Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پنجاب میں تین پہیوں والی گاڑیوں پر پابندی، مقامی صنعت کیسے متاثر ہوگی؟

سرکاری نمائندوں کے مطابق موٹر سائیکل رکشے ٹریفک جام، شور اور دھوئیں کی صورت میں شہری فضا کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے حال ہی میں صوبے میں پیٹرول سے چلنے والے تین پہیوں والی گاڑیوں، خاص طور پر موٹر سائیکل رکشوں یعنی چنگ چی اور قنگ چی کی نئی پیداوار اور رجسٹریشن پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ صوبائی کابینہ کی اینٹی سموگ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا جس کا مقصد بڑے شہروں میں سموگ اور فضائی آلودگی کو کم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
سرکاری نمائندوں کے مطابق موٹر سائیکل رکشے ٹریفک جام، شور اور دھوئیں کی صورت میں شہری فضا کو شدید متاثر کر رہے ہیں، جبکہ ان میں سے بہت سی گاڑیاں فٹنس سرٹیفکیٹ اور باقاعدہ تکنیکی معائنے کے بغیر سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں۔
حکومت نے ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا ہے کہ آنے والے برسوں میں صوبے کی پبلک ٹرانسپورٹ کو بتدریج الیکٹرک وہیکل ماڈل کی طرف منتقل کیا جائے گا جس کے لیے مختلف سبسڈی اور سکیموں پر کام جاری ہے۔

تین پہیوں کی معیشت: کتنی بڑی صنعت؟

سرکاری دستاویزات (اکنامک سرویز) کے مطابق ملک میں تین پہیوں والی موٹر گاڑیوں، یعنی آٹو رکشہ، موٹر سائیکل رکشہ اور لوڈر رکشے، کی تعداد 10 لاکھ سے زائد ہے۔ ان میں سے سب سے بڑا حصہ پنجاب میں چلتا ہے جہاں آبادی بھی سب سے زیادہ ہے اور شہری پبلک ٹرانسپورٹ کا انحصار بھی بڑی حد تک رکشوں پر ہے۔
صدر رکشہ ایسوسی ایشن مجید غوری کے مطابق صرف صوبائی دارالحکومت میں ہی 60 سے 80 ہزار کے درمیان رکشے چلتے ہیں جبکہ چنگ چی رکشوں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔
اس بنیاد پر ماہرین کا اندازہ ہے کہ پنجاب بھر میں پانچ سے سات لاکھ کے درمیان تین پہیوں والی گاڑیاں مختلف شکلوں میں چلتی ہیں۔
یہ صرف گاڑیوں کی گنتی نہیں بلکہ ایک پوری معیشت ہے۔ ایک رکشے کے ساتھ ایک ڈرائیور یا مالک تو جڑا ہی ہوتا ہے، اس کے علاوہ مکینک، مستری، پنکچر شاپس، بیٹری، ٹائر فروش، سپیئر پارٹس ڈیلر، شو رومز اور قسطوں پر گاڑیاں دلوانے والے چھوٹے فنانسر بھی اسی چین کا حصہ ہیں۔ سرکاری تخمینوں کے مطابق پاکستان کی مجموعی آٹو انڈسٹری میں براہِ راست اور بالواسطہ ملا کر لاکھوں لوگ کام کرتے ہیں اور اس میں تین پہیوں والی سواریوں کا حصہ نمایاں ہے۔
مجید غوری نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اگر صرف رکشوں اور دیگر تین پہیہ گاڑیوں کو الگ دیکھیں تو 15 سے 20 لاکھ افراد کا روزگار کسی نہ کسی درجے میں اسی سیکٹر سے جڑا ہوا ہے۔‘

فیکٹریوں سے ورکشاپ تک: صنعت کا ڈھانچہ اور برآمدات

پاکستان میں تھری ویلر انڈسٹری دو سطحوں پر چلتی ہے۔ ایک طرف فارمل سیکٹر ہے جہاں بڑے پیمانے پر فیکٹریوں میں گاڑیاں تیار ہوتی ہیں۔ لاہور کی سازگار انجینیئرنگ ورکس ملک کی سب سے بڑی تین پہیہ ساز کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے، جو برسوں سے رکشے بنا رہی ہے اور اپنی پروڈکٹس 20 سے زائد ملکوں کو بھیجتی ہے۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ پنجاب بھر میں پانچ سے سات لاکھ کے درمیان تین پہیوں والی گاڑیاں مختلف شکلوں میں چلتی ہیں۔ (فائل فوٹو: پاک وہیلز)

اسی طرح پلام قنگ چی موٹرز، یونائیٹڈ، روڈ پرنس، نیو ایشیا اور دیگر کمپنیوں کے پلانٹس میں آٹو رکشے، موٹر رکشے اور لوڈر تیار ہوتے ہیں۔ ان کمپنیوں کے ساتھ سپلائرز، وینڈرز، ڈیلرز اور سیلز نیٹ ورک کی ایک طویل چین جڑی ہوتی ہے جس سے ہزاروں گھروں کا چولہا جلتا ہے۔
دوسری طرف ایک بہت بڑا انفارمل سیکٹر ہے جس میں سینکڑوں چھوٹی ورکشاپیں اور گیراج شامل ہیں۔ ان ورکشاپوں میں عام موٹر سائیکلز پر لوکل باڈیز لگا کر انہیں چنگ چی یا قنگ چی رکشوں میں بدلا جاتا ہے۔ یہ ورکشاپیں خاص طور پر پنجاب اور سندھ کے قصبوں اور مضافاتی علاقوں میں پھیلی ہوئی ہیں، جہاں کم لاگت سواری کی طلب زیادہ ہے اور لوگوں کے لیے فیکٹری سے بنا ہوا مہنگا رکشہ لینا آسان نہیں۔
حکومت کے حالیہ فیصلے کا مطلب یہ بھی ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے لوکل باڈی میکرز کا کاروبار مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔
یہ صنعت صرف اندرونِ ملک ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہی۔ پاکستان میں بننے والے کچھ تین پہیوں والے رکشے افریقہ اور ایشیا کے مختلف ممالک کو بھی ایکسپورٹ کیے جا رہے ہیں۔ مقامی کمپنیوں کی رپورٹس کے مطابق پاکستانی رکشے جاپان، سری لنکا، مصر، نائجیریا، کینیا، افغانستان، قطر، متحدہ عرب امارات، سینیگال اور دیگر ممالک کی منڈیوں تک پہنچ چکے ہیں۔
بعض کمپنیاں فلپائن اور میکسیکو جیسے نئے بازاروں میں داخل ہونے کا اعلان بھی کر چکی ہیں۔ وفاقی سطح پر دستیاب مجموعی ڈیٹا بتاتا ہے کہ گذشتہ چند برسوں میں مقامی طور پر اسمبل گاڑیوں کی برآمد سے اربوں روپے کا زرمبادلہ حاصل ہوا اور اس میں تین پہیوں والی گاڑیوں کا حصہ حیران کن طور پر بڑھ رہا ہے۔

پلام قنگ چی موٹرز، یونائیٹڈ، روڈ پرنس، نیو ایشیا اور دیگر کمپنیوں کے پلانٹس میں آٹو رکشے، موٹر رکشے اور لوڈر تیار ہوتے ہیں۔ (فائل فوٹو: یونائیٹڈ قنگ جی فیس بک)

الیکٹرک رکشوں کی جانب سفر

پاکستان نے چند برس پہلے الیکٹرک وہیکل پالیسی متعارف کرائی جس کے تحت دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے خصوصی مراعات رکھی گئیں۔ انجینیئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک 32 کے قریب کمپنیوں کو الیکٹرک موٹر سائیکل اور الیکٹرک رکشہ بنانے کے لیے مینوفیکچرنگ لائسنس مل چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسمی طور پر پالیسی کا فوکس اس وقت بڑی حد تک دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کو الیکٹرک بنانے پر ہے نہ کہ صرف مہنگی کاروں پر۔
کچھ لوکل کمپنیاں پہلے ہی الیکٹرک رکشہ متعارف کرا چکی ہیں۔ لاہور کی ایک بڑی کمپنی نے چند برس پہلے اپنا پہلا ای رکشہ لانچ کیا اور بعد میں اسے برانڈ کے طور پر وسیع کر کے مختلف ماڈلز مارکیٹ میں لائے جن میں سے کچھ افریقہ کے لیے برآمد بھی کیے گئے۔ جاپان کی ایک کمپنی نے بھی اپنا تین پہیوں والا الیکٹرک ماڈل پاکستان میں پیش کیا ہے۔
دوسری جانب پالیسی کی سطح پر وفاقی حکومت نے ’گرین‘ یا الیکٹرک پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے ایک سکیم بھی تجویز کی ہے، جس کے تحت موٹر سائیکلوں اور رکشوں کو سبسڈی کے ساتھ الیکٹرک ماڈلز میں تبدیل کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔
اس صورت حال کے حوالے سے مجید غوری کہتے ہیں کہ ’زمین پر صورت حال ابھی پوری طرح نہیں بدلی ہے۔ زیادہ تر ڈرائیور اور مالکان اب بھی پیٹرول یا سی این جی رکشوں پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ الیکٹرک ماڈلز تکنیکی طور پر زیادہ جدید ضرور ہیں لیکن ان کی قیمت، بیٹری کی لاگت، چارچنگ انفراسٹرکچر اور لوڈشیڈنگ جیسے عوامل عام آدمی کے لیے انہیں اپنانا مشکل بنا دیتے ہیں۔‘

پنجاب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ صوبے کی پبلک ٹرانسپورٹ کو بتدریج الیکٹرک وہیکل ماڈل کی طرف منتقل کیا جائے گا۔ (فائل فوٹو: ایکس)

قیمت، روزگار اور مستقبل کے سوالات

پیٹرول اور الیکٹرک رکشوں کے درمیان قیمت کا فرق اس تبدیلی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ کے طور پر سامنے آتا ہے۔ لاہور میں تھری ویلر صنعت سے وابستہ محمد فرقان جو ایک کمپنی میں انتظامی عہدے پر ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ ’عام مارکیٹ میں لوکل برانڈز کا نیا پیٹرول رکشہ چار سے پانچ لاکھ روپے کے درمیان خریدا جا سکتا ہے۔ جبکہ سستے الیکٹرک ماڈلز کی قیمتیں بھی عموماً ساڑھے تین سے چھ لاکھ کے آس پاس سے شروع ہو کر بڑی بیٹری اور بہتر رینج والے ماڈلز میں سات، نو اور 11 لاکھ روپے تک جا پہنچتی ہیں۔ کچھ برانڈز کے مخصوص الیکٹرک رکشوں کی سرکاری قیمت 13 لاکھ سے بھی اوپر ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب حکومت کا فیصلہ عملی طور پر کس سمت لے کر جائے گا۔ اگر نئی پروڈکشن بند ہو جاتی ہے تو آہستہ آہستہ مارکیٹ میں دستیاب پیٹرول رکشوں کی تعداد کم ہو گی اور ان کی قیمتیں اوپر جا سکتی ہیں جس کا براہِ راست اثر کرایوں اور شہری ٹرانسپورٹ پر پڑے گا۔ دوسری جانب اگر حکومت واقعی سبسڈی، آسان اقساط، سود سے پاک قرض فراہم کرے اور بیٹری پر چلنے والے ماڈلز کو تیزی سے زمین پر لے آئے تو الیکٹرک رکشوں کی طرف منتقلی ماحول کے ساتھ ساتھ ڈرائیوروں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ فیول کی لاگت واضح طور پر کم ہو جائے گی۔‘
تاہم فی الحال رکشہ ڈرائیورز اور چھوٹی ورکشاپس والے تشویش کا شکار ہیں۔ دوسری طرف ماحولیاتی ماہرین اس پابندی کو سموگ اور آلودگی کے خلاف ایک مثبت قدم قرار دیتے ہیں لیکن پنجاب میں پیٹرول سے الیکٹرک تھری ویلرز کی طرف سفر ابھی شروع ہوا ہے، اصل امتحان اس وقت ہو گا جب یہ پالیسی سڑک، ورکشاپ اور عام ڈرائیور کی زندگی تک پہنچے گی۔

 

شیئر: