’پنکی کیس‘ سینیٹ میں پہنچ گیا، ’ملزمہ کے ساتھ رابطے میں رہنے والوں کے نام سامنے لائیں‘
کراچی میں منشیات سپلائی کے وائرل ہونے والے ’پنکی کیس‘ کا معاملہ اب سینیٹ تک پہنچ گیا ہے، جس پر قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے انسدادِ منشیات کے ادارے اے این ایف کو طلب کر لیا ہے۔
بدھ کو سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی زیرصدارت قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس ہوا جس قائمہ کمیٹی نے ان تمام ’وی آئی پی‘ صارفین کی فہرست مانگ لی ہے جنہیں ملزمہ منشیات فراہم کرتی رہی تھی۔
منشیات کس کس کو سپلائی کی جا رہی تھی؟
کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قانون نافظ کرنے والے اداروں ہدایت دی کہ وہ تمام ججز، بیوروکریٹس اور سیاست دانوں کے نام سامنے لائیں جن کے تعلقات ملزمہ کے ساتھ بتائے جا رہے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’کراچی سے وائرل ہونے والی خبروں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ نیٹ ورک کتنا وسیع ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ میں یہ یقینی بناؤں گا کہ جس جس نے اس خاتون سے منشیات خریدیں، انہیں بحالی مراکز بھیجا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر میرے پاس اختیار ہوتا تو میں انمول کو ضمانت دینے والے جج کا بھی میڈیکل ٹیسٹ کرواتا کہ وہ کس ذہنی حالت میں ایسے فیصلے کر رہے ہیں۔‘
سینیٹر فیصل سلیم نے خود کو سب سے پہلے ’ڈرگ ٹیسٹ‘ کے لیے پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس نظام کی صفائی خود سے شروع کرنا چاہتے ہیں۔
اس دوران سینیٹر ثمینہ زہری نے بھی انمول عرف پنکی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’سوشل میڈیا پر دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ مجرمہ کس دھڑلے سے عدالت جا رہی ہے، ایسا لگتا ہے کہ قانون صرف کمزور کے لیے ہے۔‘
اجلاس کے دوران سینیٹر عابد شیر علی نے جب اسلام آباد میں جرائم کی شرح پر سوال اٹھایا، تو وزیرِ مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اب بھی دیگر شہروں کی نسبت زیادہ محفوظ ہے۔ انہوں نے مانا کہ بڑھتی آبادی کی وجہ سے مسائل بڑھے ہیں، جن پر ’سمارٹ سٹی‘ منصوبے کے ذریعے قابو پایا جا رہا ہے۔
وزیرِ مملکت نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ’جب ہم دوسرے ملکوں سے معاہدے کرنے کی بات کرتے ہیں تو وہ ہم سے پاسپورٹس کی تعداد اور ان کے غلط استعمال پر سوال اٹھاتے ہیں۔‘
وزارتِ داخلہ نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ پی ٹی آئی کے ایک سابق رکنِ پارلیمنٹ کے بیٹے کی جانب سے بلیو پاسپورٹ پر اٹلی میں سیاسی پناہ لینے کے واقعے نے ملک کی سُبکی کی ہے، جس کے بعد اب آفیشل پاسپورٹس کے اجرا کے قواعد انتہائی سخت کر دیے گئے ہیں۔
قائمہ کمیٹی اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ آفیشل (بلیو) پاسپورٹ کے غلط استعمال کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی سُبکی ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے اب ڈپلومیٹک اور بلیو پاسپورٹس کے اجرا میں سخت قواعد لاگو کر دیے ہیں اور ان کی تعداد میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے۔ اب یہ پاسپورٹ صرف انتہائی ضرورت کے تحت ہی جاری کیے جائیں گے۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ تحریکِ انصاف کے رکنِ اسمبلی اقبال آفریدی کا بیٹا بلیو پاسپورٹ پر اٹلی گیا اور وہاں جا کر سیاسی پناہ (اسائلم) لے لی۔ طلال چوہدری کے مطابق یہ اطلاع سفارتی ذرائع سے پاکستان تک پہنچی، جو کہ ملک کے لیے شدید بدنامی کا باعث بنی۔