وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، پاکستان کی فضائیہ اور بحریہ کے سربراہان اور دیگر اعلیٰ حکام تقریب میں شریک ہوئے۔
صدر مملکت نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر جمعرات کے روز جسٹس امین الدین خان کو آئینی عدالت کا چیف جسٹس مقرر کیا تھا۔
صدر آصف علی زرداری کی جانب سے جسٹس امین الدین کے تقرر کی منظوری کے بعد وزارت قانون وانصاف نے انہیں آئینی عدالت کا پہلا چیف جسٹس مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق امین الدین خان کا بطور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کا اطلاق عہدے کا حلف لینے کے دن سے ہوگا۔
جسٹس امین الدین خان کون ہیں؟
جسٹس امین الدین خان 1960 میں ملتان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے یونیورسٹی لا کالج ملتان سے 1984 میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور ملتان کی مقامی عدالت میں پریکٹس شروع کی۔
جسٹس امین الدین خان کو 2011 میں لاہور ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔ 2019 میں انہیں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔
انہیں نومبر 2024 میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کا سربراہ بنایا گیا تھا، جبکہ سپریم کورٹ کے ججوں میں سینیارٹی میں چوتھے نمبر پر تھے۔
وفاقی آئینی عدالت کے ججز کا نوٹیفکیشن جاری
وزارت قانون نے وفاقی آئینی عدالت کے ججز کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے 6 ججز ہوں گے، آئینی عدالت میں جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق ہوں گے۔
وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس علی باقر نجفی، جسٹس کے کے آغا جج ہوں گے، بلوچستان سے جسٹس روزی خان آئینی عدالت کے جج ہوں گے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پشاور ہائی کورٹ سے جسٹس ارشد حسین شاہ آئینی عدالت کے جج ہوں گے۔
جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ مستعفی
سپریم کورٹ کے دونوں ججوں نے جمعرات کے روز اپنے استعفے صدر کو بھیج دیے تھے (فائل فوٹو: سپریم کورٹ)
قبل ازیں جمعرات کو ہی 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے عہدے سے استعفی دے دیا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے صدر مملکت کو بھیجے گئے استعفیٰ میں لکھا کہ ’27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر سنگین حملہ ہے، 27ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں صاف ضمیر کے ساتھ جا رہا ہوں اور مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ میں نے ادارے کی عزت، ایمان داری اور دیانت کے ساتھ خدمت کی۔‘
سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک اور سینیئر جج، جسٹس اطہر من اللہ نے بھی جمعرات کو اپنا استعفیٰ صدرِ مملکت کو بھیج دیا۔
انہوں نے 27ویں آئینی ترمیم پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’نئے نظام کی بنیاد اب آئین کے مزار پر رکھی جا رہی ہے اور جو باقی رہ گیا ہے وہ صرف ایک سایہ ہے، آئینی روح سے خالی ہے۔‘