Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایک ہفتے تک جاری رہنے والی شادی کی تقریبات، 40 ہزار مصریوں کی شرکت

علاقے کی قبائلی رسومات کا پرچار کرتے ہوئے مصر کے سیوہ نخلستان میں ایک مقامی باشندے کی ہفتہ بھر جاری رہنے والی شادی میں تقریباً 40 ہزار افراد نے شرکت کی۔ دُلہا احمد بلال کے لیے یہ تقریبات مصر اور لیبیا کی سرحد کے قریب مطروح کے علاقے میں منعقد ہوئیں۔ 
سیوہ کے ایک باسی محمود، جنہوں نے اس تقریب میں شرکت کی، نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا بتایا کہ ’ہمارے رواج اور روایات کے مطابق تقریبات کئی دنوں تک جاری رہتی ہیں، جس میں سیوہ سے باہر کے مہمانوں کے ساتھ ہماری پوری نخلستانی برادری شرکت کرتی ہے۔‘ 
دُلہا بلال کی خوشی کی خاطر سب سے اہم جشن قبیلے کے ایک بزرگ حاجی بلال احمد بلال السیوی کے گھر منعقد کیا گیا۔ 
 شادی کی ان تقریبات کی تیاریاں 21 روز تک جاری رہیں۔ مصر سے اور باہر سے مدعو کیے گئے لوگوں کے رہنے کے لیے ایک خیمہ لگایا گیا تھا۔ جانوروں کی قربانی اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے لیے کے لیے خاطر خواہ انتظامات کیے گئے تھے۔ 
نخلستان کے ایک 70 سالہ رہائشی مصطفیٰ نے کہا کہ ’یہاں سیوہ میں تقریبات سات دن اور سات راتوں تک جاری رہتی ہیں اور ان دنوں میں خیمے، سجاوٹ اور خاندان اور رشتہ داروں کی موجودگی ناگزیر ہوتی ہے۔‘
’احمد کی شادی کے لیے ہمارے پاس مصر کے تمام اضلاع، لیبیا اور سعودی عرب سے مہمان آئے تھے، اور ہم نے کئی روز خوشیوں سے بھرپور گزارے۔‘  
یہاں شادیوں میں ہزاروں لوگ شرکت کرتے ہیں، لیکن احمد کی شادی میں تقریباً 40 ہزار مہمانوں نے شرکت کی، جن میں مطروح کے گورنر میجر جنرل خالد شعیب سمیت مطروح کے اعلٰی افسران، عمائدین علاقہ اور بہت سے قبائلی نوجوان بھی شامل تھے۔ 
بچھڑوں اور بھیڑوں کو ذبح کیا گیا اور مہمانوں کے لیے بڑی ضیافتیں تیار کی گئیں جن کا انتظام 50 باورچیوں اور معاونین نے کیا تھا۔ کئی روز تک صرف کھانا لگانے کے لیے 750 کارکن معمور رہے۔
چائے، کافی، گرم اور ٹھنڈے مشروبات تیار کرنے اور پیش کرنے کے کام میں 200 افراد نے حصہ لیا جبکہ پھل پیش کرنے کے لیے سیوہ کے نوجوانوں کی مدد سے 300 افراد نے کام کیا۔ 
مصطفیٰ نے کہا کہ تقریبات کے دوران مقابلے ہوئے جن میں جیتنے والوں کو انعامات دیے گئے۔
محمود نے مزید بتایا کہ ’سیوہ اور مطروح میں خاندانی اور قبائلی تقریبات میں، امیر اور غریب، یا طاقتور اور کمزور میں کوئی فرق روا نہیں رکھا جاتا۔‘
’سب ایک ساتھ بیٹھ کر جشن مناتے ہیں۔ یہاں کی تقریبات پیار اور دوستی کی خصوصیات کی حامل ہوتی ہیں۔ نماز کے وقت ہر کوئی قطار میں کھڑا ہوتا ہے، اور کھانے کے وقت، سب ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔‘

شیئر: