Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سونے میں سرمایہ کاری: بدلتے معاشی حالات میں کتنا محفوظ انتخاب؟

دنیا بھر کی مالیاتی منڈیوں میں سونے کی قیمت ایک نئی ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے اثرات پاکستان میں بھی واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
عالمی سطح پر اس تیزی کو مشرق وسطیٰ بالخصوص ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، امریکہ میں فیڈرل ریزرو پر سیاسی دباؤ اور امریکی معیشت سے آنے والے اعداد و شمار سے جوڑا جارہا ہے جنہوں نے عالمی معیشت میں بے یقینی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
مالیاتی ماہرین کے مطابق جب بین الاقوامی سطح پر سیاسی یا معاشی خطرات میں اضافہ ہوتا ہے تو سرمایہ کار نسبتاً محفوظ اثاثوں کی طرف سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں اور سونا تاریخی طور پر اس فہرست میں سب سے نمایاں رہا ہے۔
یہی عالمی رجحان پاکستان کی صرافہ مارکیٹ میں بھی قیمتوں کے اضافے کی صورت میں سامنے آیا ہے جہاں عالمی نرخوں اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کے باعث سونا مزید مہنگا ہو گیا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی منڈیاں
حالیہ ہفتوں میں ایران سے جڑی کشیدگی نے خاص طور پر سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا رکھا۔ خطے میں کسی بھی ممکنہ تصادم کے خدشے نے تیل اور سونے دونوں کی قیمتوں کو متاثر کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام عالمی سپلائی چین اور توانائی کی منڈیوں پر براہ راست اثر ڈالتا ہے جس کے نتیجے میں مالیاتی منڈیوں میں غیریقینی بڑھ جاتی ہے۔
اسی دوران امریکی لیبر مارکیٹ سے آنے والے حالیہ اعداد و شمار توقعات سے کمزور رہے جس سے یہ قیاس آرائیاں مضبوط ہوئیں کہ امریکی معیشت کی رفتار سست ہو سکتی ہے۔

عام شہری بھی اسے اپنی بچت محفوظ بنانے کے لیے خرید رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ماہرین کے مطابق یہی وہ عوامل ہیں جنہوں نے سونے کی قیمت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔
ممکنہ امریکہ–ایران بات چیت: وقتی سکون؟
معاشی تجزیہ کار احسن محنتی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے متعلق اطلاعات نے مارکیٹ میں کچھ حد تک سکون پیدا کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اگر سفارتی سطح پر پیش رفت ہوتی ہے تو سونے کی قیمتوں میں قلیل مدت کے لیے کمی یا استحکام دیکھا جا سکتا ہے۔‘
احسن محنتی کے مطابق حالیہ تیزی کے بعد سونے میں وقتی اصلاح کا امکان موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے ’امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ بات چیت نے سونے میں حالیہ غیر معمولی اضافے کی رفتار کو کچھ حد تک کم کیا ہے۔‘
امریکہ کا اگلا قدم فیصلہ کن کیوں؟
احسن محنتی کے مطابق عالمی منڈیوں کی نظریں اس وقت امریکہ کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اگر امریکہ کی جانب سے کوئی سخت سیاسی یا عسکری اقدام سامنے آتا ہے تو مزید بڑھ سکتی ہیں۔‘
’اگر کشیدگی میں دوبارہ اضافہ ہوا یا امریکہ نے سخت موقف اختیار کیا تو سونے کی قیمتیں تمام سابقہ ریکارڈ توڑ سکتی ہیں۔‘
ماہرین کے مطابق یہی غیریقینی کیفیت سونے کو سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بنائے ہوئے ہے کیونکہ دیگر سرمایہ کاری کے شعبے فوری طور پر ایسے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

امریکہ نے سخت موقف اختیار کیا تو سونے کی قیمتیں تمام سابقہ ریکارڈ توڑ سکتی ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان میں اس کے اثرات
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں اضافہ براہ راست پاکستان کی صرافہ مارکیٹ پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ چونکہ سونے کی عالمی قیمت امریکی ڈالر میں طے ہوتی ہے، اس لیے ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر مقامی سطح پر سونے کو مزید مہنگا بنا دیتی ہے۔
کراچی، لاہور اور دیگر بڑے شہروں کے صرافہ مارکیٹ کے ڈیلرز کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں سونے کی خریداری میں واضح اضافہ ہوا ہے۔
ان کے مطابق اب سونا صرف زیورات یا شادی بیاہ تک محدود نہیں رہا بلکہ عام شہری بھی اسے اپنی بچت محفوظ بنانے کے لیے خرید رہے ہیں۔
عام آدمی کے لیے کیا معنی؟
چیئرمین آل پاکستان جیولرز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن محمد ارشد کا کہنا ہے کہ اگرچہ سونے کی قیمتوں میں اضافہ سرمایہ کاروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے لیکن اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ زیورات عام لوگوں کی پہنچ سے مزید دور ہو جاتے ہیں۔
’خاص طور پر شادیوں کے سیزن میں سونے کی قیمتیں متوسط طبقے کے لیے ایک بڑا بوجھ بن جاتی ہیں۔‘
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار وکیل الرحمان نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں میں سونے کی قیمت کا دارومدار تین اہم عوامل پر ہو گا، امریکہ اور دیگر ممالک کے تعلقات کی سمت، امریکی شرح سود سے متعلق فیصلے اور عالمی معیشت کی مجموعی صورتحال۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر عالمی کشیدگی کم ہوتی ہے تو سونے میں وقتی کمی ممکن ہے، لیکن اگر حالات بگڑتے ہیں تو سونا ایک بار پھر سرمایہ کاروں کی اولین ترجیح بن سکتا ہے۔‘

شادیوں کے سیزن میں سونے کی قیمتیں متوسط طبقے کے لیے ایک بڑا بوجھ بن جاتی ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

مقامی صرافہ مارکیٹ کے مطابق پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں منگل کے روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سونا 9 سو روپے مہنگا ہونے کے بعد فی تولہ چار لاکھ 81 ہزار 862 روپے کی سطح پر پہنچ گیا جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 771 روپے کے اضافے سے چار لاکھ 13 ہزار 118 روپے ہو گئی۔
عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں اضافہ دیکھا گیا جہاں فی اونس سونا 9 ڈالر مہنگا ہو کر 4595 ڈالر پر پہنچ گیا۔
اس کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمتوں میں بھی تیزی رہی، چاندی فی تولہ 180 روپے کے اضافے سے 9075 روپے ہو گئی جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 154 روپے بڑھ کر 7780 روپے تک پہنچ گئی۔
عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 86 ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

 

شیئر: