Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آنکھوں کا مفت علاج، کے ایس ریلیف سینٹر کی جانب سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں 20 کیمپس کا انعقاد

کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر نے ’نور سعودی رضاکارانہ پروگرام 2025‘ کے تحت پاکستان کے مختلف علاقوں میں مفت آنکھوں کے علاج کے 20 کیمپس کا کامیابی سے انعقاد کیا ہے۔
کے ایس ریلیف سینٹر کے مطابق یہ کیمپس سندھ، بلوچستان، پنجاب اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہری اور دیہی علاقوں میں لگائے گئے، جہاں آنکھوں کی دیکھ بھال کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں یا عام آدمی کی دسترس سے باہر سمجھی جاتی ہیں۔
ان کیمپس میں مجموعی طور پر 79 ہزار 161 افراد کے آنکھوں کے معائنے کیے گئے، جبکہ 8 ہزار 85 مریضوں کے کامیاب آپریشن انجام دیے گئے۔
مریضوں کو 20 ہزار 96 مریضوں کو مفت عینکیں فراہم کی گئیں، جبکہ ماہر ڈاکٹروں کی تجویز کردہ ادویات بھی موقع پر ہی فراہم کی گئیں تاکہ علاج کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہ سکے۔
ان آپریشنز میں زیادہ تر موتیا سمیت آنکھوں کی دیگر بیماریوں کا علاج شامل تھا۔
یہ کیمپس البصر انٹرنیشنل فاؤنڈیشن اور ابراہیم آئی ہسپتال، کراچی کے اشتراک سے منعقد کیے گئے۔
پاکستان میں بینائی سے متعلق بیماریوں کو ایک سنجیدہ عوامی صحت کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک میں لاکھوں افراد مختلف درجے کی بینائی کی کمزوری کا شکار ہیں، جن میں ایک بڑی تعداد ایسے مریضوں کی ہے جن کی بینائی مناسب اور بروقت علاج سے بحال کی جا سکتی ہے۔

کیمپس میں مجموعی طور پر 79 ہزار 161 افراد کے آنکھوں کے معائنے کیے گئے۔ (فوٹو: کے ایس ریلیف سینٹر)

دیہی اور پسماندہ علاقوں میں نہ صرف ماہر امراضِ چشم کی کمی ہے بلکہ سرکاری ہسپتالوں پر بڑھتا ہوا دباؤ، طویل انتظار اور علاج کے اخراجات بھی عام شہری کے لیے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
ان کیمپوں کا بنیادی مقصد اُن طبقات تک معیاری طبی سہولیات پہنچانا تھا جو مالی مشکلات یا طبی انفراسٹرکچر کی کمی کے باعث آنکھوں کے بروقت علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔
منصوبے کی حکمتِ عملی اس بنیاد پر مرتب کی گئی تھی کہ قابلِ علاج بینائی کی بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج کے ذریعے اندھے پن کے پھیلاؤ کو روکا جائے اور متاثرہ افراد کو ایک فعال اور باوقار زندگی کی طرف واپس لایا جا سکے۔
ان کیمپس کی خاص بات یہ تھی کہ انہیں اُن پسماندہ علاقوں میں منعقد کیا گیا جہاں آنکھوں کے علاج کے لیے نہ تو مناسب سہولیات دستیاب ہیں اور نہ ہی عوام مالی طور پر بڑے شہروں کا رخ کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔

آپریشنز میں زیادہ تر موتیا سمیت آنکھوں کی دیگر بیماریوں کا علاج شامل تھا۔ (فوٹو: کے ایس ریلیف سینٹر)

اس اقدام کے نتیجے میں ہزاروں افراد کو بروقت تشخیص اور علاج میسر آیا جس سے نہ صرف ان کی بینائی بحال ہوئی بلکہ ان کی روزمرہ زندگی اور معاشی سرگرمیوں میں بھی بہتری آئی۔
یہ انسانی ہمدردی پر مبنی پروگرام عالمی سطح پر صحت کے فروغ اور قابلِ انسداد اندھے پن کے خاتمے کے لیے مملکتِ سعودی عرب کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کنگ سلمان ریلیف سینٹر کے تحت چلنے والے اس منصوبے نے ہزاروں پاکستانی خاندانوں کی زندگیوں میں روشنی واپس لا کر نہ صرف امید کی ایک نئی کرن پیدا کی ہے بلکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان انسانی خدمت کے شعبے میں تعاون کو بھی مزید مضبوط بنایا ہے۔

شیئر: