Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کرپشن کیس: ملائیشیا کے سابق وزیراعظم نجیب رزاق کی بریت کے خلاف اپیل مسترد

نجیب رزاق کو ون ملائیشیا ڈیویلپمنٹ بہراڈ فنڈ کرپشن کے ایک کیس میں ہائی کورٹ نے بری کر دیا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ملائیشیا میں کورٹ آف اپیل نے سابق وزیراعظم نجیب رزاق کی کرپشن کے کیس میں ہائی کورٹ کی جانب سے بریت کو برقرار رکھا ہے۔
نجیب رزاق کو ون ملائیشیا ڈیویلپمنٹ بہراڈ فنڈ کرپشن کے ایک کیس میں ہائی کورٹ نے بری کر دیا تھا۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بریت کے باوجود نجیب رزاق جیل میں ہی رہیں گے کیونکہ ان کو کرپشن کے ایک اور کیس میں 12 سال قید کی سزا ہوئی ہے۔
نجیب زراق کے وکیل شفیع عبداللہ نے پریس کانفرس میں بتایا کہ عدالت برائے اپیل نے بریت کے خلاف پراسکیوشن کی اپیل کو مسترد کر دیا کیونکہ پراسکیوشن نے مقررہ مدت کے دوران اپیل کے حق میں درکار دستاویزات جمع نہیں کرائی۔
مارچ میں ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نجیب رزاق کو کرپشن کے الزام سے بری کر دیا تھا کیونکہ پراسکیوشن یہ ثابت کرنے میں ناکام ہو گیا تھا کہ نجیب رزاق نے اپنی پوزیشن کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ون ایم ڈی بی کے حوالے سے آڈٹ رپورٹ کو پارلیمان میں پیش کرنے سے پہلے تبدیل کیا تھا تاکہ اس منصوبے میں کرپشن کو دبایا جا سکے۔
شفیع عبداللہ کا کہنا تھا کہ نجیب کی بریت کو مزید کسی کارروائی کے برقرار رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق انہیں نہیں لگتا کہ پراسکیوٹرز اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے۔
آڈٹ رپورٹ میں ردوبدل نجیب کے خلاف چلنے والے کرپش کے کئی کیسز میں سے ایک ہے۔
اس وقت وہ ’ون ایم ڈی بی‘ کرپشن کے ایک اور مقدمے میں 12 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں جس میں گزشتہ سال سپریم کورٹ نے بھی ان کی اپیل مسترد کر دی تھی۔

مبینہ طور پر 70 کروڑ ڈالر سے زیادہ نجیب رزاق کے بینک اکاؤنٹس میں جمع کرائے گئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)

ون ایم ڈی بی فنڈ نجیب رزاق کے 2009 میں وزیراعظم بننے کے چند مہینے بعد قائم کیا گیا تھا۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ اس فنڈ سے 4.5 ارب ڈالر چرائے گئے جو نجیب رزاق کے ساتھیوں نے کئی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے امریکہ اور دوسرے ممالک کو لانڈر کیے۔
پراسکیوشن کا الزام ہے کہ منی لانڈرنگ کے ان پیسوں سے کئی ہالی وڈ فلموں کی فنانسنگ کے علاوہ لگژری ہوٹلز، کروز شپ اور زیورات خریدے گئے۔
70 کروڑ ڈالر سے زیادہ نجیب کے بینک اکاؤنٹس میں جمع کرائے گئے تھے۔
کرپشن کے اس سکینڈل کے سامنے آنے کے بعد جب 2018 میں نجیب کی زیرقیادت اس وقت کی حکمران اتحاد کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا، تو نجیب رزاق اور ان کی بیوی روسمہ منصور کے خلاف کرپشن کے کئی کیسز کھل گئے۔
روسمہ منصور کو 2022 میں شمسی توانائی کے ایک منصوبے میں کرپشن کے الزام میں 10 سال قید اور دو کروڑ 17 لاکھ ڈالر جرمانے کی سزا دی گئی۔ روسمہ منصور اس وقت ضمانت پر رہا ہے اور سزا کے خلاف کی ان کی اپیل عدالت میں زیرسماعت ہے۔

شیئر: