Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی فلم کونفیکس میں بڑی سعودی کمپنیوں اور عالمی ستاروں کی شرکت

سعودی فلم کونفیکس سینچر 25 اکتوبر کو اختتام پزیر ہو گیا، ریاض میں ہونے والے کونفیکس میں بڑی بڑی سعودی کمپنیوں اور عالمی ستاروں نے شرکت کی۔
اس ایونٹ سے نہ صرف فلمی صنعت میں مملکت کے بڑھتے ہوئے اثر کا اظہار ہوتا ہے بلکہ اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ مملکت میں تخلیقی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
سعودی فلم کونفیکس تین برس سے منعقد ہو رہا ہے اور مملکت کی تخلیقی صنعتوں کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بن گیا ہے۔
مقامی ٹیلنٹ، بین الاقوامی سٹوڈیوز اور سرمایہ کار ایک ہی جگہ ہوتے ہیں۔ اس سال کے ایونٹ نے شرکا کو ایک بڑی نمائش، ورکشاپس، پینل گفتگتو اور نیٹ ورکنگ کے مواقع فراہم کیے۔
فلم العلا کے قائم مقام ایگزیکٹیو ڈائریکٹر زید شاکر نے فلسمازی کے میدان میں مملکت میں ہونے والی ترقی کے بارے میں کہا کہ ’اسے اور کیا کہیں گے سوائے اس کے کہ یہ ایک زبردست تبدیلی ہے۔ سعودی فلمسازی صرف آگے نہیں بڑھ رہی بلکہ تبدیلی کے برق رفتار تجربے سے گزر رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’صرف چند برسوں میں فلمی صنعت نوزائیدگی سے فعالیت کی جانب چل پڑی ہے۔ داستان گوئی ہمشیہ سعودی ثقافت کا حصہ رہی ہے چاہے موقع زبانی کہانیاں سنانے کا ہو یا شاعری کا اور فلم اس روایت کا ایک نیا باب ہے، خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے۔
فلم العلا اس بڑی تبدیلی کو آگے بڑھانے میں نمایاں ہوکر سامنے آیا ہے جس نے انفراسٹرکچر، ترغیبات اور قدرتی پس منظر فراہم کیے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی فلم پروڈیوسرز کی توجہ اس جانب مبذول ہوئی ہے۔
العلا نے کئی عالمی منصوبوں کی میزبانی کی ہے جن میں ’قندھار‘ بھی شامل ہے جس میں مشرقِ وسطٰی کی انتہائی جاذبِ نظر لوکیشنز میں سے ایک دیکھنے کو ملتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ صرف العلا میں ’ہم نے فلمی صنعت کے سب سے بڑے ایم بی سٹوڈیوز کے ساتھ شراکت میں دنیا کا بہترین انفراسٹرکچر قائم کیا ہے۔
فلم العلا کی شراکت، ممکت کے تخلیقی ایکو سسٹم میں پھیلی ہوئی ہے۔ زید شاکر نے خاص طور پر ریڈ سی فنڈ کے ساتھ شراکت کا ذکر کیا جس نے ’ہجرہ‘ فلم کی ’کو پروڈکشن‘ میں تعاون کیا اور جسے کلی طور پر العلا میں فلمایا گیا۔
ان شراکتوں سے فلم سازوں کی ایک نئی نسل کے لیے بنیاد قائم ہو رہی ہے جس کا تعلق اس ریجن سے ہے اور جو یہاں سے متاثر بھی ہے۔ ہم نہ صرف ایک انڈسٹری قائم کر رہے ہیں بلکہ ایک ثقافتی میراث بھی پیدا کر رہے ہیں جس میں سعودی عرب کے خوبصورت مناظر، لوگ اور کہانیاں دیکھنے کو ملیں گی۔

فلم العلا وژن میں سیاحت، تعلیم اور ورثے کے تحفظ کا درجہ بھی اہم ہے جو العلا کو ایک ثقافتی منزل اور مملکت میں مستقبل کے کہانیاں سنانے والوں کے لیے تخلیقی تجربہ گاہ کے طور پر سامنے لا رہا ہے۔
سعودی فلم کونفیکس میں ’عریبیہ پکچرز‘ جو آئیڈیاز کو دانشورانہ اثاثوں میں تبدیل کرنے کے لیے وقف ایک تخلیقی بوتیک ہے، مسلسل تیسری بار ایونٹ میں شریک ہوا۔
یہ ادارہ مالی امداد اور انڈسٹری کے لیے ضروری مہارت دونوں فراہم کرتا ہے ۔ کمپنی کے پورٹفولیو میں فلم، سیریز، گیمز اور ایونٹس شامل ہیں اور یہ عربی کہانیوں کو عالمی صارفین کی زبان میں ڈھالتا ہے اور بین الاقوامی برانڈز کے ساتھ شرکت کے لیے بھی کام کرتا ہے۔

فلم کونفیکس میں پہلی مرتبہ شرکت کرنے والی ’سعودی انٹرٹینمنٹ اکیڈمی‘ نے، جو مشرقِ وسطٰی میں پہلی منظور شدہ تفریحی اکیڈمی ہے، کونفیکس میں موجود افراد اور انڈسٹری کے پرفیشنلز دونوں سے خوب توجہ حاصل کی۔
 سنہ 2019 میں وجود میں آنے والی یہ ادارہ ایسے تربیتی پروگرام مرتب کرتا ہے جن کی تکمیل کے فوری بعد انٹرٹینمنیٹ اور مینجمنٹ کے شعبوں میں ملازمت مل  جاتی ہے۔ کمپنی کے سی ای او ایہاب ابوررکاب کا کہنا تھا کہ’ کونفیکس نے شمولت اور شراکت کے قابلِ قدر مواقع فراہم کیے ہیں۔‘
سعودی فلم کونفیکس صنعتی نمو کے لیے ایک متحرک انجن بن چکا ہے جو فلمسازوں، پروڈیوسرز اور سرمایہ کاروں کو باہم ملاتا ہے اور ریجن میں سینما کے مرکز کے طور پر سعودی عرب کے امکانات کو اجاگر کرتا ہے۔

اس ایونٹ کی کامیابی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وژن 2030  کے تحت قوم ایک وسیع ثقافتی تبدیلی سے گزر رہی ہے جس میں فلم اور تفریح، معشیت کو متنوع بنانے میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں اور دنیا کو مستند سعودی کہانیاں سنا رہے ہیں۔
اشتراک میں اضافے اور مقامی ٹیلنٹ کی پرورش اور تربیت کے علاوہ عالمی مہارتوں کو متوجہ کر کے سعودی فلم کونفیکس، مملکت میں فلمی صنعت کے سب سے بڑے ایونٹ کے طور پر اپنی حیثیت مستحکم کرتا جا رہا ہے۔ یہ ایونٹ اُس خواہش اور تخلیقی توانائی کا آئینہ دار ہے جس کے جلو میں سعودی عرب نئے ثقافتی زمانے میں داخل ہو رہا ہے۔

 

شیئر: