پاکستان کی شیلنگ سے تین شہری ہلاک ہوئے، افغان حکومت کا دعویٰ
پاکستان کی شیلنگ سے تین شہری ہلاک ہوئے، افغان حکومت کا دعویٰ
بدھ 11 مارچ 2026 18:24
افغانستان کی طالبان حکومت نے کہا ہے کہ جنوب مشرقی افغانستان میں پاکستان کی جانب سے سرحد پار مارٹر اور توپ خانے کی فائرنگ کے نتیجے میں تین شہری ہلاک ہو گئے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے بدھ کو میڈیا کو ایک آڈیو پیغام میں بتایا کہ یہ ہلاکتیں منگل کو صوبہ پکتیا کے ضلع ڈنڈ پتن کے گاؤں کوٹ میں ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ایک گولہ گھروں پر آ کر گرا جس کے باعث تین شہری ہلاک جبکہ تین زخمی ہو گئے۔‘
جنوب مشرقی افغانستان میں موجود ایک میڈیکل سورس نے بھی اے ایف پی کے نمائندے کو تین شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
پاکستان کا موقف ہے کہ اس کی افواج شہریوں کو نشانہ نہیں بناتیں۔ تاہم دونوں جانب سے سامنے آنے والے جانی نقصان کے دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا مشکل ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’آپریشن غضب للحق میں 11 مارچ تک فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے 641 افراد ہلاک اور 855 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔‘
انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ ’اس آپریشن میں 243 چیک پوسٹس تباہ کی گئی ہیں جبکہ 42 قبضے میں ہیں۔ اس کے علاوہ 219 ٹینکوں، آرمڈ گاڑیوں اور توپ خانے کو تباہ کیا گیا ہے۔ فضائی حملوں میں دہشت گردوں کے 65 مقامات کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔‘
خیال رہے کہ سرحد پار جھڑپوں کا سلسلہ کئی ماہ سے جاری ہے اور 26 فروری کے بعد ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا، جب افغانستان نے سرحدی علاقے میں کارروائی شروع کی، جسے اس نے اس سے قبل ہونے والے پاکستانی فضائی حملوں کا ردعمل قرار دیا۔
اس کے بعد پاکستان نے طالبان حکام کے خلاف ’کھلی جنگ‘ کا اعلان کیا اور کابل اور قندھار پر حملے کیے۔
26 فروری کے بعد سے سرحدی علاقوں میں باقاعدگی سے جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
حمد اللہ فطرت کے مطابق پاکستان نے سرحد کے ساتھ ساتھ ’سینکڑوں مارٹر اور توپ خانے کے گولے‘ فائر کیے جس سے شہریوں کا جانی نقصان ہوا۔
26 فروری کے بعد سے سرحدی علاقوں میں باقاعدگی سے جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے مزید بتایا کہ منگل کو مشرقی صوبہ خوست میں بھی دو شہری زخمی ہوئے۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن (یوناما) کی ایک رپورٹ کے مطابق 26 فروری سے پانچ مارچ کے درمیان پاکستانی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں افغانستان میں 56 شہری ہلاک ہوئے، جن میں 24 بچے بھی شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق ان جھڑپوں کے باعث تقریباً ایک لاکھ 15 ہزار افراد اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔