Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لاہور میں بسنت کے بعد بھی بسنت جاری، پتنگ بازی کرنے والے درجنوں افراد گرفتار

پولیس نے ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے چھتوں کی نگرانی کی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
لاہور میں بیس سال بعد منائی جانے والی بسنت کو گزرے ایک مہینے کا وقت ہو چکا ہے۔ تاہم بسنت کے بعد پتنگ بازی کے شوقین افراد اپنے اس شوق پر قابو نہیں رکھ پا رہے۔  
تہوار کے اختتام کے بعد پنجاب حکومت نے پتنگ بازی پر مکمل پابندی نافذ کر رکھی ہے، لیکن سرکاری اعدادوشمار کے مطابق فروری کے دوسرے ہفتے سے لے کر مارچ کے اوائل تک لاہور پولیس نے شہر بھر میں متعدد آپریشنز کیے ہیں جن میں کئی افراد کو گرفتار کیا گیا اور ہزاروں پتنگیں اور ڈوریں ضبط کی گئی ہیں۔
بسنت 2026 کا تہوار فروری 6 سے 8 تک منایا گیا جو لاہور کی ثقافتی تاریخ میں ایک نئے موڑ کی طرح محسوس ہوا۔ حکومت نے اسے محدود اور محفوظ بنانے کے لیے سخت قواعد وضع کیے تھے جیسے پتنگوں اور ڈور کی اقسام، کیمیکل ڈور پر پابندی اور پولیس کی نگرانی۔ تاہم، تہوار کے دوران بھی کچھ خلاف ورزیاں سامنے آئیں، جن میں غیرقانونی پتنگوں کا استعمال شامل تھا۔ تہوار ختم ہوتے ہی لاہور پولیس نے دوباری پابندی کے نفاذ کا اعلان کیا۔  
تاہم صورت حال تھوڑی مختلف رہی۔ فروری 9 سے شروع ہونے والے دنوں میں لاہور پولیس نے شہر کے مختلف ڈویژنوں میں سرچ آپریشنز کا آغاز کیا۔ ابتدائی طور پر توجہ ان علاقوں پر تھی جہاں بسنت کے دوران پتنگ بازی کی سرگرمیاں زیادہ دیکھی گئی تھیں، جیسے اندرون شہر، اچھرہ، سمن آباد اور گلبرگ۔
پولیس کی ٹیمیں رات گئے چھتوں پر چھاپے مارتی رہیں، جہاں نوجوان اور بچے چپکے سے پتنگ اڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایک ابتدائی رپورٹ کے مطابق، فروری کے تیسرے ہفتے میں تقریباً 50 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا، جن سے دو ہزار سے زیادہ پتنگیں برآمد ہوئیں۔
مارچ کے آغاز تک، کریک ڈاؤن کی شدت میں اضافہ دیکھا گیا۔ 2 مارچ کو لاہور پولیس نے ایک بڑا آپریشن کیا، جس میں شہر کے جنوبی اور مشرقی علاقوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس آپریشن کے دوران تقریباً 30 افراد کو گرفتار کیا گیا اور ایک ہزار  سے زائد غیرقانونی پتنگیں ضبط کی گئیں۔

یہ آپریشن خاص طور پر ان علاقوں میں کیا گیا جہاں عوامی شکایات میں اضافہ دیکھا گیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

پولیس نے ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے چھتوں کی نگرانی کی۔ گرفتار ہونے والوں میں کچھ دکاندار بھی شامل تھے، جو پابندی کے باوجود پتنگ اور ڈور فروخت کر رہے تھے۔ یہ آپریشن خاص طور پر ان علاقوں میں کیا گیا جہاں رہائشیوں نے پتنگ بازی کی وجہ سے شور شرابے اور ممکنہ حادثات کی شکایات درج کروائی تھیں۔
اتوار 8 مارچ کو، جو بسنت کے خاتمے کے تقریباً ایک ماہ بعد کا دن تھا، لاہور پولیس نے ایک اور بڑا کریک ڈاؤن کیا۔ اس دن شہر کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشنز کیے گئے، جن میں اندرون لاہور، گلبرگ اور ڈیفنس سمیت متعدد جگہوں پر چھاپے مارے گئے۔ پولیس کی ٹیموں نے رات گئے چھتوں پر پتنگ اڑانے والوں کو نشانہ بنایا، اور تقریباً 20 سے زائد افراد کو موقع پر گرفتار کیا گیا۔ ان سے 500 سے زیادہ پتنگیں اور ڈوریں ضبط کی گئیں۔ یہ آپریشن خاص طور پر ان علاقوں میں کیا گیا جہاں عوامی شکایات میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔
ایس پی ڈالفن پولیس اسامہ امین چیمہ نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’موسم کی تبدیلی کے ساتھ پتنگ بازی کی سرگرمیاں نظر آئی ہیں، لیکن حکومت کی پالیسی واضح ہے کہ کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ گرفتار ہونے والوں میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل تھے جو بسنت کے دوران بچ جانے والے سامان کا استعمال کر رہے تھے۔ یہ کارروائیاں صرف گرفتاریوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ قانونی کارروائی بھی شامل ہے۔‘

ڈرونز، سی سی ٹی وی اور مقامی انٹیلی جنس کی مدد سے سرگرمیوں پر نظر رکھی جا رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

خیال رہے کہ پتنگ بازی کی خلاف ورزی پر پنجاب کے قوانین کے تحت 5 سال تک کی قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔ پولیس نے متعدد کیسز درج کیے ہیں، جن میں سے کچھ عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ شہر بھر میں نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔
ڈرونز، سی سی ٹی وی اور مقامی انٹیلی جنس کی مدد سے سرگرمیوں پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ مجموعی طور پر 8 فروری  کے بعد سے اب تک 150 سے زائد گرفتاریاں ہو چکی ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پابندی کی خلاف ورزیاں اب بھی جاری ہیں۔

 

شیئر: