Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’الملہ‘: الباحہ کے پرانے مکانات کو گرم رکھنے کا قدیم طریقہ

الباحہ میں رہائشی عمارتیں تاریخی طور پر موسم کے مطابق تعمیر کی جاتی تھیں۔ حرارت اور ٹھنڈک کی جدید ٹیکنالوجیز کے بغیر، یہ عمارتیں قدرتی طور پر درجۂ حرارت کو متوازن رکھتی تھیں اور ساتھ ہی مقامی روایات کی عکاسی بھی کرتی تھیں۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق ان مکانات کی ایک خاص بات ’الملہ‘ہے جو سردیوں میں گرم رکھنے، کھانا پکانے اور کافی پینے کے لیے لوگوں کے جمع ہونے کی جگہ ہوتی تھی۔
عام طور پر مکانات کے ایک کونے میں موجود ’الملہ‘ مٹی سے بنا ہوا ایک حصہ ہوتا ہے جس کا سائز تقریباً ایک سے ڈیڑھ میٹر ہوتا ہے اور اس میں لکڑی کی آگ پر کھانا پکانے کے لیے لوہے کا سٹینڈ لگا ہوتا ہے۔
اس میں کھانا پکانے کے خاص اوزار استعمال ہوتے تھے جن میں صاج (روٹی پکانے کی لوہے کی گول پلیٹ)، المجرف اور المحماص (کافی کے دانے بھوننے کے لیے لوہے کا چمچ)، اور بھنی ہوئی کافی پیسنے کے لیے پیتل کا ہاون دستہ شامل تھا۔
آج کے دور میں چمنی کی طرح ’الملہ‘ ایک ضرورت کے بجائے جدید سعودی گھروں میں ایک سجاوٹی عنصر بن چکی ہے۔ اب اسے اس کی گرمی اور ثقافتی اہمیت کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

شیئر: