Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فلاپ در فلاپ فلمیں، جب بالی وڈ کے ‘مسٹر پرفیکشنسٹ‘ عامر خان گھر آکر رویا کرتے تھے

عامر خان کی فلموں نے بالی وُڈ کی تاریخ میں ریکارڈ کمائی کی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
بالی وڈ کے نامور اداکار عامر خان نے انکشاف کیا ہے کہ کامیاب ڈیبیو ’فلم قیامت سے قیامت تک‘ کے فوراً بعد ان کی کئی فلمیں ناکام ہوئیں جس سے وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئے تھے اور ہر شام گھر آکر رویا کرتے تھے۔
عامر خان نے یہ انکشاف ’ہندستان ٹائمز لیڈرشپ سمٹ 2025‘ میں گفتگو کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 1988 میں فلمی سفر کا آغاز ایک بڑی کامیابی کے ساتھ ہوا مگر اس کے بعد وہ ایسی غلطیوں کا شکار ہوئے جن سے ان کا کیریئر قریباً ختم کر دیا تھا۔
عامر خان نے بتایا کہ ’’قیامت سے قیامت تک‘ کی کامیابی کے بعد میں راتوں رات سٹار تو بن گیا لیکن جن بڑے ہدایت کاروں کے ساتھ کام کرنے کا خواب تھا، ان میں سے کسی نے مجھے فلم کی پیش کش نہیں کی۔ اس دوران میں نے سوچ سمجھ کر آٹھ سے نو فلمیں سائن کر لیں، لیکن جب شوٹنگ شروع ہوئی تو مجھے احساس ہوا کہ میں نے بہت بڑی غلطی کر دی ہے۔‘
ان کے مطابق ’میں ایک وقت میں دو یا تین فلمیں بھی نہیں کر سکتا تھا، اور میں نے آٹھ سے نو فلمیں سائن کر لی تھیں۔ اسی دوران مجھے سمجھ آیا کہ فلم کا سکرپٹ، ہدایت کار اور پروڈیوسر، یہ تین چیزیں بہت اہم ہیں۔‘
عامر خان نے بتایا کہ ان فلموں کے سنیما میں آنے کے بعد ایک کے بعد ایک ناکامی ملتی گئی۔ ’ایک فلم فلاپ ہوئی، پھر دوسری، پھر تیسری اور میڈیا نے مجھے ’ون فلم ونڈر‘ کہنا شروع کر دیا۔‘
اداکار نے کہا کہ وہ اپنے کام سے اتنے ناخوش تھے کہ روزانہ شام کو گھر آکر روتے تھے۔ ’میرا کیریئر ختم ہوتا نظر آرہا تھا، مجھے لگتا تھا میں دلدل میں پھنس گیا ہوں۔‘ 
اسی دور میں انہوں نے اپنے دل سے ایک عہد کیا کہ وہ آئندہ کبھی ہدایت کار، سکرپٹ اور پروڈیوسر پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by HT City (@htcity)

عامر خان نے بتایا کہ ’اسی مشکل دور میں مجھے مہیش بھٹ نے فلم کی پیش کش کی، جس سے میں بہت پُرجوش ہوا۔ لیکن جب سکرپٹ سنا تو مجھے پسند نہ آیا۔ میں نے پوری رات غور کیا اور اگلے دن احترام کے ساتھ انکار کردیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میری زندگی کا اہم موڑ وہ تھا جب میں سب سے نچلے مقام پر تھا، لیکن پھر بھی میں نے اپنے دل کے خلاف فیصلہ نہیں کیا۔ اسی حوصلے نے مجھے آگے آنے والے مشکل فیصلوں کی طاقت دی۔‘
عامر خان نے ہمت نہ ہاری اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ انہوں ںے بالی وڈ کو ایسی شاندار فلمیں دیں جو نہ صرف ہندی سمجھنے والے فلم بینوں میں مقبول ہوئیں بلکہ عالمی سطح پر بھی انڈین سنیما کو شہرت بخشی۔
عامر خان نے ’تھری ایڈیٹس‘، ’دنگل‘ اور ’تارے زمیں پر‘ جیسی سُپرہٹ فلمیں دیں۔ ان کی فلم ’لگان‘ سنہ 2002 میں آسکرز ایوارڈ کے لیے نامزد ہوئی۔

شیئر: