Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نیپال: گزشتہ برس برفانی تودے کی زد میں آنے والے پانچ کوہ پیماؤں کی لاشیں مل گئیں

نیپال میں امدادی کارکنوں نے گزشتہ برس چین کی سرحد کے قریب برفانی تودے کی زد میں آ کر ہلاک ہونے والے پانچ کوہ پیماؤں کی لاشیں تلاش کر لی ہیں، جن میں تین غیر ملکی شامل ہیں۔ 
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مقامی حکام نے سنیچر کو بتایا کہ یہ کوہ پیما گزشتہ نومبر سے لاپتا تھے۔
گوری شنکر دیہی میونسپلٹی کے چیئرمین بشواس کارکی نے اے ایف پی کو بتایا کہ پانچ لاشیں ملی ہیں، جن میں تین غیر ملکی اور دو نیپالی شہری شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ غیر ملکی کوہ پیماؤں میں ایک اطالوی نژاد کینیڈین، ایک جرمن اور ایک اطالوی شہری شامل ہیں۔
یہ کوہ پیما 5,630 میٹر (18,471 فٹ) بلند یالونگ ری چوٹی کے نچلے حصے میں برفانی تودے کی زد میں آئے تھے۔ یہ چوٹی نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
بشواس کارکی کے مطابق مقامی افراد اور امدادی کارکنوں نے جمعرات کو لاشیں تلاش کیں، جبکہ مقامی انتظامیہ انہیں نکالنے کے لیے کارروائی کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ان کے لاپتا ہونے کے بعد سے ہم فوج، پولیس اور مقامی امدادی ٹیموں کی مدد سے مسلسل تلاش کر رہے تھے، تاہم شدید برف باری کے باعث لاشیں برف تلے دب گئی تھیں۔‘
مقامی پولیس کے سینئر افسر منوج کمار لاما نے بتایا کہ جمعے کو علاقے میں امدادی ہیلی کاپٹر بھیجا گیا تاہم خراب موسم کے باعث امدادی ٹیم جائے وقوعہ تک نہیں پہنچ سکی۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ’موسم بہتر ہوتے ہی ہماری امدادی ٹیم ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاشوں کو وہاں سے منتقل کرے گی۔‘
دنیا کی 10 بلند ترین چوٹیوں میں سے آٹھ، جن میں ماؤنٹ ایورسٹ بھی شامل ہے، نیپال میں واقع ہیں۔ ہر سال سیکڑوں کوہ پیما اور ٹریکرز ان پہاڑی علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔
کوہ پیمائی کی مہمات کے ریکارڈ محفوظ کرنے والے ادارے ’ہمالیائی ڈیٹا بیس‘ کے مطابق 1950 سے اب تک نیپال کی چوٹیوں پر ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں تقریباً ایک تہائی اموات برفانی تودے گرنے کے واقعات میں ہوئیں۔
 

شیئر: