Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یوکرین کے جوہری پلانٹ کے عملے کا اغوا، جی سیون کی مذمت

گروپ سیون کے صنعتی ممالک نے روس کی جانب سے جوہری پاور پلانٹ زاپوریژیا کے عملے کے اغوا کی مذمت کی ہے اور پلانٹ کا مکمل کنٹرول یوکرین کو فوری طور پر واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق جی سیون کے تخفیف اسلحہ اور عدم پھیلاؤ کے شعبے کے  ڈائریکٹر جنرل نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم روس کی طرف سے یوکرینی نیوکلیئر پاور پلانٹ کی قیادت اور عملے کے بار بار اغوا کی مذمت کرتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم روس پر زور دیتے ہیں کہ وہ فوری طور پر زاپوریژیا  کا مکمل کنٹرول اس کے حقیقی خودمختار مالک یوکرین کو واپس کرے۔‘
فروری میں شروع ہونے والے یوکرین پر حملے کے ابتدائی دنوں سے ہی روسی افواج یورپ کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ پر قبضہ کیے ہوئے ہے۔
’زاپوریزہیا‘ یورپ کی سب سے بڑی جوہری تنصیب ہے جو حالیہ دنوں میں نئی ​​لڑائی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
دوسری جانب روس نے یوکرین میں توانائی کی تنصیبات پر بھی میزائل حملے کیے ہیں جس سے ملک کے مختلف حصوں میں بلیک آؤٹ ہو گیا ہے۔
یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ روس نے بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں۔ انہوں نے اس عہد کا اظہار کیا کہ یوکرینی فوج اپنے شراکت داروں کی مدد سے روسی میزائل مار گرانے کی صلاحیت کو بہتر کرے گی۔
’ہمارے پاس سو فیصد روسی میزائل اور ڈرون مار گرانے کی تکنیکی صلاحیت موجود نہیں ہے لیکن آہستہ آہستہ اپنے پارٹنرز کی مدد سے حاصل کر لیں گے۔‘

روس نے یوکرین میں بڑے پیمانے پر توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

انہوں نے کہا کہ سنیچر کو یوکرینی فوج نے 20 میزائل اور دس سے زائد ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز مار گرائے تھے۔
توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے باعث دس لاکھ سے زائد شہری بلیک آؤٹ سے متاثر ہیں، تاہم  صدر زیلنسکی نے بجلی جلد بحال ہونے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
دارالحکومت کئیف کی مقامی انتظامیہ کے نائب سربراہ پیٹرو پانٹیلیف نے خبردار کیا ہے کہ روسی حملوں کے باعث شہر میں کئی دنوں اور ہفتوں تک بجلی اور ہیٹنگ کا نظام متاثر رہ سکتا ہے۔
علاوہ ازیں خیرسن کے مقبوضہ علاقوں میں حالات کشیدہ ہونے کے باعث روسی حکام نے شہریوں کو علاقہ فوری چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔
روسی حکام نے جاری پیغام میں کہا ہے کہ حالات میں کشیدگی کے باعث شہر پر بڑے پیمانے میں شیلنگ اور دہشت گرد حملوں کا خطرہ ہے، لہٰذا تمام شہری فوری طور پر علاقہ چھوڑ دیں۔
یوکرینی فوج نے خیرسن کے جنوبی علاقوں کی جانب پیش قدمی اور دو گاؤں کا قبضہ واپس لینے کا دعویٰ کیا ہے۔
یوکرین کے جنرل سٹاف نے کہا ہے کہ خیرسن کے ان علاقوں کی طرف بڑھ رہے ہیں جو روسی فوج نے عارضی قبضہ کرنے کے بعد چھوڑ دیے ہیں۔

شیئر: