Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کا انبار لگانے والے سرفراز خان کون ہیں؟

سرفراز خان نے سکول کرکٹ میں سچن تندولکر کا ریکارڈ توڑ کر شہرت حاصل کی (فوٹو: پی ٹی آئی)
انڈین فرسٹ کلاس کرکٹر سرفراز خان حالیہ دنوں میں ڈومیسٹک ٹورنامنٹ رانجی ٹرافی میں غیر معمولی کارکردگی دکھا رہے ہیں تاہم انڈین سلیکٹرز کی جانب سے انہیں مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
سنہ 1997 میں انڈیا کے شہر ممبئی میں پیدا ہونے والے سرفراز خان بچپن سے ہی کرکٹ کے جنون میں مبتلا تھے۔ انہوں نے اپنا بچپن شہر کے مشہور آزاد میدان میں کرکٹ کھیلتے ہوئے گزارا۔
سرفراز خان کے والد نوشاد خان بھی کرکٹ کوچ تھے جس کی وجہ سے سرفراز کو بچپن میں ہی صحیح سمت مل گئی۔ 2009 میں انہیں اس وقت شہرت ملی جب سرفراز خان نے ممبئی کے سکول ٹورنامنٹ ہیرس شیلڈ میں اپنے سکول کی نمائندگی کرتے ہوئے 421 گیندوں پر 439 رنز بنائے اور سچن تندولکر کا ریکارڈ توڑا۔
اس غیر معمولی کارکردگی کے بعد انہیں ممبئی کی انڈر 19 ٹیم میں شامل کیا گیا جس کے بعد وہ انڈیا کی انڈر 19 ٹیم کا حصہ بنائے گئے۔
25 سالہ بیٹر نے انڈیا کی جانب سے 2014 اور 2016 میں آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ کھیلے ہیں جس میں انہوں نے دونوں مرتبہ چھ، چھ میچ کھیل 211 اور 355 رنز بنائے۔
آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ 7 ففٹی اننگز کھیلنے کا ریکارڈ بھی ان ہی کے پاس ہے۔
سنہ 2014 کے ورلڈ کپ کے بعد انہیں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی ٹیم رائلز چیلنجرز بینگلور (آر سی بی) نے آئی پی ایل کے لیے خرید لیا۔
سرفراز خان نے 2014 میں رانجی ٹرافی میں ممبئی کی جانب سے ڈیبیو کیا جس کے انہوں نے اگلے دو سال اترپردیش کی بھی نمائندگی کی۔
انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں اب تک 36 میچز کھیل کر 80 کی بڑی اوسط کے ساتھ 3380 رنز بنائے ہیں جس میں 12 سینچریاں اور 9 ففٹیاں شامل ہیں جبکہ انہوں نے 20-2019 کے رانجی سیزن میں ٹرپل سینچری بھی سکور کی تھی۔
رواں سال کے رانجی سیزن میں سرفراز خان نے 6 میچز میں ہی تین سنچریاں بناتے ہوئے 111 کی اوسط سے 556 رنز بنا لیے ہیں۔
فرسٹ کلاس کرکٹ میں تسلسل کے ساتھ رنز بنانے کے باوجود سرفراز خان کو قومی ٹیم کے لیے سلیکٹرز نظر انداز کر رہے ہیں۔
فروری میں انڈیا اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والی بارڈر گواسکر ٹرافی کے پہلے دو میچز کے لیے انڈین سکواڈ میں سرفراز خان شامل نہیں ہیں جبکہ ان کی جگہ ٹیم میں سوریا کمار یادو کو شامل کر لیا گیا ہے۔
اسی سلسلے میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صارفین سرفراز خان کی حمایت کرتے نظر آرہے ہیں۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق ’سرفراز خان کی قومی ٹیم میں شمولیت اس وجہ سے بھی نہیں ہو رہی کہ ان کا وزن زیادہ ہے۔‘
اس اعتراض پر انڈیا کے سابق فاسٹ بولر وینکاٹیش پرساد نے ٹویٹ کی کہ 'تین بلاک بسٹر ڈومیسٹک سیزن ہونے کے باوجود سرفراز خان کا ٹیم میں نہ ہونا صرف ان کے لیے ناجائز نہیں ہے بلکہ دومیسٹک کرکٹ کے ساتھ بھی زیادتی ہے کہ جیسے یہ پلیٹ فارم کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور وہ سکور بنانے کے لیے بھی فٹ ہیں، جہاں تک وزن کی بات ہے، جتنے کلو زیادہ وزن ہوگا، اتنے رنز بنیں گے۔'

وشال کہتے ہیں کہ 'آپ ٹیلنٹ کو نظرانداز کر سکتے ہیں لیکن اسے چمکنے سے نہیں روک سکتے، سرفراز خان اس کی بہترین مثال ہیں۔‘

صحافی وکرانت گپتا نے لکھا کہ ’سرفراز خان کا ایک اور 100، وہ بھی کوٹلا سٹیڈیم کی مشکل کنڈیشنز میں۔‘
 
مفدل ووہرا کہتے ہیں کہ ’سرفراز خان کی سہنچری، ایک اور بے مثال اننگز، ان کو روکنا اس وقت محال ہے، ممبئی ایک وقت پر 66 پر 4 تھے تاہم سرفراز نے آکر سہارا دیا۔‘

شیئر: