Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈونیشیا میں 7.7 شدت کے زلزلے سے 20 افراد ہلاک، امدادی کارکنوں کی تصدیق

انڈونیشیا کے مشرقی حصے میں ہفتے کے روز 7.7 شدت کے زلزلے اور درجنوں آفٹر شاکس میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے (فوٹو: روئٹرز)
امدادی ادارے نے کہا ہے کہ انڈونیشیا کے مشرقی حصے میں ہفتے کے روز 7.7 شدت کے زلزلے اور درجنوں آفٹر شاکس کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے۔
برطانوی نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق صبح کے وقت آنے والے زلزلے کے بعد جنوب مشرقی ایشیائی ملک کے کئی علاقوں میں ایک میٹر (تین فٹ) سے کم بلند سونامی لہریں ریکارڈ کی گئیں۔ زلزلے کے تقریباً تین گھنٹے بعد سونامی کی وارننگ ختم کر دی گئی۔
شہر کی امدادی ایجنسی کے سربراہ فتور رحمان نے کہا کہ ساحلی شہر ماؤمِرے کے اطراف میں امدادی کارکنوں نے 20 لاشیں، چھ زخمی افراد اور ملبے تلے پھنسے دو افراد کو تلاش کیا ہے۔ ماؤمِرے، انڈونیشیا کے وسیع جزائر میں مشرقی جانب واقع فلوریس جزیرے کی سِکا ریجنسی کا مرکزی شہر ہے۔
فتور نے روئٹرز کو بتایا کہ ’زلزلے کے مرکز کے قریب ترین علاقے ناگیکیو میں امدادی ٹیمیں ابھی تک نہیں پہنچ سکی ہیں اور وہاں مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا ہے۔‘
ان کے مطابق ناگیکیو تک گاڑی کے ذریعے پہنچنے کی کوششیں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ناکام ہوئیں، جبکہ ایک دوسری ٹیم فیری کے ذریعے وہاں پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
قومی آفات سے نمٹنے کے ادارے بی این پی بی نے کہا ہے کہ ’ناگیکیو کے تقریباً 2,000 رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، جبکہ متعدد گھروں، گوداموں اور سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔‘
ادارے کے مطابق ریجنسی کے بعض علاقوں میں ٹریفک کا شدید دباؤ اور بجلی کی بندش بھی رپورٹ ہوئی ہے۔
صوبہ مشرقی نوسا تِنگارا کے گورنر ایمانوئل میلکیادیس لاکا لینا نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’کم از کم پانچ افراد اُس وقت ملبے تلے دب کر ہلاک ہوئے جب وہ سو رہے تھے۔‘
تاہم بی این پی بی نے زلزلے سے ایک ہلاکت اور چار افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ وہ اب بھی مزید معلومات جمع کر رہا ہے۔
فیس بک پر ماؤمِرے کی ایک بندرگاہ کی ویڈیو شیئر کی گئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک عمارت کے کچھ حصے منہدم ہو کر ملبے میں تبدیل ہو گئے جبکہ لوگ چیختے ہوئے سڑکوں پر بھاگ رہے تھے، اس ویڈیو کی تصدیق روئٹرز نے بھی کی ہے۔
مشرقی نوسا تِنگارا کے گاؤں تالیبورا کی 51 سالہ رہائشی نونا نے کہا کہ ’زلزلہ بہت شدید تھا، ہم گھر میں خاندان کے ساتھ آرام کر رہے تھے جب شدید جھٹکا محسوس ہوا۔ گھر کے اندر ہم 13 افراد تھے اور سب اپنی جان بچانے کے لیے باہر بھاگے۔
بی این پی بی نے ایک بیان میں بتایا کہ مشرقی نوسا تِنگارا، مغربی نوسا تِنگارا اور جنوبی سولاویسی کے بعض علاقوں میں شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ کئی علاقوں کے رہائشیوں نے بتایا کہ جھٹکے تقریباً ایک منٹ تک جاری رہے۔
ادارے نے کہا کہ ’زیادہ تر لوگوں نے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے اور گھروں سے باہر نکل آئے۔‘

سال 1992 میں بھی اسی علاقے میں 7.5 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی (فوٹو: اے پی)

صوبہ مشرقی نوسا تِنگارا کے ضلع اینڈے کے ایک ہسپتال میں مریضوں کو عمارت سے باہر منتقل کیا جا رہا تھا۔ کومپاس ٹی وی کی فوٹیج میں یہ منظر دکھایا گیا۔ کومپاس ڈاٹ کام نے کم از کم ایک مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کی بھی اطلاع دی ہے۔
انڈونیشیا کے ادارہ برائے جیو فزکس بی ایم کے جی کے مطابق پہلا زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 58 منٹ پر آیا۔ زلزلے کی گہرائی 15 کلومیٹر (9 میل) تھی، جس کے بعد کئی آفٹر شاکس بھی آئے۔
ادارے نے بتایا کہ ’سال 1992 میں بھی اسی علاقے میں 7.5 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی۔‘
آسٹریلیا کے سونامی وارننگ مرکز نے کہا کہ سمندر کے اندر آنے والے اس زلزلے سے ’آسٹریلیا کی سرزمین، جزائر یا زیرِ انتظام علاقوں کو سونامی کا کوئی خطرہ نہیں۔‘
انڈونیشیا ’پیسیفک رنگ آف فائر‘ پر واقع ہے، جو دنیا میں زلزلوں کے حوالے سے انتہائی حساس خطہ ہے۔ یہاں زمین کی پرت میں موجود مختلف ٹیکٹونک پلیٹیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں زلزلے اور آتش فشانی سرگرمیاں ہوتی رہتی ہیں۔

شیئر: