بیجنگ میں ٹرمپ اور شی جن پنگ کی اہم ملاقات، چین نے تائیوان پر امریکہ کو خبردار کر دیا
بیجنگ میں ٹرمپ اور شی جن پنگ کی اہم ملاقات، چین نے تائیوان پر امریکہ کو خبردار کر دیا
جمعرات 14 مئی 2026 10:42
چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دو روزہ سربراہی اجلاس کے آغاز پر بتایا کہ تجارتی مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ تائیوان کے مسئلے پر اختلافات تعلقات کو خطرناک راستے پر ڈال سکتے ہیں۔
بیجنگ کے عظیم ہال آف دی پیپل میں شاندار استقبال کے بعد یہ اجلاس شروع ہوا، جسے ٹرمپ نے ممکنہ طور پر ’سب سے بڑا اجلاس‘ قرار دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق شی جن پنگ نے کہا کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان مستحکم تعلقات پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہیں۔
ان کے مطابق ’جب ہم تعاون کرتے ہیں تو دونوں فریق فائدہ اٹھاتے ہیں، اور جب ہم آمنے سامنے ہوتے ہیں تو دونوں نقصان اٹھاتے ہیں۔‘ ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’آپ ایک عظیم رہنما ہیں، اور کچھ لوگ پسند نہیں کرتے کہ میں یہ کہوں، لیکن میں پھر بھی کہتا ہوں۔‘
چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق جنوبی کوریا میں امریکی اور چینی اقتصادی ٹیموں کے درمیان مذاکرات مثبت نتائج کے ساتھ اختتام پذیر ہوئے۔ ان مذاکرات کا مقصد گزشتہ اکتوبر میں طے پانے والے تجارتی جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور مستقبل کے سرمایہ کاری و تجارت کے لیے نظام وضع کرنا تھا۔
تائیوان کا حساس مسئلہ
شی جن پنگ نے واضح کیا کہ تائیوان امریکہ چین تعلقات کا سب سے اہم مسئلہ ہے اور اگر اسے غلط طریقے سے سنبھالا گیا تو یہ تنازع اور خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔ امریکہ تائیوان کو اسلحہ فراہم کرتا ہے، جبکہ چین اسے اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے۔
دیگر موضوعات پر تبادلہ خیال
اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ، یوکرین اور کوریائی جزیرہ نما کی صورتحال پر بھی بات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے زراعت اور تجارت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ ٹرمپ کے ساتھ اس دورے میں ایلون مسک اور این ویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ سمیت کئی امریکی کاروباری شخصیات بھی شریک ہیں، جو چین کے ساتھ مسائل حل کرنے کے خواہاں ہیں۔ ٹرمپ نے شی جن پنگ سے کہا کہ چین کو امریکی صنعت کے لیے مزید کھولنا چاہیے۔
امریکہ چاہتا ہے کہ چین بوئنگ طیارے، زرعی اجناس اور توانائی خریدے تاکہ تجارتی خسارہ کم ہو (فوٹو: اے ایف پی)
طاقت کا بدلتا توازن
ماہرین کے مطابق طاقت کا توازن اب بدل چکا ہے۔ 2017 میں چین نے ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے اربوں ڈالر کا امریکی سامان خریدا تھا، لیکن اب حالات مختلف ہیں۔ ایران جنگ نے امریکی معیشت پر دباؤ بڑھایا ہے، مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، اور ٹرمپ کی سیاسی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔ دوسری طرف، اگرچہ چینی معیشت مشکلات کا شکار ہے، لیکن شی جن پنگ کو داخلی سطح پر اتنا دباؤ نہیں ہے۔
تجارتی ترجیحات
امریکہ چاہتا ہے کہ چین بوئنگ طیارے، زرعی اجناس اور توانائی خریدے تاکہ تجارتی خسارہ کم ہو۔ چین کی خواہش ہے کہ امریکہ سیمی کنڈکٹرز اور جدید ٹیکنالوجی پر پابندیاں نرم کرے۔ دونوں ممالک مصنوعی ذہانت اور سرمایہ کاری پر بھی بات چیت کر رہے ہیں۔
ایران اور تائیوان پر زور
ٹرمپ چاہتے ہیں کہ چین ایران کو واشنگٹن کے ساتھ معاہدے پر آمادہ کرے، لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہوگا کیونکہ ایران امریکہ کے خلاف ایک اہم تزویراتی ساتھی ہے۔ دوسری طرف چین نے امریکہ کی جانب سے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کی شدید مخالفت کی ہے۔