Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بیویوں کو اپنے شوہروں پر چلّانا چاہیے، رانی مکھرجی اپنے بیان پر تنقید کی زد میں

رانی مکھرجی نے کہا کہ ’باپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیوی کے ساتھ عزت سے پیش آئے‘ (فوٹو:ہندوستان ٹائمز)
بالی وڈ کی معروف اداکارہ رانی مکھرجی صنفی رویّوں کے حوالے سے اپنے ایک بیان کی وجہ سے سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کی زد میں ہیں۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق بالی وڈ ہنگامہ کو اپنے انٹرویو میں رانی مکھرجی نے کہا کہ ایک لڑکا وہی رویہ اپناتا ہے جیسا اس کا باپ اس کی ماں کے ساتھ سلوک کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عزت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے۔ اگر بچہ اپنی ماں کو برا سلوک برداشت کرتے دیکھتا ہے تو وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ ہر عورت کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کیا جا سکتا ہے۔
رانی مکھرجی سمجھتی ہیں کہ ’باپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ گھر میں اپنی بیوی کے ساتھ عزت سے پیش آئے، کیونکہ بچہ وہی سیکھتا ہے جو وہ روز دیکھتا ہے۔ اگر ماں کو عزت دی جائے تو لڑکے یہ سمجھیں گے کہ معاشرے میں عورت کو بھی وہی مقام اور احترام ملنا چاہیے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ سب کچھ گھر سے ہی شروع ہوتا ہے۔ ’یہاں تک کہ باپ کو ماں پر نہیں چلّانا چاہیے۔ ماں کو باپ پر چلّانا چاہیے، یہی درست طریقہ ہے۔‘
رانی نے اپنے اسکول کے دنوں کا ایک واقعہ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ایک بار ایک لڑکے کو تھپڑ مارا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ہنستے ہوئے اپنے شوہر آدتیہ چوپڑا، کا ذکر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ صرف ایک لڑکے کو انہوں نے تھپڑ مارا، باقی سب لڑکے ان کے دوست تھے، اور مذاق میں کہا کہ ان کے شوہر سے یہ مت پوچھیں کہ گھر میں ان کے ساتھ روز کیا ہوتا ہے۔
رانی مکھرجی کے یہ بیانات کچھ سوشل میڈیا صارفین کو پسند نہیں آئے اور انہوں نے ریڈِٹ اور انسٹاگرام پر ان کے خیالات کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ایک صارف نے لکھا کہ انہوں نے شاید مزاح کی کوشش کی تھی، مگر انہیں اندازہ نہیں کہ اس میں کچھ بھی مزاحیہ نہیں تھا۔ ایک اور نے کہا کہ وہ ہنستی ہیں اور بار بار یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ انہوں نے بہت اچھا نکتہ پیش کیا ہے۔
ایک تبصرہ کچھ یوں تھا کہ ’یہ کیسا رویّہ ہے، اور یہ سمجھ نہیں آتا کہ کوئی انہیں کیوں نہیں ٹوکتا۔‘ کسی نے لکھا کہ ’صرف اس وجہ سے کہ وہ پرانی نسل سے تعلق رکھتی ہیں، یہ مطلب نہیں کہ وہ کچھ بھی کہہ سکتی ہیں۔‘
ایک صارف نے کہا کہ ’ہم اس موضوع پر پہلے بھی بات کر چکے ہیں، دوبارہ نہیں۔‘ سوشل میڈیا پر ایک اور صارف نے کہا کہ ’آخر کوئی کسی پر آواز کیوں بلند کرے، کیا ہم سکون اور نرمی سے بات کرنے کی بات نہیں کر سکتے؟‘
ایک اور تبصرے میں کہا گیا کہ رشتے میں چیخنا چلّانا چاہے کوئی بھی کرے، اسے نارملائز کرنسا واقعی ایک عجیب سوچ ہے۔‘

 

شیئر: