انڈیا اور کینیڈا نے تعلقات بحال کرتے ہوئے ایک دوسرے کے دارالحکومتوں میں اپنے نئے ہائی کمشنر نامزد کر دیے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا ہے کہ کرسٹوفر کوٹر انڈیا میں کینیڈا کے نئے ہائی کمشنر ہوں گے۔
مزید پڑھیں
انہوں نے ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’نئے ہائی کمشنر کی تقرری کینیڈا کے اُس مرحلہ وار حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے جس کے ذریعے انڈیا کے ساتھ سفارتی تعلقات کو مضبوط کرنے اور دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
انڈیا کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی سپین میں اپنے موجودہ ایلچی دنیش پٹنائک کو جلد ہی اوٹاوا میں تعینات کرے گا۔
کینیڈا میں سکھ علیحدگی پسند رہنما کے قتل کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔
ہردیپ سنگھ نجر کو 18 جون 2023 کو وینکوور کے مضافات میں موجود گردوارے کی پارکنگ میں نقاب پوش حملہ آوروں نے گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔
The appointment of a new High Commissioner reflects Canada’s step-by-step approach to deepening diplomatic engagement and advancing bilateral cooperation with India. This is an important development toward restoring services for Canadians while strengthening the bilateral…
— Anita Anand (@AnitaAnandMP) August 28, 2025
اس واقعے کے کئی مہینوں بعد جسٹن ٹروڈو نے اعلان کیا تھا کہ کینیڈا کے پاس اس قتل میں انڈین انٹیلیجنس کے ملوث ہونے کے ’معتبر شواہد‘ موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انڈیا نے کینیڈا کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی۔
انڈیا نے ان الزامات کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور عارضی طور پر کینیڈین شہریوں کے ویزوں پر پابندی لگا دی تھی۔

کینیڈا میں سکھ علیحدگی پسند رہنما کے قتل میں انڈین عہدیداران کے ملوث ہونے کے الزامات کے بعد ایک نئے سفارتی تنازع نے جنم لیا تھا۔
کینیڈا کی حکومت نے انڈیا کے ہائی کمشنر سمیت پانچ دیگر سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا اور بعد میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے انڈیا نے بھی کینیڈا کے چھ سفارت کاروں کو ملک چھوڑ دینے کی ہدایت کی تھی۔
جون میں تعلقات میں اُس وقت بہتری آئی جب کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے انڈین وزیراعظم نریندر مودی کو البرٹا میں جی سیون سربراہی اجلاس میں مدعو کیا اور دونوں ممالک نے اپنے اعلیٰ سفارت کاروں کو بحال کرنے پر اتفاق کیا۔
انڈیا نے کینیڈا میں رہنے والے خالصتان تحریک کے حامیوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنے پر کینیڈا کو بارہا تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ خالصتان تحریک پر انڈیا میں پابندی عائد ہے تاہم اسے کینیڈا میں موجود سکھ برادری کی حمایت حاصل ہے۔ کینیڈا کی آبادی کا تقریباً 2 فیصد سکھ ہیں۔