Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پشاور اور کوئٹہ کو بھی ’روٹ ٹو مکہ‘ پروجیکٹ میں شامل کرائیں گے: وزیرِ مذہبی امور

پاکستان کے وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کا کہنا ہے کہ ’حج 2026 کے لیے اب تک 70 ہزار پاکستانی عازمین سعودی عرب پہنچ چکے ہیں اور 22 مئی تک حج فلائٹ آپریشن مکمل کر لیا جائے گا۔‘ 
اردو نیوز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں سردار محمد یوسف کا کہنا تھا کہ اس وقت لگ بھگ چار ہزار عازمین مدینہ میں قیام پذیر ہیں جبکہ باقی مکہ پہنچ چکے ہیں۔ 
انہوں نے واضح کیا کہ حج پروازوں کا سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے اور عازمین کی رہنمائی و سہولت کے لیے پاکستانی معاونین، خدام اور میڈیکل مشن کے عملے نے بھی اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ 
سردار محمد یوسف کے مطابق پاکستان نے اس مرتبہ حج کا اپنا مکمل کوٹہ حاصل کیا ہے، جس کے تحت ایک لاکھ 79 ہزار 210 پاکستانی فریضہ حج ادا کر رہے ہیں۔
’اس میں قریباً ایک لاکھ 20 ہزار عازمین سرکاری سکیم جبکہ باقی نجی ٹور آپریٹرز کے ذریعے حجازِ مقدس پہنچ رہے ہیں۔‘ 
پاکستان کے وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا کہ ’حج آپریشن کے آغاز میں زیادہ تر پروازیں مدینہ پہنچیں جہاں سے عازمین بسوں کے ذریعے مکہ پہنچے، تاہم اب آنے والی اکثر فلائٹس جدہ پہنچیں گی اور حجاج وہاں سے مکہ منتقل ہوں گے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’جو عازمین حج سے قبل مدینہ پہنچ چکے ہیں ان کی واپسی حج کے بعد جدہ سے ہوگی جبکہ جو حجاج مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد مدینہ جائیں گے، ان کی واپسی کی پروازیں مدینہ سے ہی روانہ ہوں گی۔‘ 
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ برس حج کے فوری بعد رجسٹریشن کا عمل شروع کیا گیا تھا جس میں چار لاکھ افراد نے درخواستیں دیں، تاہم ’پہلے آئیے، پہلے پائیے‘ کی پالیسی کے تحت میرٹ پر کوٹہ مکمل کیا گیا۔  
’پاکستانی عامین حج کو مکمل سہولیات فراہم کر رہے ہیں‘
عازمین کو فراہم کردہ سہولیات پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ’مختلف مقامات پر معیاری رہائش گاہوں کا انتظام کیا گیا ہے اور حکومت کی پوری کوشش ہے کہ ان کی تمام ضروریات کا خیال رکھا جائے۔‘  

سردار یوسف نے بتایا کہ ’رواں برس ایک لاکھ 79 ہزار 210 پاکستانی فریضہ حج ادا کر رہے ہیں‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے بتایا کہ ’ہم نے تجربہ کار عملے کو ذمہ داریاں دی ہیں تاکہ وہ عازمین کی مکمل معاونت کر سکیں۔‘
’عازمین ایئرپورٹ پر اُتر کر سیدھا بسوں کے ذریعے اپنی رہائش گاہوں پر منتقل ہو جاتے ہیں، جبکہ ان کا سامان براہِ راست اُن کے کمروں تک پہنچانے کی ذمہ داری ہم نے خود لی ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’حجاج کی سہولت کے لیے ایک خصوصی موبائل ایپ تیار کر کے مختلف سیکٹرز میں ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں جو کسی بھی شکایت یا راستہ بھٹکنے کی صورت میں فوری مدد فراہم کرتی ہیں۔ 
’معاونین حجاج کی خدمت میں مصروف ہیں‘ 
وزیر مذہبی امور نے جدہ ایئرپورٹ پر تعینات ایک پاکستانی معاون کی کارکردگی کو سراہا جس نے ایک پاکستانی خاتون عازمِ حج کے گم شدہ ریال دو دن کی ’انتھک محنت‘ کے بعد تلاش کر کے انہیں واپس کیے۔  
وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کا کہنا تھا کہ حکومت ایسے دیانت دار معاونین کی قدر کرتی ہے اور وطن واپسی پر انہیں خصوصی طور پر نوازا جائے گا۔

وزیر مذہبی امور کا کہنا ہے کہ ’پہلے آئیے، پہلے پائیے‘ کی پالیسی کے تحت میرٹ پر عازمین کا کوٹہ مکمل کیا گیا‘ (فائل فوٹو: ایس پی اے)

’رُوٹ ٹو مکہ منصوبے سے پاکستانی عازمین مستفید ہو رہے ہیں‘
سعودی حکومت کے 'رُوٹ ٹو مکہ' پروجیکٹ کی تعریف کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ ’رواں سال اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے اس منصوبے کے تحت پروازیں روانہ ہو رہی ہیں، جس سے پاکستان کے 80 فیصد حجاج مستفید ہو رہے ہیں۔‘  
انہوں نے اس منصوبے کے فوائد بتاتے ہوئے کہا کہ ’عازمین کی امیگریشن اور کلیئرنس پاکستان میں ہی مکمل ہو جاتی ہے، جس کے باعث انہیں سعودی ایئرپورٹس پر طویل انتظار نہیں کرنا پڑتا۔‘ 
پشاور اور کوئٹہ کو بھی ’رُوٹ ٹو مکہ‘ میں شامل کرنے کے حوالے سے اُنہوں نے بتایا کہ ان شہروں کو بھی اس منصوبے میں شامل کرنے کے لیے سعودی حکام سے بات چیت جاری ہے تاکہ یہاں کے شہریوں کو بھی یہ سہولت میسر آسکے۔ 
’سعودی عرب مثالی برادر ملک‘
وفاقی وزیر نے سعودی حکومت کی جانب سے کیے گئے مجموعی انتظامات پر شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان سعودی تعلقات کو ’مثالی اور برادرانہ‘ قرار دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’دونوں ممالک کے تعلقات ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہو رہے ہیں۔‘ 
سردار محمد یوسف نے موجودہ علاقائی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا اہم کردار ادا کر رہا ہے، جس میں ہمیں سعودی عرب کی بھی بھرپور حمایت حاصل ہے۔
 

شیئر: