Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بنوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 22 شدت پسند ہلاک

آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں شدت پسندوں کے خاتمے کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)
پاکستان آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایک انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی میں 22 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔
منگل کو آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ’24 نومبر کو سکیورٹی فورسز نے بنوں ضلع میں ایک انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا جس کا مقصد انڈین پراکسی ’فتنہ الخوارج‘ سے تعلق رکھنے والے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کرنا تھا۔‘
بیان میں کہا گیا کہ آپریشن کے دوران افواج نے شدت پسندوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 22 شدت پسند ہلاک ہوئے۔
مزید کہا گیا کہ علاقے میں شدت پسندوں کے خاتمے کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز اور پاکستان کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں ’عزمِ استحکام‘ کے وژن کے تحت (جیسا کہ نیشنل ایکشن پلان پر وفاقی ایپکس کمیٹی نے منظور کیا ہے) انسدادِ دہشت گردی کی مہم کو پوری رفتار سے جاری رکھیں گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بنوں میں شدت پسندوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی جب پیر کو پشاور میں تین خودکش حملہ آوروں نے ایف سی کے ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا تھا جس میں تین اہلکار جان سے گئے اور تین اہلکاروں سمیت کم سے کم 9 زخمی ہوئے۔
اس سے قبل پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک خودکش حملہ ہوا تھا جس میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پاکستان نے سرحد پار دہشت گرد حملوں کی روک تھام کے لیے افغانستان کی عبوری حکومت سے کئی بار شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

 
 

شیئر: