لاہور میں بسنت میلہ شروع: پتنگیں نہیں بلکہ خوشیاں اُڑ رہی ہیں، مریم نواز
لاہور میں بسنت میلہ شروع: پتنگیں نہیں بلکہ خوشیاں اُڑ رہی ہیں، مریم نواز
جمعہ 6 فروری 2026 9:21
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں آج سے 3 روزہ بسنت فیسٹیول کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے اور اس وقت آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے سجا نظر آ رہا ہے۔
پتنگ بازی کے لیے اندرون لاہور شہریوں نے کرائے پر چھتیں حاصل کر رکھی ہیں جہاں جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب سے ہی محفلیں سجی ہوئی ہیں۔
’بسنت تھیم‘ سے پورا شہر رنگوں میں نہایا ہوا ہے اور اس فیسٹیول کی مناسبت سے مختلف علاقوں میں میوزک شوز، فوڈ فیسٹیولز اور دستکاری نمائشوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔
لاہور میں تین روزہ بسنت میلے کے بھرپور آغاز پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ ’شہری اپنی پریشانیاں بھلا کر نیلے آسمان میں اُڑتی پتنگوں اور خوشیوں پر توجہ دیں، کیونکہ آج لاہور میں صرف پتنگیں نہیں بلکہ خوشیاں اُڑ رہی ہیں۔‘
جمعے کو اپنے بیان میں مریم نواز نے ’زندہ دلانِ لاہور کا شکریہ‘ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ بسنت کی خوشیاں منائیں، حکومت آپ کے ساتھ ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ خوشی کے ہر لمحے میں اپنے اردگرد کے لوگوں کو بھی شریک کریں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے بسنت کو پنجاب کا ثقافتی ورثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں اپنی ثقافت پر فخر ہے، تاہم بسنت کے تہوار پر ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دینا ہوگا۔‘
انہوں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ موٹرسائیکل کے بجائے ہر روٹ پر فراہم کی جانے والی مفت پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دیں۔
’عوام کی مفت آمدورفت کے لیے تینوں دن 419 بسیں دستیاب ہوں گی، جبکہ بسنت کے موقع پر 60 ہزار سے زائد فری رائیڈز فراہم کی جائیں گی۔‘
بسنت کی مناسبت سے میوزک شوز، فوڈ فیسٹیولز اور دستکاری نمائشوں کا اہتمام کیا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے بتایا کہ ’اورنج لائن میٹرو ٹرین میں 25 سیٹ مسافروں کو مفت سفر کی سہولت دی جائے گی۔ اس کے علاوہ میٹرو بس، فیڈر بسیں اور گرین بسیں بھی مفت سفر کی سہولت مہیا کریں گی۔ چھ ہزار یینگو رکشوں پر بھی فری رائیڈ دی جائے گی۔‘
وزیراعلیٰ نے عوام پر زور دیا کہ حفاظتی اقدامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور صرف مقررہ سائز اور معیار کے مطابق پتنگیں اور ڈور استعمال کی جائیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ممنوعہ ڈور کے استعمال پر بھاری جرمانے اور طویل قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ پتنگ بازی کے لیے دھاتی تار، تندی، بلٹ پروف مٹیریل اور چرخی کا استعمال غیر قانونی قرار دیا گیا ہے، جبکہ سول ایوی ایشن کے علاقوں میں پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہوگی۔
مریم نواز نے واضح کیا کہ موٹرسائیکل اور موٹرسائیکل رکشوں پر سیفٹی راڈز کا استعمال لازمی ہوگا۔ انہوں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ رجسٹرڈ مینوفیکچررز، سیلرز اور دکانداروں سے کیو آر کوڈ لگی ڈور اور پتنگیں ہی خریدی جائیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے دکانداروں سے اپیل کی کہ وہ عوام، بالخصوص بچوں کی خوشیوں کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں اور ڈور اور پتنگیں مہنگی فروخت نہ کریں۔
مریم نواز نے کہا کہ ’شہری اپنی پریشانیاں بھلا کر نیلے آسمان میں اُڑتی پتنگوں اور خوشیوں پر توجہ دیں‘ (فوٹو: اے پی پی)
ان کا کہنا تھا کہ بسنت کے موقع پر عوام کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کیا گیا ہے، جبکہ تحفظ کے لیے ہر تحصیل میں 15 محکموں پر مشتمل کوئیک رسپانس ٹیمیں بھی قائم کر دی گئی ہیں۔
مریم نواز نے کھلی چھتوں پر پتنگ بازی کے دوران خصوصی احتیاط کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر چھت پر منڈیر موجود نہ ہو تو اطراف میں کم از کم نائیلون کی ڈور ضرور باندھی جائے۔ حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی میں کھلی چھت پر پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ بسنت کے موقع پر تھرمل ڈرونز کے ذریعے نگرانی جاری رہے گی۔ پولیس، ٹریفک وارڈنز، انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے عوام کی مدد کے لیے موجود ہوں گے، شہری بھرپور تعاون کریں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ بسنت کا تہوار خوشی، ذمہ داری اور حفاظت کے ساتھ منایا جائے