Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ای آفس سسٹم کیا ہے اور عام شہریوں کو اس نظام سے کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے؟

ای-آفس کا نفاذ 350 سے زائد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں ہو چکا ہے: فائل فوٹو اے پی پی
پاکستان کی وفاقی حکومت کا سرکاری دفاتر میں کاغذی کارروائی ختم کرنے اور دفتری نظام  کا ڈیجیٹل ای آفس سسٹم ان دنوں صدارتی آرڈیننس پر دستخط کے معاملے پر خبروں میں ہے۔
ای آفس ایک مکمل ڈیجیٹل فائل مینجمنٹ سسٹم ہے، جس میں سمری، نوٹس، خطوط، نوٹیفکیشنز، منظوری اور دستخط سمیت تمام دفتری امور آن لائن انجام دیے جاتے ہیں۔
حکومت کے مطابق اس نظام کا مقصد سرکاری کارروائیوں میں تیزی، شفافیت لانا اور اس سسٹم کے تحت فائل اور سمری روایتی انداز کے بجائے الیکٹرانک طریقے سے منتقل اور پراسیس کی جاتی ہے۔
تاہم جہاں ای آفس کے بیشتر فوائد ہیں، وہیں بعض مواقعوں پر تکنیکی مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔ جیسا کہ حالیہ ہفتے وفاقی حکومت کی جانب سے صدر مملکت کے دستخط کے بغیر صدارتی آرڈیننس جاری کرنے کے معاملے پر اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے احتجاج کے بعد حکومت نے موقف دیا کہ فائل کی منظوری ای آفس کے ذریعے ہو چکی تھی، اس لیے آرڈیننس بغیر دستخط بھی نافذ ہو گیا۔
لیکن اب یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ای آفس  کا نفاذ عام شہریوں کے لیے کیسے فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے اور آیا اس نظام سے کوئی دفتری امور میں تکنیکی مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں؟
’حکومتی امور کی انجام دہی بہتر ہوئی‘
اردو نیوز کو دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ای آفس کے نفاذ کے بعد سرکاری کارروائیوں میں نمایاں تیزی اور شفافیت دیکھنے میں آئی ہے۔
گذشتہ ایک سال کے دوران اس نظام کے ذریعے تقریباً 34 لاکھ 80 ہزار ڈیجیٹل فائلیں پراسیس کی گئیں، جبکہ روایتی طور پر 25 دن میں مکمل ہونے والا فائل پراسیسنگ عمل اب اوسطاً چار دن میں مکمل ہو رہا ہے۔
دستاویزات کے مطابق فائلوں کی منظوری کے عمل میں 84 فیصد تک وقت کی کمی آئی ہے، جبکہ کاغذ، سٹیشنری، پرنٹنگ، کورئیر اور ملازمین کی نقل و حرکت پر ہونے والے اخراجات میں سالانہ تقریباً 9.5 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے، جسے حکومت ایک بڑا مالی فائدہ قرار دیتی ہے۔
وفاقی حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ای آفس کا نفاذ اب تک 350 سے زائد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں ہو چکا ہے، جبکہ 39 میں سے 35 ڈویژنز میں اس پر مکمل عمل درآمد کی رپورٹ دی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق دفتری سطح پر ای آفس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ پیپر ورک میں نمایاں کمی آئی ہے اور فائلوں کے گم ہونے یا جان بوجھ کر روکنے کے امکانات کم ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ سینیئر افسران بیرونِ دفتر یا سرکاری دوروں کے دوران بھی فائلوں پر کارروائی کر سکتے ہیں، جسے بہتر گورننس کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

عام شہریوں کو اس نظام سے کیا فائدہ؟


حکومت کے مطابق ای آفس نظام کا مقصد سرکاری کارروائیوں میں تیزی، شفافیت لانا ہے: فوٹو پکسابے

عام شہریوں کو اس نظام کا بالواسطہ فائدہ یہ ہوا ہے کہ سمریز، نوٹیفکیشنز، اجازت ناموں اور عوامی نوعیت کے فیصلوں میں تاخیر کم ہو رہی ہے۔
مثال کے طور پر پاسپورٹ، امیگریشن، اپوسٹیل اٹیسٹیشن، لائسنسنگ اور مختلف این او سیز سے متعلق فائلیں اب ڈیجیٹل طریقے سے زیادہ تیزی سے نمٹائی جا رہی ہیں، جس سے شہریوں کو بار بار دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت کم پڑی ہے۔
تاہم حکومتی سطح پر یہ بھی تسلیم کیا جا رہا ہے کہ بعض محکموں میں تربیت کی کمی، انٹرنیٹ کے مسائل اور پرانے نظام سے وابستگی کے باعث ای آفس کے مکمل فوائد ابھی حاصل نہیں ہو سکے۔ 
ای آفس کے عملی فوائد اور ممکنہ تکنیکی خدشات پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر اور ای آفس سسٹمز کی تیاری کا تجربہ رکھنے والے روحان ذکی  نے بتایا کہ ای-آفس ایک مؤثر اور مثبت قدم ہے، کیونکہ کسی بھی ادارے کی مجموعی پیداوار میں سب سے بڑی رکاوٹ اکثر ذاتی مفاد بن جاتا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ روایتی دفتری نظام میں یہ مسئلہ عام ہوتا ہے کہ کوئی افسر فائل یا سمری پر دستخط اس وقت تک روکے رکھتا ہے جب تک اس کا ذاتی یا دفتری مفاد پورا نہ ہو جائے۔
’لیکن اس کے برعکس، اگر ای-آفس سسٹم درست طریقے سے ڈیزائن اور مکمل طور پر نافذ کیا جائے تو یہ مسئلہ بڑی حد تک ختم ہو جاتا ہے۔‘
روحان ذکی کے مطابق ای-آفس ایک ٹرگر بیسڈ ڈیجیٹل سسٹم ہوتا ہے، جس میں جیسے ہی ایک شعبہ فائل یا سمری دوسرے متعلقہ افسر یا محکمے کو بھیجتا ہے، تو متعلقہ افسر کو خودکار طور پر نوٹیفکیشن موصول ہو جاتا ہے۔

عام شہریوں کو اس نظام کا بالواسطہ فائدہ یہ ہوا ہے کہ سمریز، نوٹیفکیشنز، اجازت ناموں اور عوامی نوعیت کے فیصلوں میں تاخیر کم ہو رہی ہے: فائل فوٹو اے پی پی 

’وہ نوٹیفکیشن یا لنک کے ذریعے سسٹم میں لاگ اِن ہو کر دستاویز دیکھتا ہے، اس پر کارروائی کرتا ہے اور جیسے ہی وہ اپروول یا آبزرویشن دیتا ہے، وہی عمل اگلے مرحلے کو خود بخود ٹرگر کر دیتا ہے۔‘
اُنہوں نے مزید بتایا کہ اس پورے ڈیجیٹل عمل میں ہر ایک سرگرمی ریکارڈ ہوتی ہے یعنی کس افسر نے فائل کب دیکھی، کتنی دیر اپنے پاس رکھی۔۔
روحان ذکی نے صدر مملکت کے دستخط کے بغیر آرڈیننس کے نفاذ کے معاملے پر بتایا کہ اس میں تکنیکی پہلو اب بھی واضح نہیں ہیں کیونکہ ای آفس میں دستخط آن لائن (ای سگنیچر) کے ذریعے کیے جا سکتے ہیں، مگر یہ معلوم نہیں کہ صدر مملکت نے اس کا استعمال کیا یا نہیں۔
اسی طرح اسلام آباد میں سرکاری اداروں کے ساتھ کام کا تجربہ رکھنے والے ماہر محمد اسد الرحمان کہتے  ہیں کہ ماضی میں دفتری کارروائیاں کاغذی فائلوں کے ذریعے ہوتی تھیں، جو ایک افسر سے دوسرے افسر تک جاتی رہتی تھیں۔
’لیکن ای آفس میں یہ تمام عمل الیکٹرانک ہو گیا ہے۔ فائل یا پی ڈی ایف ایک مرتبہ سسٹم میں انیشیٹ ہوتی ہے اور پھر مخصوص افسران کو مارک کی جاتی ہے۔‘
اسد الرحمان کے مطابق اب ہر مرحلے پر ریکارڈ بنتا ہے کہ کس افسر نے کب فائل دیکھی، کتنی دیر رکھی اور کب اپروول یا دستخط کیے۔ اس سے وقت کی بچت ہوتی ہے اور جوابدہی واضح ہو جاتی ہے۔
’ای آفس محفوظ بھی لیکن سائبر حملے کا خطرہ موجود رہتا ہے‘
اُنہوں نے بتایا کہ ای-آفس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ فائلیں صرف مخصوص لاگ اِن رکھنے والے افسران تک محدود رہتی ہیں، جس سے ڈیٹا لیک ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ البتہ اگر کسی افسر کا اکاؤنٹ غلط ہاتھوں میں چلا جائے تو غیر متعلقہ شخص بھی کارروائی کر سکتا ہے، جو سسٹم سکیورٹی کے لیے چیلنج ہے۔

شیئر: