Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کا شہر مِٹھی، جہاں رمضان ہندوؤں اور مسلمانوں کو اور قریب لے آتا ہے

مٹھی میں ہندو مسلمانوں کے لیے افطاری کا اہتمام کرتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
مسلم اکثریت رکھنے والے پاکستان میں ایک ہندو پرتاب شیوانی برسوں سے رمضان کے دوران کچھ روزے رکھتے رہے ہیں تاہم اس بار کچھ مختلف صورت حال یوں ہے کہ اس بار وہ تمام روزے رکھ رہے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صوبہ سندھ کے جنوب مشرقی شہر مٹھی میں پرتاب شیوانی اپنے دوستوں کے ساتھ افطاری کا اہتمام کرتے ہیں تاکہ دونوں مذاہب کے درمیان امن و یکجہتی کو فروغ دیا جا سکے۔
ارتالیس سالہ سماجی کارکن پرتاب شیوانی نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا ماننا ہے کہ بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، پہلے ہم انسان ہیں مذاہب بعد میں آتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ بدھ ازم کی تعلیمات کا بھی مطالعہ کرتے ہیں۔
’ان کا پیغام امن اور جنگوں کے خاتمے کے بارے میں ہے۔ امن یکجہتی اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے سے پھیل سکتا ہے جبکہ فاصلہ لوگوں کے درمیان صرف فاصلہ بڑھاتا ہے۔‘
پاکستان میں 96 فیصد مسلمان ہیں اور صرف دو فیصد ہندو ہیں ان میں سے زیادہ تر سندھ کے دیہی علاقوں میں رہتے ہیں جہاں پر مٹھی شہر بھی ہے۔
مٹھی کے ساٹھ ہزار رہائشیوں میں سے زیادہ تر ہندو ہیں۔
یہاں کے بہت سے ہندو رمضان میں روزے رکھتے ہیں اور افطاری ایک سماجی اجتماع میں ڈھل گیا ہے جہاں دونوں مذاہب کے لوگ خوشی سے شرکت ہیں۔
شیوانی کی جانب سے دیے گئے افطار میں شرکت کرنے والے اکیاون سالہ میر محمد بلیدی کا کہنا ہے کہ ’ہماری یہ ’ہماری یہ شاندار روایت طویل عرصے سے چلی آ رہی ہے۔‘
ان کے مطابق ’یہ دونوں مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کی ایک خوبصورت مثال ہے۔‘
پاکستان میں اقلیتوں سے امتیازی سلوک کا سلسلہ بہت گہرا ہے۔
1947 میں انگریز دور کے خاتمے کے بعد برصغیر دو مسلم اور ہندو اکثریت والے ممالک پاکستان اور انڈیا میں بٹا۔

مٹھی میں ہندو مذہب میں مقدس سمجھی جانے والی گائیں انڈیا کی طرح آزادانہ گھومتی پھرتی نظر آتی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

جس کے بعد بڑے پیمانے مذہب کی بنیاد پر خونریزی بھی ہوئی جس میں بڑی تعداد میں لوگ جانوں سے گئے اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔
ہیومن رائٹس کمیشی آف پاکستان کے مطابق مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر آزادی کو مسلسل خطرات لاحق ہیں اور مذہبی بنیادوں پر تشدد اور امتیازی سلوک کے واقعات میں سالانہ طور پر اضافہ ہو رہا ہے۔
تاہم مٹھی ایسی صورت حال دیکھنے کو نہیں ملتی۔

’بھائیوں کی طرح رہتے ہیں‘

ایک مقامی سیاست دان سشیل میلانی کا کہنا ہے کہ ’میں ہندو ہوں لیکن اس مہینے کے تمام روزے رکھتا ہوں، میں اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہو کر خوشی محسوس کرتا ہوں۔‘
ان کے مطابق ’ہم ایک ساتھ عید بھی مناتے ہیں اور علاقے میں یہ روایت بہت پرانی چلی آ رہی ہے۔‘
پاکستان بھر میں رمضان کے دوران ریستوران اور ٹی سٹالز کو بند کر دیا جاتا ہے۔
52 سالہ رمیش کمار جو مسلمانوں کے مزارات کے باہر مٹھائیاں اور دوسری اشیا فروخت کرتے ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ افطار تک اپنی ریڑھی کو ڈھانپ کر رکھتے ہیں۔
’ہمارے درمیان کوئی فرق نہیں چاہے کوئی ہندو ہو یا مسلمان، میں یہ سب بچپن سے دیکھتا آ رہا ہوں اور ہم بھائیوں کی طرح رہتے ہیں۔‘

پاکستان میں مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے واقعات بھی ہوتے رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

مسلمانوں کی درگاہیں اور ہندو نگران

گائے کو ہندو مذہب میں مقدس مانا جاتا ہے وہ اس علاقے میں آزادانہ طور پر گھومتی پھرتی ہیں جیسا کہ پڑوسی ملک انڈیا میں ہوتا ہے۔

شہر کے وسط میں دو صوفیا کے مزارات پر ہندو خاندان مسلمانوں کے لیے افطاری کا اہتمام کرتے ہیں اور ان کے لیے کھانے پینے کا سامان لاتے ہیں۔ موہن لال نامی ایک ہندو شخص اس کے نگران ہیں۔
ان کے مطابق ’ہم مسلمانوں کا احترام کرتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ والدین اور بزرگوں نے ان کو مذہب یا رنگ سے بالاتر ہو کر لوگوں کے احترام کا سبق دیا ہے۔

شیئر: