز میں 57 جوڑوں کو منتقل کیا گیا۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق سال 1989 میں عربی اوریکس کی دوبارہ آباد کاری کے لیے ’محازۃ الصید‘ میں پہلے مرحلے کا آغاز کیا گیا جو بعد میں امام سعود بن عبدالعزیز رائل ریزرو کا حصہ بن گیا۔
مملکت نے جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی ادارروں کے ساتھ تعاون کے علاوہ منظم افزائش، ریسرچ اور دیگر اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں عربی اوریکس کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہونے لگا۔
عالمی ادارہ برائے تحفظ جنگلی حیات(آئی یو سی این) کے انڈیکس میں اسے ’معدوم‘ کے درجے سے نکلا کر ’خطرے سے دوچار‘ کے درجے میں شامل کیا گیا جو ایک عالمی کامیابی تصور کی جاتی ہے۔

عربی اوریکس بنجر و خشک علاقوں میں رہتا ہے اور پودوں کے ساتھ ساتھ شبنم کے قطروں سے بھی پانی کی ضرورت کو پورا کرتا ہے، جس کے باعث اسے کم وسائل میں زندہ رہنے والے جانوروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
بے دریغ شکار، تیز رفتاری سے ہونے والی ترقیاتی سرگرمیاں اور قدرتی علاقوں و جنگلات کی کٹائی کے باعث ان کی تعداد میں غیرمعمولی کمی نوٹ کی گئی اور اسے جنگلی ماحول میں معدوم قرار دے دیا گیا، جو خطے کے لیے ایک بڑا ماحولیاتی چیلنج تھا۔

عربی اوریکس کی افزائش کی کہانی حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کےلیے ایک کامیاب قومی ماڈل کی نمائندگی کرتی ہے جو اپنے قدرتی وسائل کے تحفظ کے مملکت کے عزم کو ظاہر کرتی ہے اور ماحولیاتی توازن کی بحالی میں اس کے کردار کو اجاگر کرتی ہے۔
یہ اس حقیقت کا ثبوت بھی ہے کہ سائنسی منصوبہ بندی اور پائیدار عملی اقدامات کے ذریعے معدومی کے خطرے سے دوچار انواع کو بچایا اور انہیں دوبارہ ان کے قدرتی مسکن میں بحال کیا جاسکتا ہے۔
