Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا مشترکہ دفاعی معاہدہ تاریخ کا اہم سنگ میل ہے: بلاول بھٹو

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے جمعے کو مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ (فوٹو: پی ایم آفس پاکستان)
 پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ  میں طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ملکی تاریخ کا اہم سنگ میل اور تاریخی پیش رفت ہے، جس سے پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں مزید مضبوط ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ معاہدہ نہ صرف پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مستحکم اور محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے بلکہ خطے اور عالمی امن کے لیے بھی ایک اہم دستاویز ہے۔ 
بلاول بھٹو نے معاہدے کو ممکن بنانے میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو سراہا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے امت مسلمہ کی تاریخ میں فیصلہ کن پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مکہ سے دنیا کو مسلم دنیا کے اتحاد کا پیغام ملا ہے اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا یکجا ہونا مسلم ممالک کے لیے اہم پیش رفت ہے۔
مریم نواز نے وزیراعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوغان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اس سلسلے میں کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشترکہ دفاعی معاہدہ عالم اسلام میں اجتماعی سلامتی اور باہمی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے جمعے کو مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف مسلح جارحیت کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدے کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیت، باہمی تعاون اور جارحیت کے خلاف اجتماعی روک تھام کو مضبوط بنانا ہے۔
معاہدے پر وزیراعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوغان نے دستخط کیے۔ یہ معاہدہ تقریباً ایک سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد طے پایا۔
تینوں ممالک نے واضح کیا ہے کہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں اور اس کی نوعیت دفاعی ہے۔ سعودی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ معاہدہ کسی فوجی محور یا فرقہ وارانہ اتحاد کے قیام کی کوشش نہیں اور نہ ہی اسے جوہری عزائم یا اسلحے کی دوڑ سے جوڑا گیا ہے۔

شیئر: