Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب اور روس نے ویزے سے استثنی کے معاہدے پر دستخط کردیے

سعودی وزیر خارجہ اور روسی نائب وزیر اعظم نے معاہدے پر دستخط کیے۔ (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب اور روس نے پیر کو ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس میں دونوں ملکوں کے شہریوں کو ویزا فری انٹری کی اجازت دی گئی ہے۔
 ریاض میں سعودی، روسی انویسٹمنٹ اینڈ بزنس فورم کے دوران سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان جبکہ روسی جانب سے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے دستخط کیے۔
وزیر توانائی اور سعودی روسی مشترکہ کمیٹی کے چیئرمین شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اور توسی نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک بھی اس موقع پر موجود تھے۔
عرب نیوز کے مطابق دونوں ملکوں کے پاسپورٹ رکھنے والے شہریوں کو سیاحت، کاروبار یا فیملی وزٹ کے لیے ویزا فری انٹری کی اجازت ہوگی۔
استثنی کی اجازت ایک کیلنڈر سال کے اندر مجموعی طور پر 90 دن کے لیے ہوگی۔
یہ معاہدہ، سفر کو آسان بنانے اور لوگوں کے درمیان قریبی روابط کو فروع دینے کے  لیے دونوں ملکوں کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
اس اقدام سے سیاحت کو فروغ ملے گا، متعدد شعبوں میں اقتصادی اور ثقافتی تعاون کو تقویت ملے گی۔
اس استثنی کا اطلاق، ورک، سٹڈی، رہائش یا حج کے لیے نہیں ہوتا، اس کے لیے مخصوص ویزے کی ضرورت رہے گی۔

 سعودی، روسی انویسٹمنٹ اینڈ بزنس فورم کے دوران  دستخط کیے گئے( فوٹو: ایس پی اے)

روس پہلا ملک ہے جس کے ساتھ سعودی عرب نے باہمی ویزے سے استثنی کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس میں عام پاسپورٹ ہولڈرز شامل ہیں۔
سعودی تاجر احمد العتیبی نے کہا ’یہ معاہدہ داخلے کے طریقہ کار کو آسان بنانے، باہمی دوروں کو فروغ دینے، سیاحت، اقتصادی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
توقع ہے اس معاہدے سے ان شعبوں کو بھی تقویت ملے گی جو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دیتے ہیں۔

 آرکائیوز ایجنسی کے مابین تعاون اور تبادلے کے معاہدے پر دستخط ہوئے،(فوٹو: ایس پی اے)

قانون کے پروفیسر اسامہ غانم العبیدی نے کہا’ یہ معاہدہ سعودی عرب اور روس کے درمیان مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔‘
علاوہ ازیں کنگ عبدالعزیز فاونڈیشن اور روسی فیڈریشن کی وفاقی آرکائیوز ایجنسی کے مابین متعلقہ شعبوں میں تعاون اور تبادلے کے معاہدے پر بھی دستخط ہوئے، جس کے تحت کانفرنسز، سیمینار اور نمائشوں کے انعقاد کے علاوہ لٹریچر کا تبادلہ بھی کیا جائے گا۔

 

شیئر: