Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ایسا قطعاً نہ کریں‘، انٹرویو میں کن باتوں سے بچنا چاہیے؟

انٹرویو کے دوران انداز بہت زیادہ بے ساختہ بھی نہیں ہونا چاہیے اور نہ زیادہ بناوٹی۔ (فوٹو: پکسابے)
ملازمت کے لیے انٹرویو سے قبل آپ کو ایسے بے شمار لوگ ملیں گے جو بتائیں گے کہ ’یہ کرنا، وہ کرنا، یہ کہنا‘ وغیرہ جبکہ انٹرنیٹ پر بھی چیک کریں تو زیادہ تر بہترین انٹرویو کے طریقے بتائے گئے ہوتے ہیں اور یہ کوئی نہیں بتاتا کہ ’انٹرویو میں کیا نہیں کرنا اور کیا نہیں کہنا۔‘
الرجل میگزین کی رپورٹ میں ایسے نکات کی نشاندہی کی گئی ہے جن سے انٹرویو کے دوران پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ یہ آپ کو اس ملازمت سے دور کر سکتے ہیں۔ اس لیے ماہرین چند چیزوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’ایسا قطعاً مت کریں۔‘

کمپنی کے بارے میں معلومات کا فقدان

جس کمپنی میں آپ انٹرویو دینے گئے ہیں اگر وہاں کے بارے میں ہی زیادہ معلومات نہیں تو یہ ایک منفی بات ہے اور اس سے عدم دلچسپی کا اظہار ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انٹرویو سے قبل اس میدان اور کمپنی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کریں۔

انٹرویو کی اچھی طرح تیاری کر کے جائیں (فوٹو: فری پک)

پچھلی ملازمت سے نفرت

آپ نے جہاں پہلے ملازمت کی ہے وہاں چاہے آپ کتنے ہی ناخوش کیوں نہ رہے ہوں لیکن اس کا برملا اظہار کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ انٹرویو لینے والا اس حوالے سے کریدنے کی بھی کوشش کرے جس کے جواب میں اچھے خیالات کا ہی اظہار کریں جیسے وہاں اچھا ماحول تھا، بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ اس پر پوچھا جا سکتا ہے کہ ’پھر چھوڑ کیوں رہے ہیں؟‘ اس کے جواب میں یہ بتانا بہتر ہے کہ کمپنی (جہاں انٹرویو دے رہے ہیں) ایک بہت اچھی کمپنی ہے جس کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔
پچھلی کمپنی کی برائی کرنے سے انٹرویو لینے والے کے نزدیک آپ کا تاثر منفی قسم کا بنے گا۔

صرف ہاں یا ناں سے بچیں

کوشش ہونی چاہیے کہ جب کچھ پوچھا جائے تو اس کا جواب صرف ہاں نہ ناں کی صورت میں نہ ہو کیونکہ انٹرویو لینے والا آپ کو بولنے کا موقع دے کر آپ کے بارے میں رائے قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس سے آپ کی تخلیقی صلاحیتوں کو جانچنے کا موقع ملتا ہے۔ صرف ایک آدھ چھوٹے الفاظ سے آپ کے چانسز کم ہو سکتے ہیں۔

ٹو دی پوائنٹ

ہاں یا ناں سے بچنے کا مطلب یہ نہیں کہ بات چیت کو غیرضروری طوالت دی جائے، کوشش کریں کہ جو پوچھا جائے جواب میں اسی تک محدود رہیں۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ زیادہ بول کر ان کو متاثر کر سکتے ہیں تو یہ بات آپ کے خلاف بھی جا سکتی ہے۔

انٹرویو کے دوران متوازن انداز اختیار کرنا چاہیے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

جھوٹ سے بچیں

ویسے تو سی وی اور انٹرویو کے درمیان کسی حد تک مبالغہ چلتا ہی ہے تاہم ایسی کسی چیز یا کام پر گرفت کا دعوٰی کرنے سے پرہیز کریں جو آپ نہ کر سکتے ہوں۔ ایسے سوالات عموماً انٹرویو لینے والے اسی لیے پوچھتے ہیں کہ آپ کس حد تک درست بیانی کرتے ہیں۔ جس چیز کے بارے میں نہیں پتہ یا نہ کر سکتے ہوں اس کا اظہار کچھ ایسے الفاظ میں کیا جا سکتا ہے کہ ’اس کمپنی میں آنے کا مقصد ہی یہ سیکھنا ہے اور اگر موقع ملے تو خوش قسمتی ہو گی۔‘

سیاست اور مذہب

یہ دونوں حساس موضوعات ہیں اور ان کے بارے میں ضروری نہیں کہ آپ کے خیالات سے سب اتفاق کریں اس لیے بات چیت کے دوران ان پر خیالات کا اظہار نہ کریں اور اگر ان سے متعلق کچھ پوچھ بھی لیا جائے تو کھلے دل کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے بارے میں سب کی اپنی اپنی رائے اور آپ سب کا احترام کرتے ہیں۔ اس پر اگر آپ کی رائے پوچھ لی جائے تو بڑے مناسب انداز میں بغیر کسی نفرت کا اظہار کیے خیالات کا اظہار کرنا چاہیے۔

پچھلے باس پر تنقید

یہ درست ہو سکتا ہے کہ آپ اپنے موجودہ یا پچھلے باس سے خوش نہ ہوں اور اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ضروری نہیں کہ آپ انٹرویو کے دوران ان کا تذکرہ کریں۔ اسی طرح دیگر سینیئرز پر بھی تنقید کرنا مناسب نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے آپ کے بارے میں قائم ہونے والا تاثر متاثر ہو سکتا ہے اور یہ ملازمت سے بھی محروم کر سکتا ہے کیونکہ جو آپ کا انٹرویو لے رہا ہے وہ بھی کسی کا باس ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ دوران انٹرویو پچھلی ملازمت کی برائی نہ کریں۔ (فوٹو: پکسابے)

غصے میں نہ آئیں

کئی بار انٹرویو لینے والے ایسا سوال پوچھ جاتے ہیں جس سے آپ کو غصہ آ سکتا ہے تاہم ایسا اس لیے نہیں کرنا کہ وہ یہ سوال پوچھا ہی  اس لیے جاتا ہے کہ آپ کو چیک کیا جائے۔ اس لیے ذہنی طور پر ایسی کسی بات کے لیے تیار رہیں۔

متوازن انداز

آپ کا انداز بہت زیادہ بے ساختہ بھی نہیں ہونا چاہیے اور زیادہ بناوٹی بھی نہیں، اس سے ایسا نہیں لگنا چاہیے کہ آپ کو اس جاب کی حد سے زیادہ ضرورت ہے اور ایسا تاثر بھی نہیں جانا چاہیے کہ یہ ملازمت آپ کے لیے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی۔

شیئر: