کیا بیرون ملک مقیم پاکستانی ورکرز کے لیے بھی ’ڈیجیٹل پروٹیکٹر‘ لگوانا لازم ہے؟
کیا بیرون ملک مقیم پاکستانی ورکرز کے لیے بھی ’ڈیجیٹل پروٹیکٹر‘ لگوانا لازم ہے؟
ہفتہ 31 جنوری 2026 5:52
بشیر چوہدری، اردو نیوز۔ اسلام آباد
قانونی طور پر جب بھی کوئی پاکستانی ورکر بیرونِ ملک ملازمت کے لیے روانہ ہوتا ہے تو اس کے پاسپورٹ پر پروٹیکٹر لگایا جاتا ہے۔ (فائل فوٹو: ایکس)
پاکستان سے روزگار کے لیے بیرونِ ملک جانے والے ورکرز کے لیے ’پروٹیکٹر‘ کا حصول ہمیشہ سے ایک بنیادی قانونی تقاضا رہا ہے۔ یہ محض ایک مہر یا سرکاری کارروائی نہیں بلکہ درحقیقت وہ حفاظتی دستاویز ہے جس کے ذریعے بیرونِ ملک جانے والے پاکستانی ورکر کے حقوق کو قانونی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔
یہ پروٹیکٹر لگوانے کے بعد ورکر نہ صرف پاکستان کے قوانین کے تحت رجسٹر ہو جاتا ہے بلکہ وزارتِ اوورسیز پاکستانیز کے ذیلی ادارے اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے مختلف فلاحی منصوبوں کا بھی حصہ بن جاتا ہے، جن میں انشورنس کوریج، ہنگامی امداد اور بعض دیگر سہولیات شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پروٹیکٹر کو اوورسیز روزگار کے پورے عمل کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔
قانونی طور پر جب بھی کوئی پاکستانی ورکر بیرونِ ملک ملازمت کے لیے روانہ ہوتا ہے تو اس کے پاسپورٹ پر پروٹیکٹر لگایا جاتا ہے۔ یہ پروٹیکٹر اس وقت تک قابلِ عمل رہتا ہے جب تک ورکر بیرونِ ملک مقیم رہتا ہے اور وہی ویزا استعمال کرتا رہتا ہے جس کی بنیاد پر اس نے پاکستان سے روانگی اختیار کی ہو۔ اگر ورکر بیرونِ ملک رہتے ہوئے اپنے ویزا میں توسیع کرواتا ہے یا وہیں سے نیا ویزا حاصل کر لیتا ہے تو بھی موجودہ پروٹیکٹر اپنی افادیت برقرار رکھتا ہے۔ صرف اس صورت میں نیا پروٹیکٹر درکار ہوتا ہے جب ورکر پاکستان واپس آ کر نئے ویزے پر دوبارہ بیرونِ ملک جانے کا ارادہ کرے۔ اس قانونی پہلو سے ناواقفیت ہی اکثر غلط فہمیوں کو جنم دیتی ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے پروٹیکٹر لگانے کے عمل میں بہتری لاتے ہوئے اسے ڈیجیٹل نظام سے منسلک کر دیا ہے۔ اس ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کا مقصد شفافیت، سہولت اور ریکارڈ کی بہتر حفاظت تھا تاکہ ورکرز کو دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں اور تمام معلومات ایک مرکزی ڈیٹا بیس میں محفوظ رہیں۔ تاہم اسی ڈیجیٹل تبدیلی کے بعد سوشل میڈیا پر ایک افواہ گردش کرنے لگی کہ وہ پاکستانی ورکرز جو ڈیجیٹل پروٹیکٹر کے آغاز سے پہلے بیرونِ ملک گئے تھے، اب انہیں لازماً دوبارہ ڈیجیٹل پروٹیکٹر حاصل کرنا ہو گا۔ اس بے بنیاد خبر نے بیرونِ ملک مقیم لاکھوں پاکستانیوں میں شدید تشویش پیدا کر دی۔
حکام نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو کہا ہے کہ صرف سرکاری ذرائع سے جاری کردہ معلومات پر اعتماد کریں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
افواہ کے پھیلتے ہی خلیجی ممالک، یورپ اور دیگر خطوں میں کام کرنے والے ہزاروں پاکستانی ورکرز نے بیورو آف امیگریشن اور مختلف پروٹیکٹوریٹ دفاتر سے رابطہ کیا۔ کچھ افراد نے ایجنٹس کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو بعض کو غیرمصدقہ ذرائع سے غلط مشورے بھی ملے، جس سے ان کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوا۔ خاص طور پر وہ ورکرز جو برسوں سے بیرونِ ملک مقیم ہیں اور اپنے اہلِ خانہ کی کفالت کر رہے ہیں، اس خدشے میں مبتلا ہو گئے کہ کہیں کسی قانونی پیچیدگی کی وجہ سے ان کا سٹیٹس متاثر نہ ہو جائے۔
اس صورت حال کے پیشِ نظر بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے باقاعدہ وضاحت جاری کی، جس میں واضح طور پر کہا گیا کہ جو پاکستانی ورکرز پہلے سے بیرونِ ملک مقیم ہیں اور اپنی ملازمتوں پر کام کر رہے ہیں، انہیں کسی بھی قسم کے نئے یا ڈیجیٹل پروٹیکٹر کی ضرورت نہیں ہے۔
وضاحت میں یہ بھی کہا گیا کہ ڈیجیٹل نظام کا اطلاق بنیادی طور پر نئے جانے والے ورکرز یا ان افراد پر ہوتا ہے جو پاکستان واپس آ کر نئے ویزے پر دوبارہ بیرونِ ملک جانا چاہتے ہیں۔ پہلے سے جاری پروٹیکٹر اپنی مدت اور شرائط کے مطابق مکمل طور پر قابلِ عمل ہے اور اس کی حیثیت ختم نہیں ہوتی۔
بیورو آف امیگریشن کے مطابق پروٹیکٹر کا اصل مقصد ورکر کے حقوق کا تحفظ، اس کے روزگار کا سرکاری ریکارڈ اور ہنگامی حالات میں ریاستی معاونت کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے نئی رکاوٹیں پیدا کرنا۔ ڈیجیٹلائزیشن دراصل اسی نظام کو مزید موثر بنانے کی ایک کوشش ہے تاکہ جعلسازی، غیرقانونی ایجنٹس اور غیرمصدقہ ریکارڈ جیسے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔
حکام نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو یہ بھی کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ایسی افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے صرف سرکاری ذرائع سے جاری کردہ معلومات پر اعتماد کریں۔ اگر کسی ورکر کو اپنے پروٹیکٹر یا قانونی حیثیت سے متعلق کوئی ابہام ہو تو وہ براہِ راست بیورو آف امیگریشن، قریبی پاکستانی مشن یا مستند سرکاری ویب سائٹس سے رہنمائی حاصل کرے۔