Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قتل کی وہ واردات جس کے لیے پولیس افسر شہربانو نقوی کو پوڈکاسٹ چھوڑ کر جانا پڑا

لاہور کی ایک پرسکون رات میں، ایک دروازے کی معمولی دستک نے خوفناک انجام کی پیش گوئی کر دی تھی۔ اگلے ہی دن، ایک نوجوان کی ہولناک موت، اہل خانہ کی چیخیں اور ایک پوڈکاسٹ جو ادھورا رہ گیا، یہ سب اسی دستک کی کہانی بیان کرتی ہیں۔
دروازے پر دستک ہوئی تو گھر کے اندر سے خاتون نے دستک دینے والے کا نام پوچھا، جواب آیا کہ ’میں ادریس احمد خان ہوں۔ مجھے حسن ممتاز نے کام سے بھیجا ہے۔‘
خاتون نے فون پر اپنے شوہر سے تصدیق کرنے کے بعد دروازہ کھول دیا۔ یہی وہ موقع تھا جس نے اگلے روز ایک نوجوان کے قتل کو پولیس فائلوں اور ایک افسر کے ادھورے پوڈکاسٹ کا حصہ بنا دیا۔ 
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں رواں سال ستمبر میں قتل کی ایک واردات رپورٹ ہوئی۔ لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے تھانہ ڈیفنس اے میں بلال احمد کی مدعیت میں 18 ستمبر کو دفعہ 302 اور 392 کے تحت ایک ایف آئی آر درج کی گئی۔
ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ ’ملزم نے 16 ستمبر کی رات حسن ممتاز کو ان کے گھر میں ہتھوڑی سے وار کر کے قتل کر دیا جب کہ ان کے اہلِ خانہ کو یرغمال بنا لیا۔ بلال احمد حسن ممتاز کے رشتہ دار ہیں۔‘
ایف آئی آر میں بلال احمد نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ’17 ستمبر کو وہ اپنے ماموں کے ہمراہ حسن ممتاز سے ملنے ان کے گھر آئے، تاہم دروازے پر بار بار دستک دینے کے باوجود بھی کوئی نہیں آیا جس پر ان کو تشویش لاحق ہوئی۔‘ 
ایف آئی آر کے مطابق ’میں نے دیوار پھلانگ کر بیرونی دروازہ کھولا اور ہم گھر کے اندر داخل ہوئے۔ اندر سٹور روم سے رونے اور چیخنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ میں نے فوری طور پر شیشے کا دروازہ توڑا اور حسن ممتاز کی اہلیہ، بیٹی اور والدہ کو باہر نکالا۔ ڈرائنگ روم میں دیکھا تو حسن ممتاز کی لاش پڑی تھی۔ اس کے سر پر چوٹیں آئی ہوئی تھیں اور وہ خون میں لت پت تھا۔‘
یہ کیس حال ہی میں وائرل ہونے والے پوڈکاسٹ میں بھی زیرِبحث آیا ہے جب ایس پی شہربانو نقوی پوڈکاسٹ کے دوران ایک ایمرجنسی فون کال آنے کے بعد پوڈکاسٹ ادھورا چھوڑ کر موقع واردات پر پہنچیں۔
شہربانو نقوی اس وقت اے ایس پی ڈیفنس تعینات تھیں۔ پوڈکاسٹ میں انہوں نے بتایا کہ ’جب رشتہ دار دروازہ پھلانک کر اندر داخل ہوئے تو خاتون نے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ گھر میں کوئی ہے۔‘
ایف آئی آر میں مزید بتایا گیا ہے کہ بلال احمد کو گھر والوں نے وقوعہ سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’24 گھنٹے قبل یعنی 16 ستمبر کو رات 10 بج کر 30 منٹ پر ان کے دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازے کے باہر سے آواز آئی ’میں ادریس احمد خان ہوں، حسن نے مجھے کام کے لیے بلایا ہے۔‘

اے ایس پی شہربانو نقوی کو پوڈ کاسٹ کی وجہ سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ فائل فوٹو

حسن ممتاز کی اہلیہ اس وقت اپنی ساس اور پانچ سالہ بیٹی کے ساتھ گھر میں موجود تھیں۔ انہوں نے فون کر کے حسن سے تصدیق کی تو حسن نے انہیں بتایا کہ وہ ادریس کو ڈرائنگ روم میں بٹھا دیں۔
تھانہ ڈیفنس اے میں درج ایف آئی آر میں مزید بتایا گیا ہے کہ ’حسن ممتاز کی اہلیہ نے جب ادریس کو ڈرائنگ روم میں بٹھایا تو وہ اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ اس دوران گھر میں تقریباً 25 سے 30 منٹ تک سب کچھ معمول کے مطابق رہا۔ ادریس احمد ڈرائنگ روم میں بیٹھا رہا۔‘
ایف آئی آر کے مطابق حسن ممتاز کی اہلیہ اوپر اپنے کمرے میں موجود تھیں کہ ادریس اچانک پستول ہاتھ میں تھامے ان کے کمرے میں داخل ہوا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق وقوعہ کے بارے میں حسن ممتاز کی اہلیہ نے بتایا کہ ’ادریس کمرے میں داخل ہوتے ہی گن پوائنٹ پر الماریوں سے قیمتی زیورات، موبائل فون، گھڑیاں اور نقدی اپنے بیگ میں ڈالنے لگا۔ اس کے بعد وہ گن پوائنٹ پر حسن ممتاز کی اہلیہ کو نیچے لے آیا اور اُن کی ساس کے کمرے سے بھی قیمتی اشیا بیگ میں رکھ لیں۔‘
ایف آئی آر میں بلال احمد نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ ’اسی دوران حسن ممتاز گھر پہنچ گئے۔ ملزم ادریس احمد نے حسن ممتاز پر پستول تان لی اور ہاتھا پائی ہونے لگی۔‘
’ملزم نے پستول کے بٹ مار کر حسن کو زخمی کر دیا اور پھر اپنے بیگ سے ہتھوڑی نکال کر اس کے سر پر وار کرنے لگا۔ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے حسن کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔‘

کینٹ ڈویژن کے ایس پی قاضی علی رضا خود نفری کے ساتھ موقع پر پہنچے تھے۔ فائل فوٹو: اے پی پی

اس دوران جب حسن ممتاز کی اہلیہ، والدہ اور بیٹی نے چیخ و پکار شروع کی تو ملزم نے ان پر پستول تان کر کہا کہ ’اگر شور کیا تو تم سب بھی جان سے جاؤ گے۔‘
حکام کے مطابق اس واردات کے بعد ملزم نے لاش کو ایک کمرے میں منتقل کر دیا گیا اور اہل خانہ کو سٹور روم میں رسیوں سے باندھ دیا گیا۔
بعض غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق ملزم خود بھی اسی کمرے میں بیٹھا رہا جبکہ اس نے لاش کو چادر میں لپیٹ دیا تھا۔ اس وقت حسن ممتاز کے رشتہ دار دیوار پھلانک کر اندر داخل ہوئے تو حسن ممتاز کی اہلیہ نے اشاروں سے انہیں موقع کی نزاکت سے آگاہ کیا۔
پولیس حکام کے مطابق رشتہ داروں نے پولیس کو اطلاع دی۔ ترجمان کینٹ ڈویژن پولیس کے مطابق کینٹ ڈویژن کے ایس پی قاضی علی رضا خود ایس ایچ او اور نفری کے ساتھ موقع پر پہنچے۔ فارنزک ٹیم نے شواہد اکٹھے کیے۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈیڈ ہاؤس منتقل کیا گیا اور ملزم کو موقع سے گرفتار کر لیا گیا۔
مدعی بلال احمد نے اس حوالے سے اردو نیوز کے ساتھ مختصر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’پولیس نے تفتیش مکمل کر کے کیس حل کر لیا ہے۔ ہم اس پر مزید کچھ نہیں کہنا چاہتے۔‘
یہ وہ واقعہ تھا جس کی اطلاع ملنے پر اُس وقت ڈیفنس سرکل کی اے ایس پی شہر بانو نقوی پوڈکاسٹ کی ریکارڈنگ ادھوری چھوڑ کر موقع واردات کے لیے روانہ ہوئی تھیں۔

 

شیئر: