Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ کی ’پیدائشی شہریت‘ پر پابندی، صدر ٹرمپ کامیاب ہو پائیں گے؟

صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے ایک بار پھر ان امور کو محدود کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے جن کی بنا پر غیرملکیوں کو امریکہ کی شہریت ملتی ہے اور اس میں وہاں جنم لینے پر شہریت کا حق بھی شامل ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق جمعرات کو صدر ٹرمپ نے چند ایسے احکامات جاری کیے تھے جن میں امریکی شہریت کے حصول کے دائرے کو تنگ کیا گیا تھا۔
اگرچہ جون میں امریکہ کی سپریم کورٹ نے ایسی ہی ایک کوشش کو ناکام بنا دیا تھا، تاہم اس بار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اب جو اقدامات کیے جا رہے ہیں ان میں عدالت کے سابق فیصلوں کو مدنظر رکھا گیا ہے اور انہی کی مناسبت سے ان میں ضروری تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔
دوسری جانب قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے باوجود بھی وائٹ ہاؤس کی جانب سے طے کی جانے والی نئی پابندیوں کو متوقع طور پر کافی قانونی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔
امریکی آئین کی 14 ویں ترمیم ملک کے اندر پیدا ہونے والے کسی بھی فرد کو شہریت کی ضمانت دیتی ہے تاہم صدر ٹرمپ کی حالیہ کوشش سے عیاں ہے کہ وہ اس کے لیے کافی سنجیدہ ہے۔

شہریت کا حق اور نئی تبدیلیاں

موجودہ قانون کے تحت امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے کسی بھی فرد کو چند شرائط کے ساتھ شہریت ملنے کی ضمانت حاصل ہے تاہم اب اس میں مخصوص شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد ہی شامل ہوں گے جبکہ باقی کو نکالنے کی کوشش کی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے بچوں کو پیدائشی طور پر شہریت نہیں ملے گی۔

صدر ٹرمپ نے امریکی شہریت کے حصول کے حوالے سے نئے احکامات جاری کیے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

امریکہ کے امیگریشن قوانین کے مطابق وہاں تعینات غیر ملکی سفارتی اہلکاروں، سفرا، وزرا، کونسلر، سیکریٹریز اور یورپی کمیشن کے وفد کے اراکین کے بچوں کو وہاں پیدا ہونے کی صورت میں بھی شہریت نہیں ملتی۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے جاری کیے احکامات میں ایک ان خواتین سے متعلق ہے جو سیاحت کے لیے امریکہ آئی ہوں اور وہاں ان کے ہاں بچے کی دلادت ہو، ایسے بچوں کو شہریت نہیں دی جائے گی۔
اسی طرح غیر ملکی سفارت خانوں، اقوام متحدہ یا دیگر تنظیموں کے لیے کام کرنے والے افراد کے بچے بھی اسی زمرے میں آئیں گے جبکہ ایسی کوئی تنظیم یا گروہ جن کو ’دہشت گرد‘ سمجھا جاتا ہے، سے تعلق رکھنے والے افراد کے بچوں کو شہریت نہیں دی جائے گی۔
تاہم دوسری جانب ماہرین کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ہونے والی اس کوشش کو بھی قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جیسا کہ پچھلی بار ہوا تھا اور بالآخر عدالت نے اس کو مسترد کر دیا تھا۔

امریکی آئین کی 14 ویں ترمیم ملک کے اندر پیدا ہونے والے کسی بھی فرد کو شہریت کی ضمانت دیتی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

اوہائیو یونیورسٹی سے وابستہ قانون کے پروفیسر سیزر کواٹیموک گارسیا ہرنینڈز اس بارے میں کہتے ہیں کہ ’وفاقی حکومت یہ کیسے طے کرے گی کہ کوئی بچہ کسی نامزد دہشت گرد تنظیم سے رکھنے والے کسی رکن کے ہاں پیدا ہوا ہے کیونکہ ایسی تنظیمیں اپنے ارکان کی فہرستوں کو عام نہیں کرتیں۔‘
علاوہ ازیں سروگیسی کے ذریعے شہریت کا معاملہ بھی ریپبلکن اراکینِ کانگریس کے لیے تشویش کا باعث ہے اور وہ اس پر بھی پابندی کی خواہاں ہے اور اس بارے میں رواں برس ایک بل بھی پیش کیا گیا تھا۔
اس بارے میں پروفیسر گارسیا ہرننیڈز کا کہنا ہے کہ سروگیسی سے متعلق نیا حکم نامہ نئے قانونی سوالات کو جنم دے سکتا ہے کیونکہ نہ تو آئین کی 14 ویں ترمیم اور نہ ہی سپریم کورٹ کی تشریح میں سروگیسی کے ذریعے پیدائش اور شہریت کا کوئی ذکر ہے۔

شیئر: