جامعہ ام القریٰ میں ’نہر زبیدہ‘ کے تاریخی و تہذیبی پہلوؤں پر علمی نشست
جامعہ ام القریٰ میں ’نہر زبیدہ‘ کے تاریخی و تہذیبی پہلوؤں پر علمی نشست
جمعہ 13 مارچ 2026 21:52
ڈاکٹر عبداللہ الشریف نے کہا کہ نہر زبیدہ ایک عظیم تہذیبی سرمایہ اور تاریخی ورثہ ہے (فوٹو: ایس پی اے)
مکہ مکرمہ کی ام القریٰ یونیورسٹی نے نہر زبیدہ کے حوالے سے ایک علمی و معلوماتی نشست، تاریخی و ثقافتی مقامات سے متعلق ہیکاتھون کے تیسرے ایڈیشن کی سرگرمیوں کے سلسلے میں منعقد کی گئی ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق معلوماتی نشست کا عنوان ’عین زبیدہ: تاریخ، ورثہ اور ترقی کی داستان‘ ہے جسے یونیورسٹی میں کنگ سلمان بن عبدالعزیز چیئر برائے تاریخ مکہ کے پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ الشریف نے پیش کیا۔
ڈاکٹر عبداللہ الشریف نے نہرزبیدہ (عین زبیدہ) کی تاریخی اور تہذیبی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ نہر صدیوں سے مکہ مکرمہ اور آنے والے حجاج کرام کی خدمات میں اہم کردار ادا کرتی رہی۔
انہوں نے اس امر پربھی زوردیا کہ نہر زبیدہ ایک عظیم تہذیبی سرمایہ اور تاریخی ورثہ ہے جو مقدس مقامات کی دیکھ بھال اور خدمت کے حوالے سے مسلم تہذیب کی گہری توجہ کی عکاسی کرتا ہے۔
منعقدہ نشست جامعہ ام القریٰ اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون اور شراکت کو مضبوط بنانے کے مقصد سے منعقد کی گئی تاکہ مکہ مکرمہ کی تاریخ اور ثقافتی ورثے سے متعلق علمی و ثقافتی اقدامات کو فروغ دیا جائے۔
خلیفہ ہارون الرشید کی اہلیہ نے دوسری صدی ہجری میں نہر زبیدہ تعمیر کرنے کا حکم دیا (فوٹو: ایکس )
علاوہ ازیں تاریخی اور آثار قدیمہ کے مقامات کو اجاگر کرنے اور فعال بنانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے تاکہ معاشرے اور آنے والے زائرین کے علمی و ثقافتی تجربے کو مزید تقویت مل سکے۔
خیال رہے نہر زبیدہ اسلامی تاریخ کا ایک عظیم فلاحی منصوبہ تھا جسے عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی اہلیہ زبیدہ بنت جعفر نے دوسری صدی ہجری میں تعمیر کرایا تھا۔
نہر بنانے کا مقصد مکہ مکرمہ اور اس کے اطراف میں پانی کی قلت کو دور کرنا اور خصوصاً حج کے موسم میں آنے والے لاکھوں حجاج کو پانی فراہم کرنا تھا۔
اس منصوبے پر اس زمانے میں بہت بڑی رقم خرچ کی گئی تھی اور پہاڑوں کو کاٹ کر، سرنگوں کے ذریعے نہری راستے تیار کرکے پانی کو شہر تک لایا گیا تھا۔
نہر کی مجموعی لمبائی 38 کلو میٹر ہے (فوٹو: ایس پی اے)
نہرزبیدہ کے بارے میں کہا جاتا کہ 1250 برس تک اس سے پانی کی ضرورت کو پورا کیا جاتا تھا۔
مشاعر مقدسہ اور مکہ مکرمہ میں پانی کی فراہمی کا بڑا ذریعہ رہی تھی۔
نہر کی مجموعی لمبائی 38 کلو میٹر ہے جس کی تعمیر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے 10برس میں مکمل کیا گیا تھا۔