Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کو ’جلد‘ امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان

ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو شکست دینے کے بعد وہ جلد ہی دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ’آبنائے ہرمز‘ کو امریکی علاقوں میں شامل کرنے کا اعلان کریں گے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیویارک میں ایک پولیس اکیڈمی کے دوران ایک سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے مسکراتے ہوئے کہا ’ایران کو مکمل طور پر شکست دینے کے بعد، جو کہ اس وقت بہت بری طرح ہار رہا ہے، میں بہت جلد آبنائے ہرمز کو امریکہ کا علاقہ قرار دینے کا اعلان کروں گا۔‘
انہوں نے مزید زور دیتے ہوئے کہا ’یہ بالکل سچ ہے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا جس کا بظاہر مقصد تہران کے متنازع ایٹمی پروگرام کا خاتمہ اور وہاں عوامی بغاوت کو برپا کرنا تھا۔
تاہم ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے عالمی توانائی اور اشیائے خورونوش کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستے ’آبنائے ہرمز‘ کے ایک بڑے حصے پر عملاً کنٹرول حاصل کر لیا۔
اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان اس گزرگاہ سے متعلق ایک سخت تناؤ اور تعطل قائم ہے۔ ایران زیادہ تر شہری اور تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کو روک رہا ہے جبکہ دوسری جانب امریکی بحریہ نے ایرانی معیشت کو مفلوج کرنے کی غرض سے اس کی بندرگاہوں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔
تقریر کے دوران تالیاں بجاتے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ’ہم نے ان کی بندرگاہوں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ ہماری اجازت کے بغیر کوئی بھی جہاز وہاں سے گزر نہیں سکتا۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ بیانات ان کے لیے بڑھتے ہوئے سیاسی خطرات کو نمایاں کرتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

اس موقعے پر امریکی صدر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی قیمت کے طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی معمولی بلند قیمتوں کو برداشت کریں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ بیانات ان کے لیے بڑھتے ہوئے سیاسی خطرات کو نمایاں کرتے ہیں۔ ایک طرف انہوں نے عوام سے توانائی کی قیمتیں کم کرنے کا وعدہ کیا تھا تو دوسری جانب پیٹرول کی بڑھتی قیمتیں اس وعدے کے برعکس جا رہی ہیں۔ ڈیموکریٹس نے نومبر کے مڈ ٹرم (مؤخر) انتخابات سے قبل ایران جنگ کے معاشی اثرات کو ایک بڑا سیاسی اور انتخابی موضوع بنانا شروع کر دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں ’پیٹرول کے لیے کچھ سینٹ زیادہ ادا کرنا پڑ رہے ہیں‘ تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک ’انتہائی موذی اور خبیث ملک‘ کو ایٹمی بم بنانے سے روکنے کی قیمت ہے۔
انہوں نے حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ’ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک عظیم خدمت ہے... اور ہم واقعی بہت زبردست کام کر رہے ہیں۔‘ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران پر حملہ کرنے کے فیصلے پر کبھی معافی نہیں مانگیں گے۔

شیئر: