Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیمبرج کے کم عمر ترین پروفیسر کی ناگہانی موت، ’میڈیا ٹرائل نے جان لے لی‘

کیمبرج یونیورسٹی کے کم عمر ترین سیاہ فام پروفیسر، جنہوں نے علمی سرقے اور غلط معلومات کے شدید الزامات اور میڈیا سکروٹنی کے بعد حال ہی میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا، جمعے کو لندن میں مردہ پائے گئے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق 37 برس کی عمر میں سنہ 2023 میں کیمبرج یونیورسٹی میں بحیثیت پروفیسر تعینات ہونے والے 41 سالہ جےسن آرڈے گزشتہ چند ہفتوں سے شدید میڈیا دباؤ کا شکار تھے۔
ان پر اپنے تحقیقی مقالے میں تحریری چوری اور اپنے چیریٹی کے کاموں سے متعلق مبالغہ آرائی کے الزامات لگائے جا رہے تھے۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق جےسن آرڈے جمعے کی دوپہر جنوبی لندن کے علاقے بیٹرسی میں اپنے گھر کے اندر بے ہوشی کی حالت میں ملے جہاں بعد میں ان کی موت کی تصدیق کر دی گئی۔
میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ اس موت کو فی الوقت غیر متوقع لیکن غیر مشکوک قرار دیا جا رہا ہے۔
جےسن کی ناگہانی موت کی خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رواں ہفتے ہی ان کی آپ بیتی Great and Unfortunate Things شائع ہوئی ہے۔
ان کے اہلخانہ نے ایک جذباتی بیان میں کہا کہ ’ہم اپنے پیارے بیٹے، بھائی اور ساتھی کو یوں کھو دینے پر شدید صدمے میں ہیں۔ غلط معلومات کی اس مہم نے جےسن جیسے نرم مزاج انسان کی جان لے لی۔‘
جےسن آرڈے کی زندگی جدوجہد سے عبارت تھی۔ بچپن میں آٹزم اور سیکھنے کی معذوری کے باعث وہ 11 برس کی عمر تک بول نہیں سکتے تھے اور 18 سال کی عمر تک پڑھنے لکھنے سے قاصر تھے۔ تاہم تمام تر مشکلات کے باوجود انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور کیمبرج جیسے ادارے تک پہنچے۔
تنازع کا آغاز اس وقت ہوا جب انگلینڈ کے ایک تحقیقاتی جرنل اور روزنامہ ’دی ٹائمز‘ نے جےسن کے سنہ 2015 کے پی ایچ ڈی تھیسس کا جائزہ شائع کیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ان کی تحریر کے کئی حصے کسی دوسرے محقق کے کام سے چوری کیے گئے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے اس دعوے پر بھی سوالات اٹھائے گئے کہ انہوں نے 35 دنوں میں 30 میراتھن دوڑ کر لاکھوں پاؤنڈز کا خیراتی عطیہ جمع کیا۔
اگرچہ جےسن نے علمی چوری کے دانستہ ارتکاب سے انکار کیا تھا لیکن انہوں نے اپنے استعفے میں لکھا کہ ’ان مسلسل الزامات اور عوامی تبصروں نے مجھے اور میرے پیاروں کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔‘
کیمبرج یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈيبورا پرینٹس نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی ان کی تقرری کے عمل کا جائزہ لے رہی تھی لیکن جےسن کی ناگہانی موت نے سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس انفرادی کیس کو یونیورسٹی میں کام کرنے والے دیگر سیاہ فام اور اقلیتی اساتذہ کی صلاحیتوں پر شک کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

شیئر: