سعودی امریکہ کاروباری تعلقات ’مضبوط پوزیشن میں‘: یو ایس چیمبر آف کامرس
سعودی امریکہ کاروباری تعلقات ’مضبوط پوزیشن میں‘: یو ایس چیمبر آف کامرس
منگل 18 نومبر 2025 6:34
سٹیو لوٹس نے کہا کہ آج ہمارے تجارتی اور اقتصادی تعلقات بہت مضبوط ہیں۔ (فوٹو: عرب نیوز)
امریکی چیمبر آف کامرس کے ایک عہدیدار نے ولی عہد محمد بن سلمان کے دورے سے قبل عرب نیوز کو بتایا کہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان کاروباری اور سرمایہ کاری کے تعلقات ’مضبوط پوزیشن‘ میں ہیں۔
تنظیم کے مشرقِ وسطیٰ کے امور کے نائب صدر سٹیو لوٹس نے ریاض اور واشنگٹن کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو ’پائیدار اور مضبوط‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے دورے ’اہم سنگِ میل ہوتے ہیں، یہ یادگار مواقع ہوتے ہیں۔‘
ولی عہد کا دورہ ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب سعودی عرب کا وژن 2030 اصلاحاتی پروگرام اپنے 10 سال مکمل کرنے کے قریب ہے، اور امریکی کمپنیاں تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی منڈیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی عالمی حکمتِ عملیوں پر ازسرِ نو غور کر رہی ہیں۔
امریکہ کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2023 میں سامان اور خدمات کی مجموعی تجارت 35 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کے ساتھ واشنگٹن مستقل طور پر مملکت کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شامل رہا ہے۔
توانائی اب بھی ایک اہم ستون ہے، لیکن اب کلاؤڈ کمپیوٹنگ، بایوٹیکنالوجی اور قابلِ تجدید توانائی کے انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں شراکت داری کی نئی قسمیں بھی ابھر رہی ہیں۔ یہ سب مملکت کے معاشی نظام میں آنے والی بڑی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔
لوٹس نے کہا کہ امریکی کمپنیوں نے وژن 2030 کے تحت سعودی عرب کی معیشت متنوع بنانے کی کوششوں میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ دورہ کام میں مزید رفتار لانے کا موقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ واقعی بہت اہم ہے کہ آج ہمارے تجارتی اور اقتصادی تعلقات بہت مضبوط ہیں۔ یہ تعلقات گہرے ہیں اور ہمارے سٹریٹیجک شراکت دار سعودی عرب کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔‘
ہیومین اور کوالکوم ٹیکنالوجیز انک نے سعودی عرب میں جدید اے آئی انفراسٹرکچر قائم کرنے کے لیے تعاون کا اعلان کیا۔ (فوٹو: عرب نیوز)
لوٹس نے کہا کہ امریکی کاروباری ادارے اس دورے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ وہ ان ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط کریں جہاں سعودی عرب تیزی سے ترقی کر رہا ہے، خاص طور پر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، ایڈوانس مینوفیکچرنگ، ڈیٹا انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں۔
امریکی کمپنیاں جیسے گوگل کلاؤڈ، اوریکل اور ایمیزون ویب سروسز نے سعودی عرب میں اپنے دفاتر قائم کیے ہیں تاکہ مملکت کو ڈیجیٹل خدمات کے لیے ایک علاقائی مرکز بنانے میں تعاون کیا جا سکے۔
کیلیفورنیا کی کمپنی لیوسڈ موٹرز، جس میں سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کا زیادہ حصہ ہے، کنگ عبداللہ اکنومک سٹی میں اپنے تین اعشاریہ چار ارب ڈالر کے پلانٹ میں زیادہ گاڑیاں بنانے لگی ہے۔ یہ پلانٹ وژن 2030 کے اہم صنعتی منصوبوں میں سے ایک ہے۔
تعاون کے بارے میں لوٹس نے اس بات پر زور دیا کہ ابھرتے ہوئے معاہدوں اور شراکت داریوں میں مصنوعی ذہانت سب سے آگے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی ’علم پر مبنی شعبوں‘ میں آتی ہیں، جن پر امریکہ اور سعودی حکومتیں مسلسل ساتھ کام کر رہی ہیں، جس میں خلائی شعبہ بھی شامل ہے۔
سعودی عرب فیفا ورلڈ کپ 2034 کی میزبانی کرے گا۔ (فوٹو: عرب نیوز)
لوٹس نے کہا کہ توانائی بھی بات چیت کا اہم موضوع ہے، خاص طور پر ڈیٹا سینٹرز کے حوالے سے۔
سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی منصوبے، جن میں اہم نیوم گرین ہائیڈروجن پروجیکٹ شامل ہے جس کی مالیت آٹھ اعشاریہ چار ارب ڈالر ہے اور جس میں امریکی انجینیئرنگ کمپنیاں شامل ہیں، دکھاتے ہیں کہ ریاض کی توانائی کی خواہشات اب صرف ہائیڈروکاربن تک محدود نہیں رہیں۔
اپنے وسیع شمسی اور ہوائی وسائل کی بدولت، سعودی عرب کا مقصد 2030 تک ہائیڈروجن کے سب سے بڑے 10 برآمد کنندگان میں شامل ہونا ہے جس میں امریکی کمپنیاں جیسے ایئر پروڈکٹس انفراسٹرکچر فراہم کرنے میں مدد کر رہی ہیں۔
لوٹس نے کہا کہ توانائی اور دفاع دوطرفہ ایجنڈے کے بنیادی ستون ہیں، جو آنے والی دہائیوں تک جاری رہیں گے اور ’زیادہ جدید اور سٹریٹیجک طریقوں‘ سے ترقی کریں گے۔
نائب وزیر مواصلات اور اطلاعات نے سعودی عرب میں اوریکل کے پہلے انوویشن ہب کا افتتاح کیا۔ (فوٹو: عرب نیوز)
یو ایس سعودی بزنس کونسل کے مطابق 2018 سے سعودی عرب میں امریکی براہِ راست سرمایہ کاری دوگنا سے زیادہ ہو چکی ہے اور 2023 تک تقریباً 14 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
سعودی ٹوئرازم ڈیویلپمنٹ فنڈ نے 2030 ایکسپو سے پہلے امریکی تفریحی اور رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاروں کے ساتھ کام کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے تاکہ ریاض اپنی تبدیلی کروڑوں لوگوں کو دکھا سکے۔
لوٹس نے کہا کہ امریکہ سعودی عرب کے لیے ’پسندیدہ شراکت دار‘ بننا چاہتا ہے کیونکہ مملکت اپنی معیشت کو متنوع اور جدید بنا رہی ہے، اور دونوں ممالک آنے والے دورے کے ساتھ تعاون کے نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔