Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نیوزی لینڈ میں ڈاکٹروں نے 13 سالہ لڑکے کی آنتوں سے 100 مقناطیس نکال لیے

نیوزی لینڈ میں جنوری 2013 سے ایسے مقناطیس بیچنے پر پابندی عائد ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
نیوزی لینڈ میں ایک 13 سالہ لڑکے نے آن لائن خریدے ہوئے 100 ہائی پاور مقناطیس نگل لیے جس کی ہسپتال میں سرجری کی گئی ہے۔
گارڈین اخبار کی رپورٹ کے مطابق مقناطیس کو نکالنے کے لیے ڈاکٹروں کو اس کی آنتوں کے ٹشوز بھی ہٹانے پڑے۔
چار دن تک پیٹ میں درد رہنے کے بعد لڑکے کو نیوزی لینڈ کے نارتھ آئی لینڈ کے تورنگا ہسپتال لے جایا گیا۔
نیوزی لینڈ میڈیکل جرنل میں ہسپتال کے ڈاکٹروں کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘مریض نے تقریباً ہفتہ بھر قبل تقریباً پانچ ملی میٹر  کے 80 سے 100  ہائی پاور (نیوڈیمیم) میگنٹس کھانے کا انکشاف کیا۔‘
انہوں نے بتایا کہ نیوزی لینڈ میں جنوری 2013 سے ایسے مقناطیس بیچنے پر پابندی عائد ہے اور متاثرہ مریض نے یہ آن لائن شاپنگ پلیٹ فارم ٹیمو سے خریدے تھے۔
ایک ایکسرے نے دکھایا کہ میگنٹس بچے کی آنتوں کے اندر چار سیدھی لائنوں میں اکٹھے ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ مقناطیسی قوت کی وجہ سے آنتوں کے الگ الگ حصوں میں ایک ساتھ چپکے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔‘
لڑکے کا آپریشن کب کیا گیا اس حوالے سے کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ آن لائن شاپنگ پلیٹ فارم ٹیمو نے کہا ہے کہ اس نے نیوزی لینڈ میں حفاظتی تقاضوں کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ میگنٹس کے دباؤ کی وجہ سے لڑکے کی چھوٹی آنت اور بڑی آنت کے چار حصوں میں ٹشوز مردہ ہو گئے تھے جن کو ہٹانے کے لیے آپریشن کیا گیا۔
سرجنوں نے مردہ ٹشوز کو ہٹانے اور میگنٹ کو نکالنے کے لیے آپریشن کے آٹھ دن بعد مریض کو ہسپتال سے ڈسچارج کیا۔
میڈیکل جرنل میں لکھے مقالے کے مصنفین بنورا لیکاملاج، لوسندا ڈنکن-ویرے اور نکولا ڈیوس نے کہا کہ ’یہ کیس نہ صرف مقناطیس کے نگلنے کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے بلکہ ہماری کم عمر آبادی کو آن لائن مارکیٹ سے درپیش خطرات کو بھی اجاگر کرتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ میگنٹس کے نکالنے کے لیے کی گئی سرجری مستقبل میں مریض کی زندگی میں طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے جیسے کہ آنتوں میں رکاوٹ، پیٹ کا ہرنیا اور دائمی درد وغیرہ کی شکایت ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ مریض نے یہ آن لائن شاپنگ پلیٹ فارم ٹیمو سے خریدے تھے۔ فائل فوٹو: فری پکس

ٹیمو کمپنی کے ایک ترجمان نے بیان میں کہا ہے کہ لڑکے کی سرجری کے بارے میں معلوم ہونے پر افسوس ہوا۔ ’ہم نے ایک داخلی جائزہ شروع کیا ہے اور کیس کے بارے میں مزید تفصیلات حاصل کرنے کے لیے نیوزی لینڈ میڈیکل جرنل کے مضمون کے مصنفین سے رابطہ کیا ہے۔‘
بیان کے مطابق ’اس مرحلے پر ہم اس بات کی تصدیق نہیں کر سکے کہ آیا مذکورہ مقناطیس ٹیمو کے ذریعے خریدے گئے تھے یا مخصوص پروڈکٹ کی فہرست کی نشاندہی کی گئی۔ بہرحال ہماری ٹیمیں مقامی حفاظتی تقاضوں کی مکمل تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ فہرستوں کا جائزہ لے رہی ہیں۔‘
چین کی قائم کردہ ای کامرس کمپنی ٹیمو یورپی یونین سمیت مارکیٹوں میں مبینہ طور پر اپنے پلیٹ فارم سے غیرقانونی مصنوعات کو ختم کرنے کے لیے ناکافی کارروائی پر تنقید کی زد میں ہے۔

 

شیئر: