Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فیول کی قلت اور پاکستانی فضائی حدود کی بندش، ایئر انڈیا نے بین الاقوامی پروازیں کم کر دیں

ایئر انڈیا نے دہلی شکاگو اور ممبئی نیویارک روٹس پر پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں (فوٹو: ایئر انڈیا)
ایئر انڈیا نے اعلان کیا ہے کہ جون سے اگست کے درمیان کئی بین الاقوامی روٹس پر پروازیں عارضی طور پر کم کی جائیں گی۔ اس کی وجہ کچھ علاقوں میں فضائی حدود کی پابندیاں اور جیٹ فیول کی ریکارڈ بلند قیمتیں بتائی گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران جنگ کے باعث فضائی حدود بند ہو گئی ہیں، پروازوں کو طویل راستوں پر موڑنا پڑ رہا ہے اور عالمی ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس نے دنیا بھر کی ایئر لائنز پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
ایئر انڈیا، جس میں تقریباً 25 فیصد حصہ سنگاپور ایئر لائنز کا ہے جبکہ باقی ٹاٹا سنز کے پاس ہے، بڑھتے ہوئے نقصانات اور آپریشنل مسائل سے دوچار ہے۔ یہ مسائل پاکستان کی فضائی حدود پر پابندی کے اثرات کو مزید بڑھا رہے ہیں۔
اسلام آباد نے گزشتہ سال سرحدی کشیدگی کے دوران انڈین ایئر لائنز پر اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں۔
نیوزی لینڈ کے کیمبل ولسن نے اپریل میں ایئر انڈیا کے سی ای او کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ سنگاپور ایئر لائنز کے ایگزیکٹو ونود کنن اور ایئر انڈیا کے کمرشل ہیڈ نیپن اگروال کو ان کے جانشین کے طور پر مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔
ایئر انڈیا نے دہلی شکاگو اور ممبئی نیویارک روٹس پر پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔ یورپ میں دہلی سے پیرس، میلان اور روم کے لیے پروازوں کی تعداد کم کی جائے گی۔ ایشیا میں دہلی شنگھائی روٹ معطل کر دیا گیا ہے۔
ایئر لائن نے کہا ہے کہ وہ ہر ماہ 12 سو سے زائد بین الاقوامی پروازیں جاری رکھے گی اور حالات بہتر ہونے پر مکمل آپریشن بحال کرنے کی کوشش کرے گی۔ تاہم، اگر رکاوٹیں برقرار رہیں تو مزید تبدیلیاں بھی ممکن ہیں۔

 

شیئر: