Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

توشہ خانہ کیس کا فیصلہ آج، الیکشن کمیشن کی سکیورٹی سخت

ای سی پی نے گزشتہ روزعمران خان کے خلاف توشہ خانہ نااہلی ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ آج بروز جمعہ سنانے کا اعلان کیا ہے۔
اس موقع پر ریڈ زون میں واقع الیکشن کمیشن کی سکیورٹی کے لیے 1100 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ کاز لسٹ کے مطابق ’توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ جمعے کی دوپہر دن دو بجے سنایا جائے گا، جس کے لیے سابق وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔‘
خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے سپیکر راجا پرویز اشرف نے رواں برس اگست کے اوائل میں توشہ خانہ کیس کی روشنی میں عمران خان کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن کو ایک ریفرنس بھیجا تھا۔
ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ ’عمران خان نے اپنے اثاثوں میں توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف اور ان تحائف کی فروخت سے حاصل کی گئی رقم کی تفصیل نہیں بتائی۔‘
الیکشن کمیشن نے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ نااہلی ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
الیکشن کمیشن میں توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’الیکشن کمیشن عدالت نہیں بلکہ کمیشن ہے، جب تک ہائی کورٹ کی نگرانی نہ ہو تو کوئی ادارہ عدالت نہیں بن جاتا۔‘

عمران خان نے تحریری جواب میں کہا تھا کہ ’اگست 2018 سے دسمبر 2021 کے دوران انہیں اور ان کی اہلیہ کو 58 تحائف دیے گئے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

’الیکشن کمیشن خود کو عدالت قرار نہیں دے سکتا، ایسا نہیں ہوسکتا کہ 10 سال پرانی چیز اٹھا کر سوال کر دیا جائے، یہ ایک سیاسی کیس ہے، اپوزیشن اس پر پریس کانفرنسز بھی کر رہی ہے۔‘
جواب میں بیرسٹر خالد اسحاق نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ سپیکر کے ریفرنس میں صرف ایک سوال کیا گیا جبکہ عمران خان کا ریفرنس میں جمع کرایا جواب سوال کے مطابق نہیں۔‘
وکیل کا کہنا تھا کہ ’عمران خان نے توشہ خانہ سے وصول تحائف اثاثوں میں ظاہر نہیں کیے۔ عمران خان نے تسلیم کیا کہ انہوں نے توشہ خانہ کے تحائف اپنے پاس رکھے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’سوال یہ ہے کہ عمران خان نے درست وقت میں ان تحائف کو ظاہر نہیں کیا، کف لنکس اور گھڑیوں کی قیمت کروڑوں روپے میں ہے۔‘
واضح رہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ ریفرنس کے سلسلے میں سات ستمبر کو الیکشن کمیشن میں اپنے تحریری جواب میں کہا تھا کہ ’یکم اگست 2018 سے 31 دسمبر 2021 کے دوران وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کو 58 تحائف دیے گئے۔‘
’یہ تحائف زیادہ تر گل دان، میز پوش، آرائشی سامان، دیوار کی آرائش کا سامان، چھوٹے قالین، بٹوے، پرفیوم، تسبیح، خطاطی، فریم، پیپر ویٹ اور پین ہولڈرز پر مشتمل تھے، البتہ ان میں گھڑی، قلم، کفلنگز، انگوٹھی، بریسلیٹ/لاکٹس بھی شامل تھے۔‘

سپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے عمران خان کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن کو ایک ریفرنس بھیجا تھا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

جواب میں کہا گیا تھا کہ ’ان سب تحائف میں صرف 14 چیزیں ایسی تھیں جن کی مالیت 30 ہزار روپے سے زائد تھی جسے انہوں نے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت رقم کی ادائیگی کر کے خریدا۔‘
اپنے جواب میں عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ ’انہوں نے بطور وزیراعظم اپنے دور میں چار تحائف فروخت کیے تھے۔‘

شیئر: